LOADING

Type to search

LAHORE National

لاہور (ڈیجیٹل پوسٹ) ٹیٹرا پیک اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی جانب سے کارٹن ری سائیکلنگ پر لاہور کے اسکول کی پذیرائی

Share

لاہور، 29 اکتوبر (ڈیجیٹل پوسٹ): ٹیٹرا پیک پاکستان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اپنی مشترکہ ری سائیکلنگ آگاہی مہم کے تحت 173 کلو استعمال شدہ مشروبات کے خالی ڈبے، جن کی تعداد تقریباً 12 ہزار 110 ہے، جمع کرنے پر لاہور کے کریسنٹ ماڈل گرلز ہائی اسکول کو سراہا۔ اسکول نے سینٹرل ریجن میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جس پر اسے استعمال شدہ ٹیٹرا پیک کے ڈبوں کو ری سائیکل کر کے ان سے تیار کردہ فرنیچر کو بطور انعام پیش کیا گیا، تاکہ طالبات کو ری سائیکلنگ کے حوالے سے ایک مثبت پیغام بھی دیا جا سکے۔ تقریب میں دیگر سرگرمیوں کاانعقاد کیا گیا،جس میں ٹیٹرا پیک کے کردار کیپٹن ڈبلو کے ساتھ طلبہ کے مختصر سوال و جواب کا سیشن اور پانی کے تحفظ سے متعلق طالبات کی پرفارمنس خصوصی توجہ کا مرکز رہیں ۔

ٹیٹرا پیک پاکستان کے سسٹین ایبلٹی مینجر، محمد بن شہزاد نے کہا، ”آج کے طلبہ صرف کل کے رہنما نہیں بلکہ آج بھی مثبت تبدیلی لانے کا ایک اہم زریعہ ہیں ۔ ان کا ہر ذمہ دارانہ فیصلہ کلاس روم سے باہر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ساتھ ہماری شراکت داری نہ صرف ٹیٹرا پیک کے استعمال شدہ ڈبے جمع کرنے اورانھیں ری سائیکل کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ نئی نسل کو باخبر اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے اور اپنے معاشرے کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے .”

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا، ” جب نوجواں نسل کو عمل کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ٓاگاہی کو ذمہ داری میں بدل سکتے ہیں ۔کریسنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول کی طالبات نے یہ ثابت کردیا کہ ماحولیاتی تحفظ کا

آغاز کلاس روم سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ کے منیجنگ ٹرسٹی میاں الطاف سلیم نے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور ٹیٹرا پیک پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور منصوبے میں طلبہ اور اساتذہ کی بھرپور شرکت کو بھی سراہا۔

ٹیٹرا پیک پاکستان کے تعاون سے 2017 سے جاری اس منصوبے کے تحت کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، واہ کینٹ اور خانپور (رحیم یار خان) میں ری سائیکلنگ سے متعلق 79 تربیتی سیشن منعقد کیے گئے۔ ان سیشنز کے ساتھ اسکولوں کے درمیان استعمال شدہ مشروبات کے خالی ڈبے جمع کرنے کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا، تاکہ طلبہ اپنی حاصل کردہ معلومات کو عملی اقدامات میں بدل سکیں ۔ اس مقابلے میں 47 اسکولوں نے حصہ لیا۔

کریسنٹ ماڈل گرلز ہائی اسکول، لاہور نے سینٹرل ریجن میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور 173 کلوگرام استعمال شدہ مشروبات کے کارٹن جمع کیے ، جو تقریباً 12,110 کارٹن کے برابر ہیں ۔ اسکول کی ان کوششوں کے اعتراف میں اسے منصوبے کے تحت جمع کیے گئے خالی پیک سے تیار کردہ فرنیچر فراہم کیا گیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے شعبہ ماحولیاتی تعلیم کے زیرِ انتظام ری سائیکلنگ آگاہی منصوبہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے اور کچرے کی ذمہ دارانہ تلفی کے طریقوں کو شامل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آگاہی سیشنز کے ساتھ عملی سرگرمیوں کو شامل کرکے یہ منصوبہ طلبہ کو اپنے

اسکولوں اور مقامی آبادی میں کچرا کم کرنے اور ری سائیکلنگ کو فروغ دینے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

دنیا بھر میں قدرتی وسائل کے استعمال کی رفتار اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ۔ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق 2050 تک دنیا میں سالانہ کچرے کی مقدار میں 73 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ دنیا کو فوری طور پر ایسے نئے طریقے اپنانے کی ضرورت ہے جو سرکلر اکانومی کو فروغ دیں ، جس میں استعمال شدہ مواد کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کیا جائے اور قدرتی ماحول کو بحال کیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »