اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پولیس کی بحریہ ٹاؤن میں بڑی کارروائی مبینہ فحاشی کا اڈہ بے نقاب، سابق پولیس اہلکار سمیت 10 افراد گرفتار
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پولیس کی بحریہ ٹاؤن میں بڑی کارروائی
مبینہ فحاشی کا اڈہ بے نقاب، سابق پولیس اہلکار سمیت 10 افراد گرفتار
انسانی اسمگلنگ، منشیات سپلائی اور منظم نیٹ ورک کے انکشافات نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں اسلام آباد پولیس نے بحریہ ٹاؤن فیز 4 کے سوک سینٹر میں اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ فحاشی کے اڈے کو بے نقاب کر دیا۔ کارروائی تھانہ لوہی بھیر پولیس کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں سے سابق پولیس اہلکار عرفان اللہ عرف “لنگڑا” سمیت 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ لوہی بھیر میں تعینات ایس آئی سجاد احمد کو مخبرِ خاص نے اطلاع دی تھی کہ پلازہ نمبر 153 کی پہلی منزل پر قائم “بیلا سپا” نامی مرکز میں غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری ہیں اور وہاں خواتین کو مبینہ طور پر منظم انداز میں اس دھندے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اطلاع کو مصدقہ قرار دیتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق خصوصی ٹیم لیڈی کانسٹیبلز کے ہمراہ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر موقع پر پہنچی اور اچانک چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد مرد و خواتین کو قابلِ اعتراض حالت میں پایا گیا، جس پر تمام افراد کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔
گرفتار ملزمان میں سابق پولیس اہلکار عرفان اللہ عرف “لنگڑا”، رضوان عابد اور آٹھ خواتین شامل ہیں۔ گرفتار خواتین کی شناخت ماہم، رقیہ، سعدیہ، آسیہ، نرگس، صباء، ماہم ثانی اور شائستہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ان خواتین کا تعلق کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا سمیت مختلف شہروں سے بتایا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق مرکزی ملزم عرفان اللہ عرف “لنگڑا” ماضی میں محکمہ پولیس کا حصہ رہ چکا ہے، تاہم بعد ازاں اسے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برخاستگی کے باوجود ملزم اپنی سابقہ شناخت اور روابط کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔
دورانِ تفتیش اہم انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار خواتین نے بیان دیا کہ “حماد” نامی شخص انہیں زبردستی اس دھندے میں ملوث کرتا تھا اور مختلف شہروں میں مبینہ طور پر سپلائی بھی کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد معاملہ صرف فحاشی تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی اسمگلنگ کے پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف تھانہ لوہی بھیر میں مقدمہ نمبر 309/26 درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں دفعہ 294، 188 تعزیراتِ پاکستان اور انسانی اسمگلنگ ایکٹ HTA-3 شامل کیے گئے ہیں، جبکہ مزید دفعات بھی شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران پولیس کو منشیات، خصوصاً آئس اور نشہ آور گولیوں کی مبینہ سپلائی سے متعلق بھی اہم شواہد ملے ہیں۔ پولیس اب اس پہلو پر بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ گروہ فحاشی کے ساتھ ساتھ منشیات کی ترسیل میں بھی ملوث تھا یا نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مفرور ملزم حماد اور اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی ادارے اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس گروہ کے روابط دیگر شہروں یا بااثر شخصیات سے تو نہیں تھے۔
اس کارروائی کے بعد بحریہ ٹاؤن اور گرد و نواح میں قائم دیگر سپاز اور بیوٹی سینٹرز کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نگرانی کی جاتی تو مبینہ طور پر اس قسم کی سرگرمیاں اتنے منظم انداز میں جاری نہ رہتیں۔
اسلام آباد پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی سرگرمیوں، انسانی اسمگلنگ، منشیات فروشی اور منظم جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی,

