اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن عام شہری کو مشکلات میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان کی تاریخ سیاسی ہلچل، دھرنوں، احتجاجوں اور سیاسی تصادم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی اختلاف، احتجاج اور حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنا عوام اور سیاسی جماعتوں کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی نعرے بازی اور طاقت کے مظاہرے کی قیمت ہمیشہ ایک عام، بے بس اور محنت کش شہری کو چکانی پڑتی ہے۔ جب بھی کوئی سیاسی جماعت سڑکوں پر نکلتی ہے، راستہ روکتی ہے یا پہیہ جام ہڑتال کی کال دیتی ہے، تو سب سے پہلے عام آدمی کا جینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی قائدین اور ان کے پیروکاروں کے باہمی اختلافات کا خمیازہ وہ عام شہری کیوں بھگتے جس کا ان کے اقتدار اور مفادات کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں؟
سیاسی اختلاف کی حد اور جمہوریت کا اصل روح
جمہوریت کی بنیاد برداشت، باہمی احترام اور رائے کی آزادی پر ہوتی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 اور 17 شہریوں کو پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کا حق دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی ایک شہری کے حق کی شروعات وہاں سے ہوتی ہے جہاں سے دوسرے شہری کے بنیادی حقوق شروع ہوتے ہیں۔
جب سیاسی احتجاج کی نام پر مرکزی شاہراہیں بلاک کر دی جاتی ہیں، شہروں کا رابطہ منقطع کر دیا جاتا ہے اور کاروباری مراکز زبردستی بند کروا دیے جاتے ہیں، تو یہ پرامن احتجاج نہیں رہتا بلکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکا بن جاتا ہے۔ آئین ہر شہری کو آمد و رفت کی آزادی، روزگار کمانے کی آزادی اور تحفظِ زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ کیا سیاست کے نام پر عام آدمی کے ان بنیادی حقوق کو سلب کر لینا کسی طور جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
عام شہری کی زندگی پر اثرات: چند تلخ حقائق
سیاسی کھینچ تان اور راستوں کی بندش سے عام آدمی کو کن کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو اس صورتحال کا شکار ہوتا ہے۔
1. صحت کے مسائل اور انسانی جانوں کا زیان
راستے بند ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر شعبہ صحت ہوتا ہے۔ سڑکوں پر لگی لمبی قطاروں اور رکاوٹوں (کنٹینرز) کی وجہ سے ایمبولینسیں گھنٹوں پھنسی رہتی ہیں۔ کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ کوئی دل کا مریض یا شدید زخمی شخص وقت پر ہسپتال نہ پہنچنے کے باعث دم توڑ جاتا ہے۔ کسی غریب ماں کی گود اجڑ جاتی ہے، یا کوئی بچہ باپ کے سائے سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیا کسی سیاسی جماعت کا کوئی مقصد اس بات کا ازالہ کر سکتا ہے کہ ایک بے گناہ کی جان سیاسی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ جائے؟
2. دیہاڑی دار طبقہ اور معاشی پسپائی
پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی کماتے ہیں اور رات کو اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ریڑھی والے، دہاڑی دار مزدور، ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور، اور چھوٹے دکاندار احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ایک دن کا پہیہ جام ان غریبوں کے گھر میں چولہا ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا اثر اور دوسری طرف سیاسی خلفشار ان کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔
3. تعلیم اور طلبا کا مستقبل
شہروں میں ناکہ بندی اور خوف و ہراس کے ماحول سے سکول، کالج اور جامعات بند کرنی پڑتی ہیں۔ امتحانات ملتوی ہو جاتے ہیں اور بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ طلبا جو پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، ان سیاسی ہنگاموں کی وجہ سے مزید ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
4. روزمرہ کاروبار اور قومی معیشت کو نقصان
ملک کی پہلے سے نازک معیشت ایسے احتجاجوں اور بندشوں سے مزید زوال پذیر ہوتی ہے۔ کاروباری مراکز بند رہنے سے اربوں روپے کا نقصان روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی فراہمی منقطع ہونے سے مارکیٹ میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جس کا بوجھ بھی بالآخر عام صارف پر ہی پڑتا ہے۔
ریاست اور حکومت کا کردار: رکاوٹیں یا حل؟
اس پورے عمل میں جہاں سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہیں، وہاں حکومتوں کی حکمتِ عملی پر بھی گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔ اپوزیشن کے احتجاج کو روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنا، ایندھن کی فراہمی روکنا اور انٹرنیٹ یا موبائل سروسز کو معطل کر دینا حل کے بجائے مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی زندگی کو آسان بنائے، نہ کہ سیاسی حریفوں سے نمٹنے کے لیے پورے شہر کو قید خانے میں تبدیل کر دے۔ انتظامیہ جب پورے شہر کو بلاک کر دیتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ شہریوں پر غیر اعلانیہ کرفیو مسلط کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کو ہینڈل کرنے کے لیے سیاسی اور سیکیورٹی تدابیر اپنائی جانی چاہئیں، نہ کہ پورے۔شہر کے راستے بند کر کے عام عوام کی زندگی اجیرن کی جائے۔
سیاسی رہنماؤں کے لیے لمحہ فکریہ
ہمارے سیاسی رہنما ہمیشہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی تمام تر جدوجہد عوام کی خوشحالی، جمہوریت کی بقا اور حقوق کی فراہمی کے لیے ہے۔ لیکن اگر اس جدوجہد کے نتیجے میں عوام ہی ذلیل و خوار ہو رہے ہوں، تو یہ کیسی عوام دوستی ہے؟
کیا جمہوریت صرف اقتدار کے حصول کا نام ہے؟
کیا عام آدمی کے سکون اور تحفظ کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا کوئی ایسی سیاست ممکن نہیں جہاں احتجاج بھی ہو اور عام شہری کا راستہ بھی نہ روکا جائے؟
دنیا کے تمام جدید اور جمہوری ممالک میں احتجاج کے لیے مخصوص سائٹس (যেমন لندن میں Speakers’ Corner یا مخصوص میدان) فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہاں نہ سڑکیں بلاک کی جاتی ہیں اور نہ ہی کاروبارِ زندگی مفلوج کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے احتجاج کی کامیابی کا معیار اس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ شہر کتنی شدت سے بند ہوا اور عوام کو کتنی تکلیف پہنچی۔ اس سوچ کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے۔
حل اور پیش رفت کا راستہ
اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے اور عام شہری کو سیاسی تصادم کا ہدف بننے سے بچانے کے لیے ذیل میں چند اہم اقدامات تجاویز کی صورت میں پیش کیے جاتے ہیں:
احتجاج کے لیے مخصوص سائٹس کی حد بندی: حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں باہمی مشاورت سے ہر بڑے شہر میں ایک ایسی جگہ (میدان یا پارک) مختص کریں جہاں سیاسی جماعتیں اپنے جلسے اور احتجاج ریکارڈ کروائیں، تاکہ شہر کا باقی نظام معمول کے مطابق چلتا رہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے احکامات پر عملدرآمد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ماضی میں دیے گئے واضح احکامات جن میں شاہراہوں کی بندش اور عام شہریوں کی آزادی پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے، ان پر سختی سے عمل کروایا جائے۔
سیاسی ضابطہ اخلاق (Code of Conduct): تمام سیاسی جماعتیں مل کر ایک ایسا ضابطہ اخلاق تیار کریں جس کے تحت یہ طے پائے کہ چاہے سیاسی اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ اور عام سڑکوں کو کبھی بند نہیں کیا جائے گا۔
حکومتی حکمتِ عملی میں تبدیلی: حکومت کو چاہیے کہ کنٹینرز کی سیاست اور شہروں کو بلاک کرنے کی روش ختم کرے۔ اپوزیشن سے بات چیت اور سیاسی حل تلاش کرنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔
عوامی شعور اور مدنی معاشرہ (Civil Society): سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو اس نقطے پر متحد ہونا ہوگا کہ وہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والی کسی بھی تحاریک کی حمایت نہیں کریں گے۔ جب تک عوام خود اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے، سیاسی جماعتیں انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی رہیں گی۔
نتیجہ
سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہو سکتے ہیں، لیکن جب یہ اختلافات عام آدمی کی زندگی کے لیے عذاب بن جائیں تو یہ جمہوریت کے لیے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ کوئی بھی نعرہ، کوئی بھی سیاسی نظریہ اور کسی بھی جماعت کا کوئی بھی مقصد ایک بے گناہ شہری کے آرام، اس کی روزی روٹی اور اس کی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔
وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما، حکمران اور ریاستی ادارے مل بیٹھ کر اس بات کا فیصلہ کریں کہ سیاست دانوں کا تصادم ان کی اپنی حد تک رہے گا۔ عام شہری کو اس آگ میں ایندھن نہیں بنایا جانا چاہیے۔ شہریوں کی حفاظت، ان کی عزتِ نفس اور ان کی روزمرہ کی زندگی میں روانی کو یقینی بنانا ہی ایک سچی اور حقیقی جمہوریت کی سب سے بڑی معراج ہے۔

