اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ظلم و بربریت کی انتہا، مبینہ بچیوں کی نازیبا ویڈیوز پبلک، بلیک میلنگ، ملزم گرفتار
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ظلم و بربریت کی انتہا، مبینہ بچیوں کی نازیبا ویڈیوز پبلک، بلیک میلنگ، ملزم گرفتار
ایاز سہو نے ہسپتال میں نوکری کے نام پر معزز گھرانوں کی لڑکیوں کو بلیک میل کیا، زبردستی نازیبا ویڈیوز بنا کر رقوم بٹورنے کا گھناؤنا دھندہ جاری رکھا
پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائسز فرانزک کے لیے قبضے میں لے لیں، جبکہ مزید افراد کے خلاف تفتیش بھی جاری ہے
ملزم ایاز سہو خود کو صحافی، ہسپتال کا مالک ظاہر کرتا تھا، والد بھی مبینہ طور پر عوام کو دھوکہ دینے میں ملوث، بااثر شخصیات صلح کی کوشش میں سرگرم: ذرائع
بدنام زمانہ کالے جادو کے ماہر عامل کے اوباش صحافی بیٹے ایاز سہو نے شہر میں ہسپتال کی آڑ میں معزز گھرانوں کی شریف بچیوں کو بلیک میل کر کے ان کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کر کے بھاری رقوم بٹورنے کا دھندہ شروع کر رکھا تھا جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ملزم کا موبائل قبضے میں لے کر فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جس میں درجنوں فلموں پر مشتمل فحش مواد موجود ہے۔
حلمبہ پولیس کے مطابق مدعیہ نے بیان دیا کہ وہ محلہ حلمبہ کی رہائشی ہے۔ اسے ملزم ایاز سہو نے اپنے ہسپتال (عمیر حبیب ہسپتال) میں نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا اور وہاں لے جا کر زبردستی نازیبا ویڈیوز بنائیں اور بعد میں انہی ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اگر وہ رقم نہ دیتی تو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ایس ایچ او حلمبہ اور ایس آئی عارف حسین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ایاز سہو کو اس کے ہسپتال سے گرفتار کر لیا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں شدید ہلچل مچ گئی جبکہ مزید دو افراد کے خلاف بھی تفتیش جاری ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ویڈیوز کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق، ملزم ایاز سہو مقامی طور پر خود کو صحافی اور “ہسپتال کا مالک” ظاہر کرتا تھا۔ اس کے والد پر بھی جعلی عامل ہونے اور شہریوں کو دھوکہ دینے کے الزامات ماضی میں سامنے آتے رہے ہیں۔ پولیس نے ملزم کے موبائل فون اور ڈیجیٹل ڈیوائسز قبضے میں لے کر فرانزک ٹیم کو بھجوا دی ہیں۔
دوسری جانب بااثر سیاسی اور سماجی شخصیات مبینہ طور پر ملزم کی رہائی کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں اور متاثرہ بچی کے والد پر صلح کے لیے شدید دباؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رئیس آباد کے ایک بااثر خاندان اور وارڈ نمبر 5 کی ایک سیاسی شخصیت بھی متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال کر صلح کی کوشش کر رہی ہیں اور مذکورہ شخصیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شخصیت بھی ملزم ایاز سہو کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہی ہے کیونکہ اس کی بعض کمزوریاں ایاز سہو کے ہاتھ میں ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے روزنامہ قوم سے گفتگو میں کہا کہ ایسے مجرم معاشرے کے لیے ناسور ہیں، اگر انہیں سخت سزا نہ دی گئی تو کوئی بیٹی محفوظ نہیں رہے گی۔
ذرائع کے مطابق ملزم ایاز سہو لڑکیوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے جال میں پھنساتا، ان کی خفیہ اور نازیبا ویڈیوز بناتا اور بعد ازاں انہیں بلیک میل کر کے رقوم بٹورتا تھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی شہر کے کئی شریف گھرانوں کی لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز مبینہ طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جس کے باعث متعدد خاندان شدید ذہنی اذیت اور بدنامی کا شکار ہوئے اور بعض خاندان تو علاقہ ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف مرکزی ملزم بلکہ اس کے تمام سہولت کاروں کو بھی فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مقدمے کی تفتیش حساس نوعیت کی ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔ شہریوں نے سی پی ڈی کے سہیل ظفر چٹھہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ ملزم کے نجیبے میں بھی پتا چلنا چاہیے اگر اس قسم کے دیگر اوباش افراد کو عبرت اور معصوم گھرانوں کی بچیوں کی عزت محفوظ رہ سکے۔
اس کو ڈان نیوز کی پالیسی کے مطابق انگریزی خبر میں بدل دیں

