LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ہدایت پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی بڑی کارروائی — آبپارہ اسلام آباد میں چھاپہ، جعلی اپوسٹل اسٹیکرز اور وزارتِ خارجہ افسران کی ملی بھگت سے چلنے والا فراڈ نیٹ ورک بے نقاب — 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 48/2026 درج

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ): ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل (اے سی سی) اسلام آباد نے قابلِ اعتماد ذرائع کی بنیاد پر ایف اینڈ ایف پلازہ، آبپارہ، اسلام آباد کے بیسمنٹ میں واقع متعدد کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر پر چھاپہ مارا اور جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے گھناؤنے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 48/2026 بموجب دفعات 420، 468، 471 اور 109 پی پی سی بمع 5(2) پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 درج کر لیا ہے۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ درج ذیل کنسلٹنسی اور کورئیر اداروں کے مالکان اور ملازمین اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث تھے: سوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کورئیر سروس (ECS)، لیوپرڈ کورئیر سروسز (ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ)، RAAK کنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، GM کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس — کل 16 نجی ملزمان۔ علاوہ ازیں وزارتِ خارجہ (MOFA) کے 6 افسران بشمول اے ڈی/اے پی ایس اٹیسٹیشن، انچارج اپوسٹل اور دیگر اہلکار بھی اس نیٹ ورک میں شامل پائے گئے۔

ملزمان اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کو تیز کروانے کے نام پر درخواست گزاروں سے بھاری رقوم وصول کرتے تھے اور اس میں وزارتِ خارجہ کے افسران کو رشوت دی جاتی تھی۔ جعلی اپوسٹل اسٹیکرز پورے پاکستان میں مختلف مقامات پر گردش میں تھے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

متعلقہ عدالت نے گرفتار ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش انسپکٹر ارسلان مسعود خان انجام دیں گے۔

یہ کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل کی زیر نگرانی انسپکٹر ارسلان مسعود خان، انسپکٹر حنا رباب ہاشمی، سب انسپکٹر تابش جاوید، سب انسپکٹر فرحین مرتضیٰ، سب انسپکٹر شہریار، اے ایس آئی صفیر کیانی، اے ایس آئی وقاص، اے ایس آئی سہیل طارق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد عزیر پر مشتمل ٹیم نے انجام دی۔

ایف آئی اے اسلام آباد زون کا عزم ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور جعلسازی میں ملوث عناصر کو — چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری — قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »