کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) ملیر پولیس کی کوئلہ چوری اور غیرقانونی کاروبار کا انکشاف ہوا ہے
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ): ملیر پولیس کی کوئلہ چوری اور غیرقانونی کاروبار کا انکشاف ہوا ہے،
جہاں اسٹیل مل چورنگی شاہ لطیف پولیس۔ سکھن پولیس اور سومار گوٹھ میں بائیکو پمپ کے قریب قائم کوئلے کے گودام میں روزانہ کی بنیاد پر چوری شدہ کوئلہ جمع کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ گودام مبینہ طور پر کوئلہ مافیا جاوید مسعود،شاھد پٹھاٹ۔اسلم چانڈیو ۔حمید چانڈیو خالد شاہ اور ان کے کارندے چلا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پورٹ قاسم سے آنے والے کوئلے سے بھرے ڈمپروں سے ڈرائیوروں کی مبینہ ملی بھگت سے کوئلہ چوری کر کے گودام میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں اسی کوئلے کو ٹنوں کے حساب سے ڈمپروں میں بھر کر مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تمام سرگرمی کے دوران اسٹیل ٹاؤن پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی، جس کے باعث مافیا کا کاروبار کھلے عام جاری ہے۔
دوسری جانب سومار گوٹھ میں مبینہ طور پر تقریباً دو ایکڑ سرکاری زمین پر بھی کوئلے کا گودام قائم ہونے کی اطلاعات ہیں، جسے جاوید مسعود اور واجد نامی افراد چلا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مقام پر بھی روزانہ کوئلے سے بھرے ڈمپر اتارے جاتے ہیں جبکہ وہاں سے کالی مٹی ڈمپروں میں بھر کر ریلوے اور گھگھر پھاٹک کے علاقوں کی جانب بھیجی جاتی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق سومار گوٹھ میں سرکاری زمین پر قائم اس گودام کے باعث نہ صرف غیرقانونی کاروبار کو فروغ مل رہا ہے بلکہ علاقے میں ماحولیاتی آلودگی اور دیگر مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ملیر اور اس کے گرد و نواح میں گزشتہ کئی ماہ سے غیرقانونی کوئلے کے کاروبار میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بااثر عناصر کی مبینہ پشت پناہی کے باعث اس کاروبار کے خلاف کارروائی میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہی ہیں۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری زمین پر قائم غیرقانونی گوداموں اور کوئلہ چوری کے اس مبینہ نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

