LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکہ ایران جنگ اور پاکستان کا نازک کردار

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) عالمی منظرنامے پر مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے ہی عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی کا مرکز رہا ہے، لیکن موجودہ سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست فوجی تصادم نے خطے کو ایک ہولناک اور وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے جہاں پوری دنیا کی معیشت اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا، وہاں پاکستان کو اپنی تاریخ کے سب سے نازک تزویراتی اور سفارتی امتحان کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بحران کسی آگ کے دریا کو عبور کرنے سے کم نہیں، جہاں ایک طرف برادر اسلامی پڑوسی ملک ایران ہے اور دوسری طرف طویل المدتی معاشی و دفاعی شراکت دار امریکہ کھڑا ہے۔بحران کا پس منظراس جنگ کا باقاعدہ آغاز فروری 2026 کے اواخر میں ہوا جب امریکی افواج نے ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے اہم عسکری اور سیاسی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات، سفارت خانوں اور تجارتی جہازوں پر سیکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملے کیے۔ تہران میں کمانڈ کی فوری منتقلی اور جوابی کارروائیوں نے واشنگٹن کو حیران کر دیا اور یہ تصادم دیکھتے ہی دیکھتے ایک باقاعدہ جنگی صورتحال اختیار کر گیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی اور ایندھن کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ تھی کیونکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ ایران میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر بلوچستان کی سکیورٹی پر پڑتا ہے۔
پاکستان نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اہم تزویراتی اور دفاعی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان آئی ایم ایف (IMF) پروگرام اور معاشی بقا کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا پاکستان کو داخلی یا خارجی طور پر بڑی تباہی سے دوچار کر سکتا تھا۔اسلام آباد کی سفارت کاریماضی کی روایتی غیر جانبداری سے ہٹ کر، پاکستان نے اس بحران میں فرنٹ فٹ پر آ کر ایک فعال اور جرات مندانہ “سوئچ بورڈ ڈپلومیسی” کا آغاز کیا۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے واشنگٹن اور تہران کے مابین خفیہ اور اعلانیہ بیک چینل سفارت کاری کو متحرک کیا۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کی مخلصانہ کوششوں کے باعث اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ اس اہم ترین ثالثی کے نتیجے میں پہلے اپریل 2026 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، اور بعد ازاں جون 2026 میں فریقین کے مابین ایک تاریخی یادداشتِ تفاہم پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عارضی طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔ عالمی مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔چین اور روس کا کردارامریکہ ایران جنگ میں چین اور روس کا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا، بلکہ دونوں سپر پاورز نے تہران کے پیچھے ایک مضبوط تزویراتی ڈھال فراہم کی ہے۔ چین، جو اپنی 60 فیصد سے زائد توانائی کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتا ہے، نے امریکہ کے حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ چین نے ایران کو اہم مواصلاتی اور سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کیا، جس کی مدد سے ایرانی افواج امریکی فضائی حملوں کا قبل از وقت پتا لگانے میں کامیاب رہیں۔دوسری جانب، روس نے اس بحران میں تہران کا بھرپور دفاعی ساتھ دیا۔ ماسکو نے بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام اور اینٹی شپ کروز میزائلوں کی سپلائی تیز کر دی۔ بیجنگ اور ماسکو کا یہ گٹھ جوڑ جہاں ایران کو امریکی ناکہ بندی کے خلاف کھڑے رہنے کا حوصلہ دے رہا ہے، وہاں اس نے واشنگٹن کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں یکطرفہ فتح کو ناممکن بنا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی سازگار رہی کیونکہ چین پاکستان کا سب سے قریبی معاشی شراکت دار (CPEC کا ضامن) ہے، اور چین روس بلاک کا جھکاؤ پاکستان کی غیر جانبدارانہ ثالثی کی کوششوں کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے۔موجودہ چیلنجزاگرچہ پاکستان کی سفارت کاری نے دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا تھا، لیکن یہ امن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی 2026 کے آغاز میں آبنائے ہرمز پر بالادستی قائم کرنے کی دوبارہ کوششوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد، امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق، امریکہ نے دوبارہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ایرانی شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے خطے میں امریکی بحری بیڑے کے کمانڈ سینٹرز پر میزائل داغ دیے ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس بحران کا واحد حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں اور پاکستان دوبارہ فریقین کو میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جولائی 2026 میں دوبارہ بھڑکنے والی یہ آگ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑی طاقت کا آلہ کار بننے کے بجائے ایک آزاد اور بااثر “امن قائم کرنے والے” ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ تاہم، معاہدے کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال میں پاکستان کو انتہائی ہوشیاری, دور اندیشی اور متوازن پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا تاکہ وہ اپنی معیشت اور سکیورٹی کو محفوظ رکھتے ہوئے عالمی امن میں اپنا یہ تاریخی کردار برقرار رکھ سکے۔اس کے علاوہ عالمی منظرنامے پر مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے ہی عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی کا مرکز رہا ہے، لیکن موجودہ سال 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے براہِ راست فوجی تصادم نے خطے کو ایک ہولناک اور وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے جہاں پوری دنیا کی معیشت اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا، وہاں پاکستان کو اپنی تاریخ کے سب سے نازک تزویراتی اور سفارتی امتحان کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بحران کسی آگ کے دریا کو عبور کرنے سے کم نہیں، جہاں ایک طرف برادر اسلامی پڑوسی ملک ایران ہے اور دوسری طرف طویل المدتی معاشی و دفاعی شراکت دار امریکہ کھڑا ہے۔بحران کا پس منظراس جنگ کا باقاعدہ آغاز فروری 2026 کے اواخر میں ہوا جب امریکی افواج نے ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے اہم عسکری اور سیاسی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات، سفارت خانوں اور تجارتی جہازوں پر سیکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی حملے کیے۔ تہران میں کمانڈ کی فوری منتقلی اور جوابی کارروائیوں نے واشنگٹن کو حیران کر دیا اور یہ تصادم دیکھتے ہی دیکھتے ایک باقاعدہ جنگی صورتحال اختیار کر گیا۔ اس تصادم کے نتیجے میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو گئی، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی اور ایندھن کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ تھی کیونکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ ایران میں عدم استحکام کا براہِ راست اثر بلوچستان کی سکیورٹی پر پڑتا ہے۔
پاکستان نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اہم تزویراتی اور دفاعی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، پاکستان آئی ایم ایف (IMF) پروگرام اور معاشی بقا کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا پاکستان کو داخلی یا خارجی طور پر بڑی تباہی سے دوچار کر سکتا تھا۔اسلام آباد کی سفارت کاریماضی کی روایتی غیر جانبداری سے ہٹ کر، پاکستان نے اس بحران میں فرنٹ فٹ پر آ کر ایک فعال اور جرات مندانہ “سوئچ بورڈ ڈپلومیسی” کا آغاز کیا۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت نے واشنگٹن اور تہران کے مابین خفیہ اور اعلانیہ بیک چینل سفارت کاری کو متحرک کیا۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کی مخلصانہ کوششوں کے باعث اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ اس اہم ترین ثالثی کے نتیجے میں پہلے اپریل 2026 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، اور بعد ازاں جون 2026 میں فریقین کے مابین ایک تاریخی یادداشتِ تفاہم پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عارضی طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔ عالمی مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔چین اور روس کا کردارامریکہ ایران جنگ میں چین اور روس کا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا، بلکہ دونوں سپر پاورز نے تہران کے پیچھے ایک مضبوط تزویراتی ڈھال فراہم کی ہے۔ چین، جو اپنی 60 فیصد سے زائد توانائی کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتا ہے، نے امریکہ کے حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ چین نے ایران کو اہم مواصلاتی اور سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کیا، جس کی مدد سے ایرانی افواج امریکی فضائی حملوں کا قبل از وقت پتا لگانے میں کامیاب رہیں۔دوسری جانب، روس نے اس بحران میں تہران کا بھرپور دفاعی ساتھ دیا۔ ماسکو نے بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام اور اینٹی شپ کروز میزائلوں کی سپلائی تیز کر دی۔ بیجنگ اور ماسکو کا یہ گٹھ جوڑ جہاں ایران کو امریکی ناکہ بندی کے خلاف کھڑے رہنے کا حوصلہ دے رہا ہے، وہاں اس نے واشنگٹن کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں یکطرفہ فتح کو ناممکن بنا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی سازگار رہی کیونکہ چین پاکستان کا سب سے قریبی معاشی شراکت دار (CPEC کا ضامن) ہے، اور چین روس بلاک کا جھکاؤ پاکستان کی غیر جانبدارانہ ثالثی کی کوششوں کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے۔موجودہ چیلنجزاگرچہ پاکستان کی سفارت کاری نے دنیا کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا تھا، لیکن یہ امن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ جولائی 2026 کے آغاز میں آبنائے ہرمز پر بالادستی قائم کرنے کی دوبارہ کوششوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد، امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق، امریکہ نے دوبارہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ایرانی شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ دوسری طرف، ایران نے خطے میں امریکی بحری بیڑے کے کمانڈ سینٹرز پر میزائل داغ دیے ہیں۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس بحران کا واحد حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں اور پاکستان دوبارہ فریقین کو میز پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جولائی 2026 میں دوبارہ بھڑکنے والی یہ آگ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑی طاقت کا آلہ کار بننے کے بجائے ایک آزاد اور بااثر “امن قائم کرنے والے” ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ تاہم، معاہدے کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال میں پاکستان کو انتہائی ہوشیاری, دور اندیشی اور متوازن پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا تاکہ وہ اپنی معیشت اور سکیورٹی کو محفوظ رکھتے ہوئے عالمی امن میں اپنا یہ تاریخی کردار برقرار رکھ سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »