لاہور (ڈیجیٹل پوسٹ) اے اے ایس اِن ایشیا 2026 لمز میں اختتام پذیر، 37 ممالک سے ایک ہزار سے زائد اسکالرز کی شرکت
Share
لاہور(ڈیجیٹل پوسٹ): لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں تین روزہ بین الاقوامی علمی کانفرنس اے اے ایس اِن ایشیا 2026 اتوار کو اختتام پذیر ہوگئی، کانفرنس میں 37 سے زائد ممالک کے517 اداروں سے وابستہ سکالرز، طلبہ، جامعات کے رہنماؤں اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
”ایشیا کو مرکز میں رکھتے ہوئے: نئے تعلقات اور مستقبل کی تشکیل“ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں 517 اداروں سے وابستہ اسکالرز، محققین اور ماہرین شریک ہوئے، جن میں پیکنگ یونیورسٹی، سنگھوا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹوکیو، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور، نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور ییل یونیورسٹی سمیت دنیا کی معروف جامعات شامل تھیں۔
اے اے ایس اِن ایشیا اس سے قبل جنوبی کوریا، انڈونیشیا، نیپال، جاپان، بھارت اور تھائی لینڈ میں منعقد ہوچکی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار منعقد ہونے والی اے اے ایس اِن ایشیا کانفرنس نے لاہور میں تین روز تک بین الاقوامی علمی برادری کو علمی اور ثقافتی تبادلے کا موقع فراہم کیا۔
کانفرنس کے دوران لمز میں مختلف موضوعات پر پینل سیشنز، کانفرنس سے قبل ورکشاپس، راؤنڈ ٹیبل نشستیں، اوپن ہاؤسز، نمائشیں اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوئے۔ کانفرنس کے سیشنز میں ایشیا کی سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلیوں، تنازعات و تعاون، جمہوری عمل، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، ماحولیات، شہری ترقی، خواتین اور معاشرے میں نظرانداز کیے جانے والے طبقات، ثقافت، فن اور علم سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
کانفرنس میں ایشیا کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں کے عالمی مباحث پر اثرات کے ساتھ سرحدی تنازعات، متنازع خودمختاری، شہری علاقوں،موسمیاتی تبدیلی، نقل مکانی، عدم مساوات اور سماجی انصاف جیسے مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔ ادب، فن، پرفارمنس، ثقافتی ورثے اور روزمرہ ثقافتی طریقوں کے ذریعے ایشیائی شناختوں کی تشکیل اور باہمی روابط و مکالمے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ اور ایسوسی ایشن فار ایشین اسٹڈیز کی صدر پروفیسر ایلورا شہاب الدین نے خیرمقدمی خطابات کیے۔
شرکا کا لمز میں خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر علی چیمہ نے مختلف نقطہ ہائے نظر کو ایک جگہ جمع کرنے اور ایشیا اور دنیا سے متعلق وسیع تر مباحث میں پاکستان کی شرکت کی اہمیت اجاگر کی۔
ڈاکٹر علی چیمہ نے کہا، ”ہمیں 37 ممالک اور 517 اداروں سے ایک ہزار سے زائد اسکالرز، طلبہ، جامعات کے سربراہان اور دیگر افراد کی میزبانی کرتے ہوئے خوشی ہے۔ پاکستان کو ایشیا اور دنیا سے متعلق گفتگو کا فعال حصہ ہونا چاہیے۔“انہوں نے کہا کہ اے اے ایس اِن ایشیا کی میزبانی لمز اور پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے بین الاقوامی اسکالرز کو پاکستان کے علمی اور ثقافتی منظرنامے سے واقف ہونے اور لاہور کی تاریخ کو سمجھنے کا موقع ملا، جو صدیوں سے ادب، فن اور فکری تبادلے کا مرکز رہا ہے۔
ایسوسی ایشن فار ایشین اسٹڈیز کی صدر پروفیسر ایلورا شہاب الدین نے کہا، ”اے اے ایس اِن ایشیا کی ہر نشست ہمیں جدید تحقیق سے مکالمے اور نئے دوستوں اور معاونین سے تعارف کے ذریعے علمی طورپر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہے۔ لاہور میں ہونے والی یہ کانفرنس خاص طور پر اہم رہی، کیونکہ اس کے ذریعے اے اے ایس سے وابستہ سکالرزکو ایسے شہر میں آنے کا موقع ملا جو صدیوں سے مختلف گروہوں کے لیے سیاسی اور ثقافتی مرکز اور عالمی روابط میں ایک اہم مقام رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ ملاقاتیں نئی تحقیقی شراکت داریوں اور دوستیوں کو فروغ دیں گی اور ایشیا کے بارے میں اور ایشیا سے حاصل ہونے والے ہمارے اجتماعی علم کو مزید گہرا کریں گی۔“
ڈاکٹر عادل نجم، صدر ڈبلیو ڈبلیو ایف انٹرنیشنل، نے موسمیاتی تبدیلی پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو اب محض ماحولیاتی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ ایشیا اور جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ”موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کے دور“ اور پانی، خوراک، سلامتی، ترقی، طرزِ حکمرانی اور سماجی انصاف پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے دوران علمی نشستوں کے ساتھ مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ خصوصی خطاطی ورکشاپ ”دی کن ٹیمپلیٹو آرٹس: اے اسٹوڈیو سیریز“میں شرکا کو خطے کی فنکارانہ روایات سے آگاہ ہونے اور ان سے عملی طور پر جڑنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
کانفرنس میں ثقافتی پرفارمنسز، نمائشوں اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے لاہور کے ثقافتی ورثے، دستکاری، کھانوں، موسیقی اور فنون کو اجاگر کیا گیا۔ کیمپس میں قائم ثقافتی مرکزنے بین الاقوامی شرکا کو لاہور کے ثقافتی پہلوؤں سے واقف ہونے اور مقامی برادریوں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد سے رابطے کا موقع فراہم کیا۔ اتوار کو ہونے والی اختتامی تقریب کا آغاز ثقافتی پروگرام سے ہوا، جس میں ایشیا کی مختلف رقص کی روایات کو یکجا کرتے ہوئے خطے کے متنوع فنون اور ثقافتی اظہار کو پیش کیا گیا۔

