اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سیاسی اداکار یا درباری قوال
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ہمارے معاشرے میں ایک عجیب مخلوق پائی جاتی ہے۔ یہ نہ مکمل سیاسی کارکن ہوتی ہے، نہ باقاعدہ مشیر نہ دانشور نہ خدمت گار مگر بڑے آدمی کے اردگرد اس طرح منڈلاتی ہے جیسے دربار کے بغیر درباری قوال اس کی اپنی کوئی شناخت ہی نہ ہو۔ انہیں آپ سیاسی مشیرِ خاص کرِۂ خاص درباری یا پھر درباری قوال وفادار ساتھی یا حلقۂ خاص کچھ بھی کہہ لیجیے کام تقریباً ایک ہی ہوتا ہے صاحب کے ہر جملے پر واہ واہ کرنا اور ہر غلطی کو حکمتِ عملی ثابت کرنا۔
ان کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ صاحب کہیں سورج مغرب سے نکلتا ہے تو یہ فوراً کہیں گے
جناب آپ نے تو آج سائنس کا رخ ہی بدل دیا
صاحب اگر غلطی کریں تو کہیں گے
سریہ غلطی نہیں دور اندیشی ہےصاحب کسی نالائق کو نوازیں تو سرآپ نے کمال کی بندہ شناسی ہے سبحان اللہ
خوشامد اس وقت خطرناک ہوتی ہے جب کسی بڑے عہدے، منصب، روحانی مقام یا سیاسی اختیار کے گرد چند لوگ ایسا حصار بنا دیں کہ صاحب کو حقیقت کی آواز سنائی ہی نہ دے آخرکار صاحب کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں آئینہ بھی ان سے ڈر کر صرف وہی چہرہ دکھاتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی تمیزِ حق و باطل، درست و غلط اور خیر و شر دھندلا ہونا شروع ہو جاتی ہے جو حکمران سچ سننا چھوڑ دیتے ہیں، وہ اکثر خوشامد سننے والوں کے ہاتھوں اپنی حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں
جس شخص کو عوام کے مسائل دیکھنے تھے وہ اپنے حلقۂ خاص کے چہرے پڑھنے لگتا ہے اور اس آدمی کی خوشامدپورے نظام کی بدقسمتی بن جاتی ہے خوشامدی کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ صاحب سے فائدہ لے لے
اس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ صاحب کو اس بات پر قائل کر دے کہ اس کے بغیر صاحب کچھ بھی نہیں ہے
آپ کے بغیر یہ علاقہ نہیں چل سکتاآپ کے بغیر سیاست نہیں چل سکتی آپ کے بغیر تو شاید دنیا ہی نہیں چل سکتی صاحب مسکراتے ہیں سیاسی اداکار جھکتے ہیں قوال اپنا راگ دوباری خاص انداز میں پڑھتے ہیں باقی لوگ تالیاں بجاتے ہیں دنیا تو آپ سے پہلے بھی چل رہی تھی
کاش یہ اگر آپ کو معلوم ہوتا
سب سے افسوسناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کوئی ذمہ داری، منصب یا اختیار عطا کرے مگر وہ اپنے اصل فرض کے بجائے درباریوں کی محفل میں مصروف ہو جائے کیونکہ جب اردگرد صرف “جی حضور” ہو تو ایک وقت آتا ہے کہ “جناب، یہ غلط ہے” کہنے والا شخص سب سے خطرناک آدمی محسوس ہونے لگتا ہے
علما و مشائخ کے گرد بھی ایک نسلِ دربار ی قوال پائی جاتی ہے جو خوشامد کو عقیدت، چاپلوسی کو ادب اور ہر واہ واہ کو روحانیت بنا دیتی ہے صاحب کھانسیں تو کرامت، خاموش ہوں تو حکمت یوں یہ درباری اپنے مرشد کو عاجزی اور خدمتِ خلق سے اٹھا کر خود پسندی کے منبر پر بٹھا دیتے ہیں
اقتداردولت منصب شہرت اور روحانی مقام یہ سب انسان کے امتحان ہیں سب سے خطرناک سوال یہ ہے آپ کے دوست نما دشمن ہیں آپ کیسے ان سے محفوظ رہیں اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ منصب و اختیار کو شامت کے وقت، مفاد پرستی چاپلوسی کے زہر اور درباری قوالوں کی لعنت سے محفوظ رکھے ایسے لوگوں سے بچائے جو ذاتی مفاد کے لیے صاحبِ اختیار کو حقیقت سے دور خوش فہمی کے قریب اور ایسے راستے پر لے جاتے ہیں جہاں انسان اپنے اختیار کا مالک نہیں رہتا بلکہ اپنے ہی بنائے ہوئے دربار کا قیدی بن جاتا ہے
سیاست، اقتدار اور سرکاری نظام میں جب خوشامدمفاد پرستی چاپلوسی اور درباری قوالوں کو سچ بولنے والوں پر ترجیح ملنے لگے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا ادارے کمزور ہوتے ہیں فیصلے حقیقت سے دور ہوتے ہیں اور ملک ایسے مسائل میں گھِر جاتا ہے جن میں سے بہت سے مسائل آج ہمارے ملک کو درپیش ہیں ان کا سدباب کسی اور نے نہیں خود صاحبانِ اختیار خود نے کرنا ہے تاریخ میں بڑے بڑے تخت تلوار سے کم اور درباری قوالوں کی واہ واہ سے زیادہ کمزور ہوئے ہیں بادشاہوں کو تلوار سے کم خوشامدیو ں سے زیادہ نقصان ہوا ہے

