کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) برانڈڈ فوم کے نام پر بڑی جعلسازی؛ شہری لٹ گیا، پولیس سے کارروائی کا مطالبہ
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) برانڈڈ فوم کے نام پر بڑی جعلسازی؛ شہری لٹ گیا، پولیس سے کارروائی کا مطالبہ
گلشنِ اقبال میں ‘ماسٹر فوم’ کی جعلی فرنچائز کا انکشاف؛ شہری کو لاکھوں کا چونا لگا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں ،
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک منظم گروہ کی جانب سے مشہور برانڈ ‘ماسٹر فوم’ کے نام پر جعلی مصنوعات فروخت کرنے اور شہریوں کو دھمکانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد کے رہائشی راحیل صدیق نے تھانہ گلشنِ اقبال (ایسٹ) میں اویس انٹرپرائزز کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کی درخواست جمع کروا دی ہے۔
متاثرہ شہری کے مطابق، انہوں نے اویس نامی شخص سے جو خود کو فرنچائز کا مالک ظاہر کرتا ہے) 45 ہزار روپے میں میٹرس خریدا۔ دکاندار نے 12 سال کی وارنٹی کا جھانسہ دیا، تاہم محض 2 ماہ میں میٹرس مکمل طور پر بیٹھ گیا۔ جب شکایت کی گئی تو دکاندار نے معاوضہ دینے کے بجائے شہری کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
شہری کا کہنا ہے کہ محض دو ماہ کے استعمال کے بعد میٹرس ناقص میٹریل کی وجہ سے ناکارہ ہو گیا۔ جب متاثرہ شہری نے وارنٹی کارڈ پر درج نمبروں پر رابطہ کیا تو وہ نمبرز غیر فعال نکلے۔ مزید تحقیقات پر معلوم ہوا کہ وارنٹی کارڈ پر درج لاہور کا پتہ بھی فرضی تھا، جو کہ منظم جعلسازی کی نشاندہی کرتا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ نہ صرف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی) اور 506 دھمکیاں دینے کے زمرے میں آتا ہے، بلکہ یہ سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وارنٹی کارڈ پر درج فرضی پتے اور رابطہ نمبرز ثابت کرتے ہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی جعلسازی ) ہے۔متاثرہ شہری راحیل صدیق نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے دکان کے مالک اویس سے شکایت کی، تو اس نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے شہری کو شدید ہراساں کیا اور دکان پر آنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ شہری کا کہنا ہے کہ اس ذہنی اذیت اور ناقص میٹرس کے استعمال سے انہیں جسمانی اور گردن کی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔شکایت کنندہ راحیل صدیق نے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم شہریوں کو لوٹنے والے اس گروہ کے خلاف فراڈ، دھوکہ دہی اور دھمکیوں کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور برانڈ کے نام پر جعلی کاروبار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
پولیس نے درخواست موصول کر لی ہے شکایت کنندہ نے مؤقف کے لیے ملزمان سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر “جعلی فرنچائز مافیا” کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ دیگر شہری ایسے لٹیروں سے محفوظ رہ سکیں۔




