اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی حراست کے دوران ملزم کی ہلاکت ایس ایس پی انویسٹیگیشن عثمان طارق بٹ پر سنگین الزامات، انسانی حقوق تنظیم کا ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وفاقی دارالحکومت کی مثالی کہلانے والی پولیس ایک بار پھر سنگین الزامات کی زد میں آ گئی جب غیر قانونی حراست کے دوران ایک زیرِ حراست ملزم مبینہ طور پر انسانیت سوز تشدد کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ واقعے میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان طارق بٹ کا کردار براہِ راست سامنے آ رہا ہے، جس پر متاثرہ شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر دنوں تک حبسِ بےجا میں رکھنے اور مسلسل جسمانی تشدد کے احکامات دینے کا الزام ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق، ترنول پولیس نے اعلیٰ افسران کے زبانی احکامات پر بنوں سے تعلق رکھنے والے ایک اشتہاری ملزم کو میانوالی سے گرفتار کیا۔
ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ کے نام پر حراست میں رکھا گیا جہاں اسے دیگر جرائم کا اعتراف کرانے کے لیے مبینہ طور پر شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو اس کی موت کا سبب بنا زرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن گرفتاری سے لے کر موت تک تفتیشی ٹیم کو مسلسل احکامات جاری کرتے رہے،پولیس نے واقعے کے بعد اے ایس آئی رانا سلیم، کانسٹیبل ظہیر احمد اور ساجد محمود کے خلاف قتل اور پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155-C کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاہم ایس ایس پی کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا،معروف انسانی حقوق تنظیم نے اس اقدام کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ذمہ دار کو بچانے کے لیے نچلے درجے کے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے تنظیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل عدالتی تحقیقات ہو سکیں اور اعلیٰ افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،تنظیم کے ترجمان نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے از خود نوٹس لینے اور متعلقہ پولیس آفیسر کو عہدے سے برطرف کر کے اس کے خلاف شہری کے ماورائے عدالت قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے،انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی غیرجانبدارانہ انکوائری کرائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔

