کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) آگ سے نہیں، بند دروازوں اور غلط تعمیر سے اموات ہوتی ہیں
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) شاپنگ سینٹرز، موبائل مارکیٹس اور کمرشل پلازوں میں آتشزدگی کے واقعات اب محض حادثات نہیں رہے بلکہ یہ ہمارے مجموعی نظام، ناقص نگرانی اور غیر ذمہ دارانہ تعمیرات کی واضح علامت بن چکے ہیں۔ گل پلازہ جیسے حالیہ سانحات نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو لوگ اتنی بڑی تعداد میں جان سے ہاتھ کیوں دھو بیٹھتے ہیں؟ اس کا تلخ مگر سچ جواب یہ ہے کہ زیادہ تر اموات آگ یا دھوئیں سے نہیں بلکہ بند انٹری اور ایگزٹ راستوں، ناقص انتظام اور غیر محفوظ تعمیراتی طریقوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رات ساڑھے نو یا ساڑھے دس بجے، جو کسی بھی شاپنگ سینٹر کے لیے غیر معمولی وقت نہیں، اس کے باوجود دروازے بند ملتے ہیں اور ہنگامی صورتحال میں بھی انہیں بروقت کھولنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔
یہ سوال پوری شدت سے اٹھایا جانا چاہیے کہ اگر دروازے بند کرنے والا موجود تھا تو آگ لگنے پر انہیں کھولنے والا کہاں تھا؟ چوکیدار جن کی بنیادی ذمہ داری انٹری اور ایگزٹ کی نگرانی ہے، اکثر اپنی مقررہ جگہوں پر موجود نہیں ہوتے۔ ان کی ڈ

