LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) یہ لڑکی کا معاملہ ہے، برادریوں کی جنگ نہیں عباسی کی لڑکی گجر کی لڑکی ہے

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ہمارے معاشرے میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک گھر کی چار دیواری سے نکلتے ہیں، مگر دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کے سکون، دو خاندانوں کے تعلقات اور دو برادریوں کے باہمی احترام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ گھر سے کسی لڑکی یا لڑکے کا اپنی مرضی سے چلے جانا بھی ایسا ہی ایک حساس معاملہ ہے۔ ایسے موقع پر سب سے زیادہ ضرورت عقل، تحمل اور قانون کی ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اکثر جذبات کو عقل پر غالب آنے دیتے ہیں۔
حال ہی میں برخردار احتشام چودھری کی ایک پوسٹ کے نیچے ایوب جدون صاحب نے ایک نہایت خوبصورت، متوازن اور قابلِ غور تبصرہ کیا۔ میں نے ان سے اجازت لے کر ان کے خیالات کو اپنے اس کالم کا حصہ بنایا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایک عام آدمی کی سیدھی اور سچی بات پورے معاشرے کے لیے آئینہ بن جاتی ہے۔ ان کی بات کا بنیادی مفہوم یہی تھا کہ ایک گھریلو معاملے کو دو برادریوں کے درمیان دشمنی کا سبب نہیں بننا چاہیے اور کسی بے گناہ خاندان کو دھمکی، دباؤ یا اجتماعی سزا کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک بالغ لڑکی یا لڑکا اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر چلا جائے تو کیا اس کا بدلہ کسی دوسری برادری کے پورے خاندان سے لیا جا سکتا ہے؟ کیا کسی کا راستہ روکنا، دکانیں بند کروانا، دھمکیاں دینا یا لوگوں کو خوف زدہ کرنا کسی مسئلے کا حل ہے؟ میرے خیال میں ہر صاحبِ عقل انسان کا جواب یہی ہوگا کہ ہرگز نہیں۔
خوشی کی بات ہے کہ لورا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت افتخار خان عباسی صاحب نے بھی اس موقع پر واضح بات کی کہ ظلم نہ کرو، کسی کا راستہ روکنا اور کسی کی دکانیں بند کروانا کوئی طریقہ نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو ایسے حساس حالات میں سنائی دینی چاہیے۔ دکھ اپنی جگہ، غصہ اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کا راستہ روک دینا یا اس کا کاروبار بند کرا دینا انصاف نہیں۔
میں یہ بات محض ایک باہر بیٹھے ہوئے شخص کی حیثیت سے نہیں کہہ رہا۔ لورا کے لوگوں سے میرے تعلقات آج کے نہیں، کئی دہائیوں پرانے ہیں۔ وہاں میرے ایسے دوست اور محسن موجود ہیں جن کے ساتھ میری زندگی کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔
سردار عنایت الرحمن عباسی صاحب کے ساتھ ہمارا تعلق بہت پرانا ہے اور وہ ہمارے محسن ہیں۔ محسنوں کے ساتھ تعلق صرف سلام دعا کا نام نہیں ہوتا، ان کے احسانات اور محبتیں زندگی بھر یاد رہتی ہیں۔ اسی طرح ارشد عباسی میرے بہترین دوستوں میں سے ہیں۔ ایسے دوستوں کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مجھے یہ سمجھائے کہ گجروں اور عباسیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جائے تو میں اسے کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
جہانگیر عباسی، اعظم ہسپتال والے، ہمارے گھریلو ڈاکٹر ہیں۔ ان کے ساتھ بھی ہمارا تعلق اعتماد اور محبت کا ہے۔ لورا میں میرے بے شمار دوست ہیں۔ میرے نہایت اچھے دوست اشرف عباسی پینا والے مرحوم تھے۔ ان کی اولاد آج بیرون ملک اپنے نام اور اپنے خاندان کا نام روشن کر رہی ہے۔ اشتیاق عباسی کا ذکر آئے تو بھی ایک پرانی دوستی اور تعلق یاد آتا ہے۔
پھر مقبول عباسی مرحوم کو کون بھول سکتا ہے؟ بریگیڈیئر تاج عباسی کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا اور ان کے صاحبزادے راشد یار سے بھی تعلق ہے۔ میرے سیاسی استاد مطب خان صاحب بھی عباسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آخر میں کس کس کا نام لوں؟ یہ تو صرف چند نام ہیں، ورنہ لورا اور عباسی خاندانوں کے ساتھ میرے تعلقات کی داستان بہت طویل ہے۔
تو پھر میں کیسے یہ برداشت کر سکتا ہوں کہ کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر گجروں اور عباسیوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے؟
میں خود گجر ہوں اور عباسی خاندانوں کے ساتھ ہمارے رشتے بھی ہوئے ہیں، رشتے دیے بھی ہیں اور لیے بھی ہیں۔ یہ تعلق صرف برادری تک محدود نہیں بلکہ گھریلو، ذاتی اور قلبی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ہماری خوشیاں بھی مشترک رہی ہیں، غم بھی مشترک رہے ہیں اور مشکل وقت میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے بھی ہوتے رہے ہیں۔
لیکن اس سارے معاملے میں ایک اور بات نے مجھے زیادہ افسردہ کیا ہے: ہمارے منتخب نمائندوں کی خاموشی۔
ہمارے صوبائی اسمبلی کے رکن رجب عباسی صاحب ہوں، ان کے بھائی ساجد علی ہوں، یا ہمارے علاقے کے دوسرے بڑے منتخب نمائندے، خواہ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہو یا مسلم لیگ ن سے، میری نظر میں ایسے مواقع پر انہیں خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے۔ میں کسی فرد کی نیت پر حکم نہیں لگا رہا، مگر سوال ضرور اٹھا رہا ہوں کہ جب معاشرے میں دو خاندانوں یا دو برادریوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو ہمارے منتخب نمائندے کہاں ہوتے ہیں؟
اگر عوام نے انہیں اسمبلیوں میں بھیجا ہے تو صرف ووٹ لینے کے لیے نہیں بھیجا۔ ان کا اصل امتحان بھی ایسے ہی وقت میں ہوتا ہے جب کوئی مشکل معاملہ سامنے آئے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید کوئی رکن اس خوف سے آواز نہیں اٹھا رہا کہ کہیں اس کے بزرگ ووٹر ناراض نہ ہو جائیں، یا کسی کو خدشہ ہو کہ کہیں عباسی ووٹ ناراض نہ ہوجائیں، کہیں گجر ووٹ ناراض نہ ہوجائیں۔
اگر منتخب نمائندہ ہر بات ووٹ کے ترازو میں تول کر کرے گا تو پھر انصاف کہاں سے آئے گا؟
عمران خان کا سیاسی نعرہ ہی انصاف تھا۔ ہم نے برسوں یہ بات سنی اور کہی کہ انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے، کمزور کے لیے بھی اور طاقتور کے لیے بھی، اپنے لیے بھی اور مخالف کے لیے بھی۔ پھر اگر ہمارے اپنے لوگ اسمبلیوں میں پہنچ کر کسی ایسے معاملے پر خاموش ہو جائیں جہاں معاشرتی امن کو خطرہ ہو تو یہ سوال تو ضرور پیدا ہوگا کہ کیا اقتدار کی کرسی نے ہماری آواز کمزور کر دی ہے؟
یہ صرف پی ٹی آئی کے لوگوں کا سوال نہیں۔ مسلم لیگ ن اور دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے بھی اسی معاشرے کے نمائندے ہیں۔ سیاست اپنی جگہ، برادری اپنی جگہ، مگر جب معاملہ امن، عزت اور شہری حقوق کا ہو تو نمائندے کو اپنی جماعت اور ووٹ بینک سے اوپر اٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
میری گزارش کسی ایک شخص کے خلاف نہیں؛ یہ سب سے ہے۔ اگر آپ واقعی عوام کے نمائندے ہیں تو ایسے موقع پر سامنے آئیے، دونوں فریقوں کو سنیں، بزرگوں کو بٹھائیں، قانون کی بات کریں اور لوگوں کو یقین دلائیں کہ کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔
اگر لڑکے سے غلطی ہوئی ہے تو قانون موجود ہے۔ اگر لڑکی نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو اس کے قانونی پہلو موجود ہیں۔ والدین کو دکھ پہنچا ہے تو ان کے دکھ کو سمجھا جائے۔ لیکن کسی دوسرے خاندان کے ہر فرد کو مجرم سمجھ لینا انصاف نہیں۔
اگر لڑکی بالغ ہے تو قانون اس کے بیان اور مرضی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ آئین کسی شخص کی زندگی اور آزادی کو قانونی تحفظ دیتا ہے، جبکہ اظہارِ رائے اور صحافت کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔
اسی طرح اگر کسی خاندان پر الزام ہے تو الزام ثابت ہونے سے پہلے اسے اجتماعی سزا دینا بھی انصاف نہیں۔ جرگہ، پنچایت، برادری یا بااثر افراد کسی شہری کو قانون سے بالاتر ہو کر سزا نہیں دے سکتے۔
اور اگر کسی کو دھمکایا جاتا ہے تو یہ محض اخلاقی طور پر غلط بات نہیں؛ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 503 مجرمانہ دھمکی کی تعریف کرتی ہے اور دفعہ 506 اس کی سزا سے متعلق ہے۔
اسی لیے اگر کوئی صحافی اس معاملے پر لکھتا ہے، سوال اٹھاتا ہے یا کسی فریق کی بات عوام تک پہنچاتا ہے تو اسے دھمکانا بھی کسی صورت درست نہیں۔ صحافی کی بھی ذمہ داری ہے کہ خبر کی تصدیق کرے، کسی کی عزت اچھالنے سے بچے اور غیر مصدقہ الزام نہ لگائے، لیکن اگر وہ ذمہ داری کے ساتھ کوئی معاملہ سامنے لاتا ہے تو اسے دھمکی دے کر خاموش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
اگر صحافی خوف کے باعث خاموش ہو جائیں تو پھر کمزور آدمی کی آواز کون بنے گا؟
خدا کے لیے، عباسیوں اور گجروں کے درمیان ایسا مسئلہ پیدا نہ کریں۔ یہ دونوں ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہمارے درمیان رشتے ہوئے ہیں، رشتے دیے بھی گئے ہیں اور لیے بھی گئے ہیں۔ میرے اپنے تعلقات اس بات کا زندہ ثبوت ہیں۔ سردار عنایت الرحمن عباسی جیسے محسن، ارشد عباسی جیسے بہترین دوست، جہانگیر عباسی جیسے قابلِ اعتماد لوگ اور بے شمار دوسرے تعلقات کسی ایک واقعے سے ختم نہیں ہو سکتے۔
آخر یہ لڑکا بھی کسی کا بچہ ہے اور لڑکی بھی کسی کی بیٹی ہے۔ غلطی دونوں سے ہو سکتی ہے۔ فیصلے دونوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے عمل کو بنیاد بنا کر ہزاروں لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟
ہمیں زمانۂ جاہلیت کی اس سوچ سے باہر نکلنا ہوگا جس میں ایک فرد کی غلطی پوری برادری کی عزت کا مسئلہ بن جاتی تھی اور پھر بدلے کا سلسلہ نسلوں تک چلتا تھا۔ آج ہمارے پاس قانون ہے، عدالت ہے، پولیس ہے، انتظامیہ ہے اور بات چیت کے بے شمار راستے ہیں۔ پھر ہم اپنے ہاتھ میں قانون کیوں لیں؟
میری لورا کے تمام معززین سے، خصوصاً عباسی اور گجر بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو مزید نہ بڑھایا جائے۔ جس کا جو قانونی حق ہے، وہ قانون سے حاصل کرے۔ والدین کے دکھ کا مداوا ہمدردی سے کیا جائے، الزام کا فیصلہ عدالت پر چھوڑا جائے اور کسی بے گناہ کو اجتماعی سزا نہ دی جائے۔
اور میرے منتخب نمائندوں سے بھی ایک گزارش ہے: ووٹ صرف الیکشن کے دن نہیں، ہر مشکل وقت میں آپ کی امانت ہے۔ اگر آپ انصاف کی بات صرف اس وقت کریں گے جب آپ کے ووٹ محفوظ ہوں تو پھر عوام آپ سے یہ سوال ضرور کریں گے کہ آپ کو اسمبلی تک پہنچانے کا مقصد کیا تھا؟
کسی کا راستہ نہ روکا جائے، کسی کی دکان بند نہ کرائی جائے، کسی کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے اور کسی صحافی کو سچ لکھنے پر دھمکایا نہ جائے۔
برادریاں دشمن بنانے کے لیے نہیں، مشکل وقت میں سہارا دینے کے لیے ہوتی ہیں۔ رشتے نفرت پھیلانے کے لیے نہیں، دل جوڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔ عزت کسی دوسرے کی بے عزتی سے حاصل نہیں ہوتی۔
لڑکی کا معاملہ قانون سے حل ہوگا، لڑکے کا معاملہ بھی قانون سے حل ہوگا، لیکن عباسیوں اور گجروں کے درمیان جو محبت، رشتوں اور اعتماد کا تعلق برسوں میں بنا ہے، اسے کسی ایک واقعے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
خدا کے لیے، ایک گھر کے مسئلے کو دو برادریوں کی جنگ نہ بنائیں۔ اور ہمارے منتخب نمائندے خاموش نہ رہیں۔ آج اگر انہوں نے امن، انصاف اور برداشت کے لیے آواز اٹھائی تو کل لوگ کہیں گے کہ ہمارے نمائندے واقعی ہمارے کام آئے تھے۔
نفرت کی آگ لگانا آسان ہے، اسے بجھانے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔ جو رشتے ہمارے بزرگوں نے محبت سے بنائے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں غصے کے ایک لمحے میں توڑنے کے بجائے مضبوط کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »