کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) این آئی سی وی ڈی کے بعد ایس آئی سی وی ڈی میں بھی انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی این آئی سی وی ڈی کے بعد اب ایس آئی سی وی ڈی میں بھی مبینہ طور پر انتظامی بے ضابطگیوں اور اقربا پروری کے الزامات سامنے آ رہے ہیں پروفیسر جاوید سیال، جو ایک اچھی شہرت کے حامل سمجھے جاتے ہیں، ان کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں بعض متنازع اور غلط فیصلوں پر مجبور کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق موسیٰ میمن نامی افسر کو این آئی سی وی ڈی میں گریڈ 17 میں بھرتی کیا گیا تھا، جس پر قانونی اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔ ڈی جی آڈٹ کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم نہ کوئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی بعد ازاں مذکورہ افسر نے چند سال ملازمت کے بعد ایس آئی سی وی ڈی میں پہلے بطور انچارج/ایکٹنگ ذمہ داریاں سنبھالیں، پھر ہیڈ آف ایچ آر اور بعد ازاں چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے پر تعینات کر دیے گئے ذرائع کے مطابق 21 فروری کو ان کی ریٹائرمنٹ ہوگئی، تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر انہیں خاموشی سے مزید دو سال کے کنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کر دیا گیااس صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اصولی طور پر جب کسی افسر کی ریٹائرمنٹ متوقع ہو تو کم از کم چھ ماہ قبل اس عہدے کو مشتہر کیا جانا چاہیے تھا تاکہ میرٹ کی بنیاد پر اہل امیدواروں کو درخواست دینے کا موقع ملتا اور بہترین امیدوار کو چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کیا جاتا۔
مبینہ طور پر خفیہ انداز میں دو سالہ کنٹریکٹ دینا ایک سنگین معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی فوری قانونی اور انتظامی سطح پر تحقیقات کی جائیں تاکہ کسی بھی فرد کے حق تلفی نہ ہو۔ادارے کے اندر پس پردہ فیصلوں، مبینہ اقربا پروری اور قواعد کی خلاف ورزی پر بھی سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہےاگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ حکام ذمہ دار قرار پائیں گے اور جلد قانونی نوٹسز جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

