LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) نوجوانوں کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی وقت کی ضرورت قرار

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق، ملک کے نوے فیصد سے زائد نوجوان افرادی قوت کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ترین ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا پاکستان کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا دیکھنا ہے تو نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے مانوس کرانا ہوگا، ایسے مواقع دینا ہوں گے، ذہنی و جسمانی سستی کی بجائے صحت مندانہ مشاغل کو اپنانا ہوگاقومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو آرام کے وقت میں سے بھی اپنا وقت کام کو دیں، اور بدلتے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں رواں سال نوجوانوں کی مہارتوں کے عالمی دن کا موضوع “مشترکہ مستقبل کے لیے مہارتیں” اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پائیدار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر جدید مہارتوں سے لیس نوجوانوں ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ سی پیک فیز ٹو کے تحت پاک-چین حالیہ آئی سی ٹی اور بی ٹو بی (B2B) فورمز نے ثابت کیا ہے کہ عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے ڈیجیٹلائزیشن ہی واحد راستہ ہے۔نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومتی اور نجی سطح پر اسٹریٹجک اقدامات پر کام جاری ہے ملک بھر کی یونیورسٹیز اور آئی ٹی سینٹرز میں چینی جامعات کے تعاون سے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کے ایڈوانسڈ ڈپلومہ پروگرامز کا آغاز۔ ہانگژو آئی سی ٹی فورم کی طرز پر نوجوان آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز کے لیے براہ راست چینی کمپنیوں کے ساتھ ڈیجیٹل انٹرن شپس اور منصوبوں کے مواقع۔ نوجوانوں کو بین الاقوامی ڈیجیٹل مارکیٹس جیسے علی بابا اور ایمیزون پر مقامی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے جدید ترین مارکیٹنگ ٹولز کی تربیت ممکن ہے
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لہٰذا انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو علم، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نوجوانوں کی مہارتوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 15 جولائی کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ کہا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور تخلیق کا دور ہے، اس لیے نوجوانوں کو ان شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں , پاکستانی نوجوان ملک کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب گامزن کرنے اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسپیکر نے حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو فنی، پیشہ ورانہ اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، فنی تربیتی مراکز، صنعتوں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پارلیمان نوجوانوں میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، جدید مہارتوں، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے مؤثر قانون سازی کے لیے پرعزم ہے قومی اسمبلی کا ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوانوں میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مختلف تربیتی ورکشاپس اور آگاہی پروگراموں کے ذریعے فعال کردار ادا کر رہا ہے ہنرمند، باصلاحیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی پاکستان کو پائیدار ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ جدید دنیا میں کامیابی کا انحصار محض تعلیمی اسناد پر نہیں بلکہ عملی، فنی اور جدید مہارتوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی اور معاشی خوشحالی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔
برآمدات نوجوانوں کو جدید اسکلز دے کر پاکستان کے آئی ٹی ایکسپورٹس کو چند برسوں میں اربوں ڈالر تک لے جانا۔مقامی سمارٹ مینوفیکچرنگس مارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور لیتھیم آئن بیٹریاں اسمبل کرنے کے لیے مقامی ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی۔فنانشل ٹیکنالوجی (Fintech)ملکی معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے محفوظ ای-پیمنٹ سسٹمز اور کلاؤڈ سیکیورٹی کا قیام۔ایس آئی ایف سی (SIFC) اور بی او آئی (BOI) کا مربوط وژنبورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI) اور ایس آئی ایف سی (SIFC) کے حالیہ انضمام کے بعد اب ایک جامع ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے اندر ہائی ٹیک آئی ٹی پارکس قائم کرنا ہے جہاں نوجوانوں کو جدید ترین آر اینڈ ڈی (R&D) لیبارٹریز، تیز ترین انٹرنیٹ انفراسٹرکچر، اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ایک ہی چھت تلے فراہم کیے جائیں گے۔نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا واقعی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے! اس سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ روزگار کے بہترین مواقع بھی ملتے ہیں نوجوانوں کو کوڈنگ ، ویب ڈویلپمنٹ، اور گرافک ڈیزائننگ جیسے ہنر سکھائے جائیں۔ یہ مہارتیں انہیں گھر بیٹھے بین الاقوامی سطح پر کمانے کے قابل بناتی ہیں۔ آج کے دور میں اے آئی (AI) کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو پڑھائی ہیں نوجوانوں کو آن لائن سٹور بنانے اور اپنے ہنر کو دنیا بھر میں بیچنے کی تربیت دی جائے جیسے کہ DigiSkills پروگرام کے ذریعے پاکستان میں نوجوان مفت کورسز سیکھ رہے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی عملی تعلیم پر زور دیا جائے تاکہ وہ عملی مسائل حل کر سکیں۔ان مہارتوں کو سیکھ کر نوجوان اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور ملکی معیشت میں بھی بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
پاکستان کی نوجوان آبادی سب سے قیمتی سرمایہ ہے، انہیں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترجیح ہے۔حکومتِ پاکستان نے مالی سال 27 ۔ 2026 کے بجٹ میں نوجوانوں کی ترقی اور تعلیمی بہتری کی خاطر وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے لئے 40.58 ارب روپے اور دانش سکولز نیٹ ورک کی توسیع کے لئے 24.48 ارب روپے مختص کئے ہیں، یہ سرمایہ کاری ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اور جامع یوتھ ڈویلپمنٹ سکیموں میں شمار ہوتی ہے۔ وفاقی بجٹ میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے 40.58 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 9.9 ارب روپے پرائم منسٹر یوتھ اسکلز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے اب تک 5 لاکھ 23 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
عالمی یوتھ اسکلز ڈے کے موقع پر چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام، رانا مشہود احمد خاں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق نوجوانوں کو صرف ملازمتیں تلاش کرنے والا نہیں بلکہ ملازمتیں پیدا کرنے والا بنایا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مصنوعی ذہانت ، بلاک چین، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس میں وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کےلیے3 ارب 91 کروڑ روپے کی منظوری دیدی گئی۔
وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام حکومت کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد جدید اور روایتی ہنر سکھا کر بے روزگاری کو ختم کرنا اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور صنعتی معیشت کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں ساڑھے 5 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو مفت فنی تربیت فراہم کی جا چکی ہے نوجوانوں کو 3 سے 6 ماہ تک کے بالکل مفت ہائی ٹیک اور روایتی کورسز کروائے جاتے ہیں۔ادارہ: یہ پروگرام نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن کے زیرِ انتظام چلایا جاتا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ای کامرس، اور ویب ڈویلپمنٹ جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔روزگار کے مواقع: تربیت مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو باآسانی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں روزگار مل جاتا ہے۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام سے جاری بیان کے مطابق اس بجٹ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو روزگار، تعلیم، ہنر، کاروبار، کھیلوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ پاکستان کے نوجوان ملکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ سب سے بڑی رقم یعنی 22.4 ارب روپے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے لئے مختص کی گئی ہے جس کا مقصد نوجوان کاروباری افراد اور کسانوں کو آسان مالی معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں، روزگار پیدا کریں اور قومی معیشت میں کردار ادا کریں۔ایک ہنرمند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے 9.90051 ارب روپے وزیراعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے مختص کئے ہیں تاکہ لاکھوں نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے اور وہ ملکی و عالمی سطح پر بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔ تعلیمی مواقع کو بڑھانے اور مالی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے 3 ارب روپے پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے لئے رکھے گئے ہیں تاکہ مستحق طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔جدت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لئے مزید 3 ارب روپے وزیراعظم آئی ٹی سٹارٹ اپس اور وینچر کیپٹل منصوبے کے لئے مختص کئے گئے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی انٹرپرینیورشپ کو فروغ ملے اور پاکستان کو علم پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے لے جایا جا سکے۔مزید مختص رقوم میں 700 ملین روپے یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے لئے، 500 ملین روپے ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس لیگ کے لئے، 400 ملین روپے نیشنل والینٹئر کور کے لئے، 300 ملین روپے ای سپورٹس ایریناز اور ٹریننگ سینٹرز کے لئے، 250 ملین روپے نیشنل انوویشن ایوارڈ کے لئے اور 50 ملین روپے گرین یوتھ موومنٹ کے لئے شامل ہیں ۔ یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت 40.50051 ارب روپے کی مکمل تقسیم تشکیل دیتے ہیں، جو نوجوان نسل کو بااختیار بنانے کے لئے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں،ان اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت معیاری تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کے لئے دانش سکولز نیٹ ورک کی توسیع کر رہی ہے جس کے لئے مجموعی طور پر 24.482738 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس میں اسلام آباد (ICT کری) میں دانش سکول کے قیام کے لئے 1.330435 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں نئے دانش سکولز کے لئے 4.271034 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سلطان آباد جوتل، کروش تھنگ موضع سفراں گا-شگر، گانچھے، استور اور سکردو شامل ہیں۔اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں دانش سکولز کے لئے سب سے بڑی رقم 6.26972 ارب روپے رکھی گئی ہے جن میں ہاڑی گہل -باغ، بھمبر، شاردہ-نیلم اور حویلی کہوٹہ شامل ہیں۔ مزید برآں بلوچستان کے لئے 4.148862 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سِبی، موسیٰ خیل، ژوب، کان مہترزئی (قلعہ سیف اللہ)، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی شامل ہیں۔ سندھ (ٹنڈو محمد خان) کے لئے ایک ارب روپے، خیبر پختونخوا (چترال) کے لئے 858.708 ملین روپے اور ملٹی پرووینس کوریج کے لئے 6.603979 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں یکساں تعلیمی مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ یہ تاریخی سرمایہ کاری حکومت کے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے نوجوان ہیں، تعلیم، کاروبار، ہنر، جدت، کھیلوں اور قیادت کے مواقع میں بیک وقت سرمایہ کاری کے ذریعے حکومت ملک کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو قومی ترقی کے ایک طاقتور انجن میں تبدیل کر رہی ہے۔یہ سرمایہ کاری پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے اور یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک قومی مشن ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر کو تشکیل دے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »