کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) انڈس ہسپتال سے روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں ریفر کیے جانے کا معاملہ توجہ طلب بن گیا ہے
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) انڈس ہسپتال سے روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں ریفر کیے جانے کا معاملہ توجہ طلب بن گیا ہے۔ اس عمل سے پہلے ہی محدود وسائل کے حامل گورنمنٹ اسپتالوں پر اضافی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کراچی انڈس اسپتال سے مریضوں کو دیگر سرکاری اسپتالوں میں ریفر کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں مریضوں کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور سول اسپتال کراچی بھیجا جا رہا ہے اطلاعات ہیں کہ مریض گھنٹوں ایمرجنسی میں انتظار کے بعد بیڈ دستیاب نہ ہونے یا سہولت کی کمی کا کہہ کر ریفر کر دیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں شدید درد میں مبتلا ایک مریض کو بیڈ نہ ہونے کا جواز دے کر منتقل کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معمولی پتے کی سرجری بھی نہیں کی جا رہی جبکہ پیٹ میں پانی بھر جانے والے مریض کو بھی دوسرے اسپتال بھیج دیا گیاجناح ایمرجنسی کے انچارج کے مطابق روزانہ بڑی تعداد میں مریض انڈس اسپتال سے وہاں منتقل ہو رہے ہیں جس سے سرکاری اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے واضح رہے کہ انڈس اسپتال سندھ حکومت کے تعاون سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اسپتال میں 1350 بستر موجود ہیں، جو اسے صوبے کا تیسرا بڑا اسپتال بناتے ہیں۔ یہاں 36 آپریشن تھیٹرز، او پی ڈی سروسز اور جدید ایمرجنسی رومز قائم ہیں۔ ترجمان کے مطابق سالانہ سات لاکھ پینسٹھ ہزار مریضوں کے علاج اور روزانہ چار ہزار سے زائد مریضوں کی آمد کا دعویٰ کیا جاتا ہے تاہم مسلسل ریفرل کے بڑھتے رجحان نے انتظامی کارکردگی اور سہولیات کی دستیابی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر وسائل اور گنجائش موجود ہیں تو بنیادی اور معمولی نوعیت کے کیسز کو سنبھالا جائے تاکہ دیگر سرکاری اسپتالوں پر غیر ضروری بوجھ کم ہو۔

