LOADING

Type to search

Karachi National

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) جناح اسپتال انتظامی بحران کا شکار

Share

کراچی (رپورٹ : پیر بخش نوناری ) کراچی جناح اسپتال میں انتظامی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اسپتال کے وفاقی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) کے کنٹریکٹ ملازمین کے درمیان تنازعات سنگین صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سندھ ہائی کورٹ نے پروفیسر ڈاکٹر کوثر کی گریڈ 20 میں ترقی معطل کرتے ہوئے تمام فریقین کو 12 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔ ڈاکٹر کوثر کی ترقی کے خلاف ڈاکٹر سلیمان اور ڈاکٹر یحییٰ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔جناح اسپتال میں غیر قانونی ترقیوں اور عہدوں کے تنازعات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ ملازمین ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا رہے ہیں، جس سے اسپتال کا ماحول کشیدہ ہو گیا ہے۔ پروفیسر شاہد رسول کی حالیہ پریس کانفرنس نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔ ان کی تقرری کو فیکلٹی ممبرز ڈاکٹر نازش اور ڈاکٹر ارم نے چیلنج کر رکھا ہے۔ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر سلیمان، جو ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، خود کو غیر قانونی طور پر جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر ظاہر کر رہے ہیں۔ اس تنازعے میں فیکلٹی ممبران کے درمیان عدالتی مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت پروفیسر جہان عالم اسپتال کے سینئر ترین فیکلٹی ممبر ہیں، اور ان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر تقرری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اسپتال کے انتظامی معاملات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ JSMU انتظامیہ جناح اسپتال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 3 دسمبر کو ایک ہی دن میں 9 فیکلٹی ممبران کی ترقی اسی منصوبے کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔ JSMU انتظامیہ اسپتال کے موجودہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔جناح اسپتال کی موجودہ صورت حال نہ صرف انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ مریضوں کی دیکھ بھال اور اسپتال کی ساکھ پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ معاملے کے حل کے لیے سندھ ہائی کورٹ کی 12 دسمبر کی سماعت انتہائی اہمیت رکھتی ہے، جس میں ممکنہ طور پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »