اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ کی عالمی مانگ میں اضافہ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں جیسے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر نے گزشتہ سال مئی اور 2019 میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔فروری 2003 کو جے 10 ساخت کا پہلا طیارہ چین کی ایئر فورس کی 13ویں ٹیسٹ ریجمنٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔اسی سال دسمبر 2003میں اس لڑاکا طیارے کے ’آپریشنل‘ (قابل استعمال حالت میں) ہونے کا اعلان کیا گیا۔

اٹھارہ سال اس طیارے پر کام ہوتا رہا۔ ’جے-10 سی‘ طیارے نے لڑائی کے لیے خدمات کی انجام دہی اپریل 2018 میں شروع کی تھیں۔ابتدا میں اس طیارے کو پیپلز لبریشن آرمی و ایئر فورس کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن بعد میں چینی ہتھیار بنانے والی صنعت نے اسے برآمدی مقاصد کے لیے بھی بنانا شروع کر دیا۔پاکستانی ایئر فورس مشرف دور سے اپنے میراج طیاروں کے سکواڈرن کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی جو کہ اس نے سنہ 1967 میں خریدے تھےایک طیارے میں دو چیزیں سب سے اہم ہوتی ہیں، ایک اس کا ایئر فریم سٹرکچر اور دوسرا اس کی ایوی آنکس۔ جے 10 سی کے ایئر فریم کی بات کی جائے تو اس میں ڈیلٹا کنارڈ کنفگریشن موجود ہے جو اس کی اجیلٹی کو بہتر بناتی ہے جس کے باعث طیارہ اپنا اینگل آف اٹیک فوری تبدیل کر سکتا ہے۔دوسرا اس کا سٹرکچر کمپوزٹ میٹیریل سے بنا ہوا ہے جس کے باعث حالانکہ یہ ایک سٹیلتھ ایئرکرافٹ نہیں لیکن اس کی ریڈار پر نشاندہی مشکل ہو جاتی ہےاس طیارے کی دوسری اہم چیز اس انجن ہے، جو ہے اے ایل 31 ایف این جسے جیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایکٹو ایسا راڈار ( اے ایس آر) اس وقت سب سے جدید راڈار ہیں۔ اس کی ٹارگٹ ٹریکنگ اچھی ہوتی ہے اور یہ دشمن اور اپنے جہازوں میں فرق بتا سکتا ہے۔ اور اسے کے ساتھ ڈیٹا لنک کی سہولت ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف فارمیشن میں موجود جہازوں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کر سکتے ہیں بلکہ آپ اے ویکس، یو اے ویز اور اے ڈبلیو سیز کے ساتھ بھی اپنا ڈیٹا شیئر کر سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا لنک پاکستان میں ہی بنائے جاتے ہیں اس طیارے کے کاکپٹ کی ایروگنامکس اچھی ہے یعنی ایز آف فلائنگ ہے جس سے پائلٹ کو کاک پٹ میں آسانی ہوتی ہے اور اس فلائنگ کا لوڈ نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کی توجہ راڈار کو کیسے آپریٹ کرنا ہے اور اسلحے کو کیسے استمعال کرنا ہے۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی رسائی میں تیزی لایا ہے کیونکہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کو بڑھانا اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو نفع بخش بنانا چاہتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔مئی 2025 کے بعد پاکستان کے ان دفاعی معاہدوں اور مذاکرات کی مختصر ٹائم لائن دی جا رہی ہے جو دوست ممالک کے ساتھ طے پائے یا زیرِ غور ہیں۔10 جنوری 2026: عراقی فضائیہ کی جے ایف 17 میں گہری دلچسپی
عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورۂ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔
7 جنوری: سعودی عرب کے ساتھ قرضوں کے بدلے جے ایف 17 کا معاہدہ زیر غور
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔
6 جنوری: بنگلہ دیش کی جے ایف 17 خریدنے میں دلچسپی
پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی22 دسمبر 2025: پاکستان کا لیبیا کے ساتھ اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ
پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔ جے ایف-17 کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ’یہ آزمایا ہوا ہے اور لڑائی میں استعمال ہو چکا ہے۔پاکستان چھ ممالک کے ساتھ سازوسامان کی فراہمی کے لیے سودے طے کر چکا ہےان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے، جس میں جے ایف-17 اور طیاروں کے لیے الیکٹرانک اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں ۔سعودی عرب, پاکستان کے ستمبر میں دستخط کیے گئے باہمی دفاعی معاہدے نے دونوں فریقوں کو پابند کیا کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کریں گے، جس سے دہائیوں پرانی سکیورٹی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔پاکستان طویل عرصے سے سعودی مملکت کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، بشمول تربیت اور مشاورتی تعیناتی جبکہ سعودی عرب نے معاشی دباؤ کے دوران بارہا پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔ 2018 میں، ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا، جس میں مرکزی بینک میں 3 ارب ڈالر کی رقم جمع کروانا اور موخر ادائیگی پر 3 ارب ڈالر کا تیل شامل تھا۔ سعودی عرب اس کے بعد سے متعدد بار رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس میں پچھلے سال 1.2 ارب ڈالر کی توسیع بھی شامل ہے، جس سے اسلام آباد کو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کے درمیان اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد ملی۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے لیبیا کی مشرقی بنیادوں پر قائم ’لیبین نیشنل آرمی‘ کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیاروں کا سودا کیا، حکام نے بتایا کہ یہ ملک کی اب تک کی سب سے بڑی اسلحہ فروخت میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔ پاکستان نے جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بنگلہ دیش کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر اپنے ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم کو وسعت دے رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے گذشتہ مئی میں مختصر لڑائی کے دوران انڈیا کے متعدد جنگی طیارے گرائے جانے کے بعد پاکستان کے زیر استعمال جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا عالمی سطح پر بہت ذکر ہے۔کئی ممالک نے پاکستان سے اس طیارے کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور مشرقی لیبیا شامل ہیں۔چین کے تعاون سے بنے جے ایف 17 تھنڈر کو پاکستان نے پہلی مرتبہ 27 فروری، 2019 کو انڈیا کے خلاف میدان میں اتارا تھا اور پہلے ہی معرکے میں اس نے انڈین طیارہ مار گرایا تھا۔
ایک انجن پر مشتمل کثیر المقاصد جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ہلکا، ہر موسم میں، دن رات پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس، کامرہ اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر 1999 میں تیار کیا۔2003 میں اس طیارے کی پہلی پرواز چین میں کی گئی۔بعد ازاں طیارے میں مزید بہتری لائی گئی اور 2006 میں دوبارہ تربیتی پرواز کے بعد مارچ 2007 میں پاکستان ایروناٹیکل کملیکس کامرہ نے دو طیارے پاکستان فضائیہ کے حوالے کیےجے ایف-17 تھنڈر ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے، جو پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بنایا ہے,
جے ایف-17 تھنڈر کی قیمت تقریباً 25 ملین ڈالر (پاکستانی روپوں میں 7 ارب روپے) ہے۔ تاہم، یہ قیمت مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ یہ جہاز کے مختلف ورژن اور اس میں شامل کیے گئےپاکستان نے چین سے 50 جے ایف-17 تھنڈر بلاک 3 لڑاکا جہاز خریدنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کی قسط کے طور پر 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی ہےاس جہاز کی پہلی تجرباتی پرواز 2003ء میں چین میں کی گئی تھی اور 2006ء میں اسے مزید بہتر بنایا گیا۔ 12 مارچ 2007ء کو دو جہاز پاک فضائیہ کے حوالے کیے گئے تاکہ ان کی پرواز کے مزید تجربات کیے جا سکیں جے ایف-17 تھنڈر میں ایک 23 ملی میٹر کی مشین گن بھی نصب ہوتی ہے، اور یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل لے کر جا سکتا ہے۔ یہ جہاز سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے پاک فضائیہ 2010ء کے اوائل سے جے ایف-17 جہازوں کے مکمل اسکواڈرن کے ساتھ کام کر رہی ہے، اور یہ جہاز پاکستان کے علاوہ چین، عراق، آذربائیجان، میانمار، اور نائیجیریا کی فضائیہ میں بھی استعمال ہو رہا ہےپاکستان اور سعودی عرب میں دو بلین ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف سترہ جنگی طیاروں کے فروخت کے معاہدے میں تبدیل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد سے فریقین میں فوجی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ہی یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ دونوں کے درمیان فوجی تعاون مزید گہرا ہو رہا ہے۔
جے ایف 17 جنگی طیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق یہ تازہ مذاکرات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ممالک دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

