LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مولانا فضل الرحمٰن کا محاذ پر کھڑے سپاہی کو اس کی تنخواہ کا طعنہ دینا کوئی دلیل نہیں۔

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مولانا فضل الرحمٰن کا محاذ پر کھڑے سپاہی کو اس کی تنخواہ کا طعنہ دینا کوئی دلیل نہیں۔ یہ کم ظرفی ہے—اور ایسے شخص پر وار ہے جو جواب بھی نہیں دے سکتا ‘شاید مولانا آج بھی جنگ کو اُس قبائلی دور کے پیمانے سے دیکھتے ہیں جب حملہ ہونے پر ہر جوان گھر سے ہتھیار اٹھاتا اور مشترکہ دفاع کے لیے نکل کھڑا ہوتا تھا جدید جنگ قبائلی لشکروں سے نہیں لڑی جاتی
آج ایک چھوٹا سا فوجی یونٹ بھی جدید اسلحے، مواصلات، نگرانی، انٹیلی جنس، رسد اور فضائی و زمینی مدد کے ایک پیچیدہ نظام سے منسلک ہوتا ہے۔ اتنی طاقت نہ کسی ہجوم سے چل سکتی ہے، نہ نعروں سے، نہ وقتی جوش سے’ اور نہ مدارس کے طلبہ کے کسی سیاسی لشکر سے’ اس کے لیے برسوں کی تربیت، فنی مہارت، مسلسل مشق، سخت نظم و ضبط اور ایک ناقابلِ شکست کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام درکار ہوتا ہے’ اسی لیے جدید ریاستیں مستقل افواج رکھتی ہیں’ فوجی ہونا کوئی عارضی ملازمت، موسمی مزدوری یا جز وقتی کام نہیں۔ یہ ایک ہمہ وقتی پیشہ ہے۔ ایک سپاہی اپنی جوانی، نقل و حرکت، ذاتی آزادی اور اکثر اپنی پوری خاندانی زندگی عسکری نظم و ضبط کے تابع کردیتا ہے’ اس مستقل خدمت کے بدلے اسے رینک، تنخواہ اور پنشن ملتی ہے’ اس کی تنخواہ پیشہ ورانہ خدمت کا معاوضہ ہے، اس کی جان کی قیمت نہیں۔
ایک فوجی پاکستان کے قانون کے ساتھ اپنی سروس کے قانون، ضابطوں اور نظم و ضبط کا بھی پابند ہوتا ہے—خواہ وہ آرمی، ایئر فورس یا نیوی سے تعلق رکھتا ہو ‘ وہ ٹیلی وژن پر آکر مولانا کو جواب نہیں دے سکتا۔
وہ پریس کانفرنس نہیں کرسکتا’ وہ کسی سیاسی جلسے میں مائیک پکڑ کر اپنی صفائی پیش نہیں کرسکتا اور جو شہید ہوچکا، وہ اپنی قبر سے اٹھ کر یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ وہ کیوں گیا، کس حکم پر گیا، کس کو بچایا، اور آخری لمحے میں اس کے دل پر کیا گزری اس کا کم سن بیٹا مولانا جیسی چرب زبانی سے اپنے باپ کی قربانی بیان نہیں کرسکتا’ اس کی غم زدہ ماں اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو ایک سجی سنوری سیاسی تقریر میں نہیں ڈھال سکتی۔
اس کی بیوہ کی خاموشی مولانا کی روانی سے شکست نہیں کھاتی مولانا کے پاس مائیک ہے ‘ شہید کے پاس اب صرف ایک قبر ہے۔
اس میں ایک تلخ ستم ظریفی بھی ہے۔ جو شخص بارہا مدارس کے طلبہ کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرتا رہا، آج وہ ایک پیشہ ور اور تربیت یافتہ سپاہی کو تنخواہ لینے کا طعنہ دے رہا ہے’ مولانا کی سیاست کا طریقہ ہمیشہ پوزیشن بدلنے پر قائم رہا ہے۔ کبھی ایک حکومت کے ساتھ، کبھی دوسری کے ساتھ۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے قریب، کبھی بلند آواز میں اس کے خلاف۔کبھی مزاحمت، کبھی مفاہمت۔ جہاں بہتر سودا نظر آیا، مؤقف بھی وہیں منتقل ہوگیا۔
مگر جس سپاہی پر وہ آج زبان چلا رہے ہیں، اس کی صرف ایک پوزیشن ہے۔
وہ حکومتیں بدلنے پر اپنا مورچہ نہیں بدلتا۔ وہ عہدے کے بدلے اپنی وفاداری نہیں بدلتا۔ وہ سیاسی موسم دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ اسے کہاں کھڑا ہونا ہے۔وہ صرف ایک جگہ کھڑا رہتا ہے: دشمن اور بے گناہ پاکستانی کے درمیان۔ اور یہ تضاد اس سے بھی گہرا ہے۔ ایک طرف سپاہی ہے: تربیت یافتہ، منظم، قانون کا پابند، سیاسی طعنوں کا جواب دینے سے محروم، اور خطرے اور بے گناہ شہری کے درمیان مستقل طور پر کھڑا ہوا۔ دوسری طرف سیاست دان ہے: پوزیشنیں بدلتا ہوا، عہدوں کے لیے سودے کرتا ہوا، مذہب کو سیاسی قوت بناتا ہوا، مدارس کے طلبہ کو اپنے سیاسی پیادوں کے طور پر استعمال کرتا ہوا، وردی پوش محافظوں میں گھرا ہوا، گارڈ آف آنر لیتا ہوا اور کمان کا پورا منظرنامہ سجاتا ہوا۔ وہ کمان کا تماشا پسند کرتا ہے، مگر کمان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ سپاہی نہ جنگ کا فیصلہ کرتا ہے، نہ پالیسی بناتا ہے، نہ سیاسی سودے طے کرتا ہے۔ اسے جہاں حکم ملتا ہے، وہ جاتا ہے—اور اس حکم کے نتائج اپنے جسم اور خون سے برداشت کرتا ہے۔
سیاست دان اپنی حفاظت اور سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے پوزیشن بدلتا ہے۔ سپاہی دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑتا۔ ایک انسانوں کو اپنی طاقت کی نمائش کے لیے استعمال کرتا ہے۔
دوسرا خود کو خطرے کے سامنے کھڑا کردیتا ہے۔ طلبہ کو سیاسی قوت کے طور پر استعمال کرنا قیادت نہیں۔ ایسے سپاہی کی قربانی کا مذاق اڑانا، جو قانوناً جواب نہیں دے سکتا، بہادری نہیں۔ یہ خاموش اور بے دفاع لوگوں کے خلاف چرب زبانی کا استعمال ہے۔ جرنیلوں پر تنقید کیجیے۔ ناکام پالیسی کو للکاریے۔ اعلیٰ کمان سے جواب مانگیے۔ مگر سپاہی اور شہید کو درمیان میں مت گھسیٹیے۔ وہ پالیسی نہیں بناتا۔ وہ صرف اس کی سب سے بھاری قیمت ادا کرتا ہے۔ ایک کمان کا تماشا کرتا ہے۔ دوسرا اس کی قیمت اپنے خون سے ادا کرتا ہے۔ سپاہی کو تنخواہ خدمت کے لیے ملتی ہے۔ اس کا خون کسی سیاست دان نے خریدا نہیں ہوتا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »