اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاک سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت کے قوی امکانات
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ,پاک سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت کے قوی امکانات ہیں
یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو اتحاد کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے جس کے تحت رکن ممالک ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہوتے ہیں۔ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے جس کے باعث اس ممکنہ اتحاد کو مزید اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی اتحاد مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ اس سے آگے تک طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اتحاد کے قیام سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد ایک اہم معاہدہ ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کو ایک دوسرے پر حملہ تصور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ سال ستمبر میں طے پایا تھا اور اس میں ترکی بھی شامل ہونے کے قریب ہے اس اتحاد کا مقصد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ سعودی عرب مالی وسائل فراہم کرے گا، پاکستان ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل، اور تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرے گا، جبکہ ترکی جنگی تجربہ اور دفاعی صنعت فراہم کرے گا یہ اتحاد خطے میں ایک نئے دفاعی بلاک کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور ایران سمیت دیگر ممالک کے لیے اہم نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے قریب ہے، جس سے مسلم دنیا میں ایک نئی سیکیورٹی بلاک بن سکتی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت، سعودی عرب کی مالی طاقت، اور ترکی کی جنگی تجربہ اور دفاعی صنعت کو یکجا کرے گا یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے، اور ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اہم نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ ترکی کی شمولیت سے یہ بلاک ایک مضبوط دفاعی اتحاد بن جائے گا، جو مشترکہ فوجی مشقوں، مشترکہ انٹیلیجنس، اور مشترکہ دفاعی منصوبوں پر کام کر سکے گا
بلومبرگ نے رپورٹ دی ہے کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس طرح کا اتحاد فطری معلوم ہوتا ہے کیونکہ ترکیہ کے مفادات تیزی سے سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات کے ہم آہنگ ہورہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات پیشرفت کے آخری مراحل میں ہیں اور ایک معاہدہ ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ بلومبرگ کے مطابق دفاعی اتحاد میں ترکیہ کی شمولیت جو کہ امریکہ کے بعد نیٹو میں سب سے بڑی فوجی قوت ہے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض کے سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت، پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ دریں اثنا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ اس معاہدے کو اپنی سیکیورٹی اور دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی ساکھ اور اس پر بھروسے سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انقرہ میں قائم تھنک ٹینک تیپو کے ماہرِ حکمتِ عملی نہاد علی اوزکان کے مطابق، یہ اتحاد تینوں ممالک کی منفرد طاقتوں کا ایک مجموعہ ثابت ہوگا۔ سعودی عرب اپنے مالی اثر و رسوخ اور مضبوط معیشت کے ساتھ سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت، جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور وسیع فوجی افرادی قوت کی بنیاد پر ایک کلیدی دفاعی قوت ہے جب کہ ترکیہ بہترین فوجی تجربے اور جدید ترین دفاعی صنعت کا حامل ہے جو جدید جنگی آلات تیار کر رہی ہے۔ اوزکان نے بلومبرگ کو بتایا کہ چونکہ امریکہ خطے میں اپنے ذاتی مفادات اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے طریقہ کار وضع کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں کی واضح پہچان کر سکیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ترکیہ کی وزارتِ دفاع، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور سعودی عرب کے حکام نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان قریبی فوجی تعلقات قائم ہیں۔ گزشتہ ماہ، اسلام آباد میں اعلیٰ سطح ترکیہ وفد نے پاکستان میں مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور پیداواری سہولیات کے قیام میں گہری دلچسپی کا عندیہ دیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے لیے دروازے بند نہیں ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ایسی کوئی شق شامل نہیں جو کسی کو شمولیت سے روکے, ترکی بھی اس دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا خواہشمند ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہےیا د رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی مضبوط، دوستانہ اور بھائی چارے پر مبنی رہے ہیں جو برصغیر میں پاکستان کے قیام کے فوری بعد ہی شروع ہو گئے تھے۔ یہ رشتہ محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے دلوں میں گہرائی تک پیوست ہے۔ دونوں ملک اسلامی اخوت، مشترکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار کو اپنے تعلقات کی بنیاد مانتے ہیں۔ پاکستانی فوجی اہلکاروں نے سعودی عرب کی فوجی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک دفاعی شعبے میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں اور متعدد معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے بھی یہ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کے تیل کی درآمد کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اکثر ادائیگی کے لیے نرم شرائط پیش کرتا ہے۔ جبکہ لاکھوں پاکستانی شہری سعودی عرب میں کام کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر جیسے اہم مسائل پر۔ سعودی عرب نے پاکستان پر آنے والے اقتصادی و سیاسی بحرانوں میں مالی امداد فراہم کرکے اسے سنبھلنے میں مدد دی ہے۔ اسی طرح پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی سے تعبیر کیا ہے اور اس کے دفاع میں ہر ممکن تعاون کا عہد کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025ء کو ریاض، سعودی عرب میں ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے ’’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوگا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے آیا ہے۔ اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ معاہدہ کا مقصد صرف خطرے کا جواب دینا نہیں بلکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور مشترکہ صلاحیتوں کو بڑھا کر خطے میں بازدار قوت قائم کرنا ہے۔ اگرچہ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ اقدام کسی ایک واقعے کا فوری ردِعمل نہیں بلکہ برسوں سے جاری مذاکرات اور پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کا تسلسل ہے، تاہم خطے میں حالیہ کشیدگی اور خاص طور پر اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد جب خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے کردار پر سوال اٹھایا تو سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس معاہدے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف یہ ایک واضح پیغام ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی یا بیرونی خطرات کے خلاف مشترکہ ردِعمل کے لیے تیار ہیں۔ اور دوسری طرف بھارت اور اسرائیل جیسے ممالک اس کے اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ بھارت نے خصوصاً اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس سے اس کی علاقائی پالیسیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔مجموعی طور پر یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئی سمت دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی مزید مربوط ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی تزویراتی صورتِ حال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب نے اس کے ذریعے اپنی دفاعی خودمختاری کو نئی بنیادیں دی ہیں، جبکہ پاکستان نے خطے میں اپنے کردار کو مزید نمایاں اور مؤثر بنا لیا ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان 17 ستمبر 2025ء کو ریاض کے قصر الیمامہ میں ایک تاریخی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا مرکزی نکتہ ایک تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کرنا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے یہ عہد کیا کہ ایک پر ہونے والی کسی بھی جارحیت کو دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اس تاریخی معاہدے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کیا بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ان کے مشترکہ عزم کی بھی عکاسی کی۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے مذہبی، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر مضبوط رہے ہیں۔ سعودی تیل اور مالی امداد پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی تعلقات میں بھی مزید گہرائی آنے کی توقع ہے معاہدے کے بعد خلیجی ریاستوں میں پاکستان کے کردار پر دوبارہ نظر ڈالی جا رہی ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا انہیں بھی پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات بڑھانے چاہئیں تاکہ خطے میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ اگر کسی ایک پر حملہ ہوا تو وہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اسے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ’’بڑا اسٹریٹجک قدم‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ یہ اتحاد نہ صرف دفاعی بلکہ سیاسی تعلقات کو بھی نئی سطح پر لے گیا ہے یہ معاہدہ کسی فوری بحران یا ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ برسوں پر محیط مذاکرات اور دفاعی تعلقات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی مشقوں کی شقیں بھی شامل ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے فوجی اداروں کو مزید قریب لے آئیں گی معاہدے کے پس منظر میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور اسرائیل کے حالیہ حملے اہم محرک بنے۔ خلیجی ریاستوں میں امریکہ کی دفاعی ضمانتوں پر اعتماد کم ہونے کے بعد سعودی عرب نے پاکستان جیسے شراکت دار کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کو ترجیح دی۔ یہ معاہدہ اسی نئی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دفاعی شراکت داری کے ساتھ ساتھ تجارتی امکانات بھی کھلیں گے۔ معاہدے کے بعد سعودی سرمایہ کار پاکستان کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں زیادہ دلچسپی لے سکتے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتا ہے اس معاہدے کو پاکستان کی فوجی صلاحیت اور خطے میں اس کے بڑھتے کردار کے اعتراف کے طور پر دیکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے پاکستان کو صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک محافظ کے طور پر تسلیم کیا ہے یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک نیا سوال پیدا کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ سعودی عرب کی سلامتی پالیسی میں یہ تبدیلی عارضی ہے یا مستقل، اور اس کے خطے میں ان کے مفادات پر کیا اثرات ہوں گے۔ دفاعی صنعت اور فوجی اتحادوں میں بھی اس پیشرفت کے بعد نئے امکانات جنم لے رہے ہیں پاکستان کے لیے یہ معاہدہ مواقع اور خطرات دونوں لے کر آیا ہے۔ مواقع اس لحاظ سے کہ پاکستان عالمی سکیورٹی کے فریم ورک میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن خطرات اس اعتبار سے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو پاکستان کو زیادہ عسکری اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین پاکستان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دفاع اور سفارتکاری کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے پاکستان سوڈان کو اسلحہ اور طیاروں کی فراہمی کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے حتمی مراحل طے کررہا ہے جو نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف برسرِپیکار سوڈانی فوج کے لیے ایک بڑی تقویت ثابت ہوگا۔پاکستان کے ساتھ اس معاہدے میں 10 قراقرم-8 ہلکے حملہ آور طیارے، نگرانی اور کامیکاز حملوں کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ یہ ایک ’’طے شدہ معاہدہ‘‘ ہے۔ قراقرم-8 طیاروں کے علاوہ اس میں سپر مشاق تربیتی طیارے بھی شامل ہیں، اور ممکنہ طور پر چین کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیے گئے اور پاکستان میں تیار ہونے والے جے ایف-17 لڑاکا طیارے بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تعداد یا ترسیل کے شیڈول کی تفصیلات نہیں بتائیں۔پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت، خصوصاً ڈرونز اور جنگی طیارے، سوڈانی فوج کو فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو اسے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف جنگ کے ابتدائی مرحلے میں حاصل تھی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے، جس کی مالیت دو سے چار ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ سوڈان کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو ایسے کسی معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اس حوالے سے کسی بات چیت کی تصدیق نہیں کی۔ مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان ممالک کے امریکی قیادت میں قائم چار رکنی گروپ کا حصہ ہیں، جو سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔حالیہ دوروں کے دوران سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے جنگ میں سعودی عرب سے مدد کی درخواست کی، ریاض اور ابوظہبی یمن میں حالیہ پیش رفت کے بعد پیدا ہونے والے ایک بڑے تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ خلیج کے یہ دو طاقتور ترین ممالک جغرافیائی سیاست سے لے کر تیل کی پیداوار تک، مشرقِ وسطیٰ کے متعدد حساس معاملات پر شدید اختلافات رکھتے ہیں۔ان اختلافات کا کھل کر اظہار دسمبر کے اوائل میں اس وقت ہوا جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی یمنی علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی نے انہیں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔یہ معاہدہ پاکستان کے تیزی سے ابھرتے دفاعی شعبے کے لیے ایک اور نمایاں کامیابی ہے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران خاص طور پر اس وقت سرمایہ کاری اور دلچسپی میں اضافہ ہوا جب گزشتہ سال بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستانی جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، حکام کے مطابق یہ جنوبی ایشیائی ملک کی بڑی دفاعی برآمدات میں سے ایک ہے، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی معاہدے پر بات چیت کی ہے، جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور جے ایف-17 شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ڈھاکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔حکومت پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی شعبے کو طویل المدتی معاشی استحکام کے حصول کا ایک محرک سمجھتی ہے۔پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے، جو 2023 میں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچنے کے لیے کیے گئے قلیل مدتی معاہدے کے بعد حاصل ہوا۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی اتحادیوں کی مالی معاونت اور ڈپازٹ رول اوورز کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل ہوئی۔ پاکستان کا لیبیا کے ساتھ ہتھیاروں کا معاہدہ واقعی ایک حوصلہ افزا پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس لمحے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں فوجی صلاحیت، دفاعی صنعتی استعداد اور بیرونی طلب اس طرح ہم آہنگ ہوئی ہیں کہ اس کی حکمت عملی اور اقتصادی دونوں لحاظ سے اہمیت ہے۔ اس ڈیل کی وسعت اور وقت اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ پیغام ہے جو یہ معاہدہ دیتا ہے: پاکستان کا دفاعی شعبہ اب اپنی آپریشنل ساکھ کو ٹھوس برآمدی نتائج میں تبدیل کرنا شروع کر رہا ہے۔ لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ معاہدہ، پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی برآمدی سودوں میں سے ایک ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کو ان چند مخصوص ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو فضا، زمین اور سمندر کے لیے پیچیدہ روایتی فوجی ساز و سامان فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ اس حقیقت کا اشارہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب محض خواہشات پر نہیں چل رہی، بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک سنجیدہ سپلائر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ ساکھ کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ یہ بھارت کے ساتھ موسمِ گرما کے تنازع کے دوران پاکستان کی کارکردگی کا نتیجہ تھی، جس نے اس کی آپریشنل تیاری، کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیت اور مقامی طور پر تیار کردہ پلیٹ فارمز کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی۔ بڑی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں نے اس تنازع کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا، اور اس کی وجہ صرف کشیدگی میں اضافہ نہیں تھی، بلکہ یہ تھا کہ اس نے حقیقی حالات میں جنگی نظریات، ساز و سامان اور ردعمل کی صلاحیت کا امتحان لیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے اپنا دفاع مضبوطی سے کرنے، کشیدگی کو سنبھالنے اور آپریشنل ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت نے جنوبی ایشیا سے کہیں دور تک (پاکستان کے بارے میں) تاثرات کو بدل کر رکھ دیا۔ تب سے سفارتی اور تزویراتی تعلقات میں یہ تبدیلی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کی عسکری کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر نوٹ کیا گیا، بشمول مغربی دارالحکومتوں اور پوری مسلم دنیا میں، جہاں دفاعی تعاون ہمیشہ سے تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاسی وزن بھی رکھتا ہے۔ لیبیا کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اس تبدیلی کے پہلے ٹھوس تجارتی نتائج میں سے ایک معلوم ہوتا ہے، اور اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ آخری سودا ثابت ہو۔ مسلح افواج کے لیے اس کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ برآمدات کے مسلسل آرڈرز مقامی پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کے جواز میں مدد دیتے ہیں، اکانومیز آف اسکیل (بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد) کو بہتر بناتے ہیں اور جدت طرازی، جانچ اور بہتری کے ایک چکر کو تقویت دیتے ہیں۔ دفاعی صنعت کے لیے یہ ایک تصدیق ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر جیسے طیارے اور سپر مشاق جیسے تربیتی پلیٹ فارمز برآمدی منڈیوں کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیے گئے تھے، لیکن مستقل اور بڑے پیمانے پر آرڈرز کا حصول اب تک مشکل رہا تھا۔ اتنی بڑی مالیت کا معاہدہ اس صورتحال کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ معاشی اثرات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ پاکستان کے روایتی برآمدی شعبے، خاص طور پر ٹیکسٹائل وہ ترقی اور زرمبادلہ کے ذخائر فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ ڈھانچہ جاتی کمزوریوں، توانائی کے اخراجات، قانونی تقاضوں کی تعمیل کے بوجھ اور عالمی طلب میں تبدیلیوں نے ان شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، برآمدات کا دائرہ محدود اور کمزور رہا ہے، جبکہ درآمدی ضروریات مسلسل زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ دفاعی برآمدات ایک مختلف اور بہتر متبادل پیش کرتی ہیں۔ یہ زیادہ مالیت والی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہیں اور ان پر وہ کموڈیٹی سائیکلز (خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ) اثر انداز نہیں ہوتے جو روایتی شعبوں (جیسے ٹیکسٹائل یا زراعت) کے لیے وبالِ جان بنے رہتے ہیں۔ ان کی ادائیگیاں عام طور پر کئی سالوں پر محیط ہوتی ہیں، جس سے زرمبادلہ کی آمد کا ایک مستحکم اور مسلسل سلسلہ جڑا رہتا ہے۔ ایک ایسی معیشت کے لیے جو ادائیگیوں کے توازن کے دائمی دباؤ کا شکار ہو، اس طرح کے چند معاہدے بھی مجموعی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا اسٹریٹجک پہلو بھی ہے۔ دفاعی تعاون اکثر وسیع تر تعلقات کو گہرا کرتا ہے، جس سے تربیت، دیکھ بھال، مشترکہ پیداوار اور طویل المدتی صنعتی تعاون کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اسے محتاط انداز میں سنبھالا جائے تو ہتھیاروں کی برآمدات وسیع تر معاشی اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کر سکتی ہیں، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں پاکستان کی پہلے ہی سیاسی حسنِ سلوک اور دفاعی واقفیت موجود ہے۔
بلاشبہ ان میں سے کوئی بھی بات خطرات کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ لیبیا اب بھی ایک منقسم خطہ ہے، جو بین الاقوامی جانچ پڑتال اور قانونی پیچیدگیوں کی زد میں رہتا ہے۔ دفاعی برآمدات کے لیے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی فریم ورک کے عین مطابق رہیں اور انہیں انتہائی احتیاط سے متوازن رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ساکھ کے نقصان یا سفارتی منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ لیکن یہ تمام تر مسائل عملدرآمد سے متعلق ہیں، نہ کہ سمت سے۔جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان نے، کم از کم فی الوقت، تین اہم عناصر کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے: عسکری ساکھ، صنعتی استعداد اور معاشی ضرورت۔ دفاعی شعبہ طویل عرصے سے یہ دلیل دیتا رہا ہے کہ برآمدات اقتصادی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون بن سکتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ دعویٰ ثبوت کے بجائے محض امکانات پر مبنی تھا، مگر یہ معاہدہ اس کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے۔اب اصل چیلنج جشن منانا نہیں بلکہ اس کامیابی کو مستحکم کرنا ہے۔ ایک واحد تجارتی سودا کوئی مستقل حکمتِ عملی نہیں ہوتا۔ اس اہم پیش رفت کو ایک مستقل رجحان میں بدلنے کے لیے پاکستان کو پالیسی میں ہم آہنگی، صنعتی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط پر مبنی سفارت کاری کی ضرورت ہوگی۔ واضح رہے کہ دفاعی برآمدات کو سویلین صنعت کی بحالی کا متبادل نہیں بلکہ اس کا مددگار ہونا چاہیے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب روایتی معاشی محرکات (ٹیکسٹائل وغیرہ) توقع سے کم کارکردگی دکھا رہے ہیں، یہ نیا راستہ ایک خوش آئند اور بروقت سہارا فراہم کرتا ہے۔اگر پاکستان میدانِ جنگ میں حاصل کردہ ساکھ کو صنعتی اعتبار میں بدل سکے، اور صنعتی اعتبار کو بار بار کے آرڈرز میں، تو اس کے اثرات صرف دفاع تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایسے ملک کے لیے جو قابلِ عمل برآمدی راستوں کی تلاش میں ہے، یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی جس پر مزید ترقی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

