LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معاشی استحکام کا سفر اور عام آدمی

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معیشت کی اصل کہانی بجٹ کی کتابوں، اسٹاک مارکیٹ کے گراف یا زرمبادلہ کے اعداد میں مکمل نہیں ہوتی۔ اس کی اصل تصویر اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام آدمی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتے ہوئے اپنے روزانہ کے خرچ کا حساب کرتا ہے، دکاندار اگلے ماہ کے کاروبار کے بارے میں سوچتا ہے اور ایک نوجوان یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے لیے روزگار کا دروازہ کھلے گا یا نہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام کا اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست کے مالی معاملات بہتر ہونے کے ساتھ اس کا اثر عام زندگی میں بھی محسوس ہو۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں کے مشکل معاشی حالات سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط، زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے، آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو اپنی معاشی حکمت عملی کے اہم نکات میں شامل رکھا ہے۔

آئی ایم ایف کے مئی 2026 کے جائزے کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کی معاشی سرگرمی میں بہتری آئی، افراطِ زر مجموعی طور پر قابو میں رہا، کرنٹ اکاؤنٹ بڑی حد تک متوازن رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی توقعات سے بہتر رہی۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے تیسرے EFF جائزے اور دوسرے RSF جائزے کی تکمیل کے بعد تقریباً 1.1 ارب ڈالر EFF اور تقریباً 220 ملین ڈالر RSF کے تحت جاری کرنے کی منظوری دی، جس سے دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی رقوم تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

یہ اعداد اہم ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ یہ استحکام کتنی دیر قائم رہتا ہے اور اس کے فوائد معیشت کے مختلف طبقات تک کس رفتار سے پہنچتے ہیں۔ بحران سے نکلنا ایک مرحلہ ہے، مضبوط اور پائیدار معیشت بنانا اس سے کہیں بڑا مرحلہ ہے۔

پاکستان کے لیے چیلنج صرف اندرونی معاشی مسائل تک محدود نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی اور اجناس کی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے ملک کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتا ہے جہاں توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے عالمی اجناس کی قیمتوں، افراطِ زر اور بیرونی کھاتے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی پالیسی کا تعلق براہِ راست عام آدمی سے جڑ جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ ٹرانسپورٹ، کاروباری لاگت، اشیائے ضروریہ اور گھریلو بجٹ تک اس کی لہریں پہنچتی ہیں۔ خصوصاً موٹر سائیکل پر روزگار کے لیے سفر کرنے والا شہری اس دباؤ کو روزانہ محسوس کرتا ہے۔

اسی عالمی دباؤ کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے کم آمدن والے طبقات کے لیے ہدفی فیول ریلیف اسکیم شروع کی۔ ابتدائی طور پر موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف مقرر کیا گیا۔ بعد میں عوامی فیڈ بیک کی بنیاد پر موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے، جو پانچ لیٹر سے کم پٹرول ڈلواتے ہیں، ایک ٹوکن کے ذریعے ہفتہ وار 500 روپے ریلیف کا طریقہ اختیار کیا گیا۔

یہ قدم اس لیے اہم ہے کہ پٹرول کی قیمت عام آدمی کے بجٹ میں ایک مستقل خرچ ہے۔ ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے روزانہ کام پر پہنچنے کا ذریعہ ہی اس کی آمدنی سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی بحران کے دوران ہدفی ریلیف کا مقصد یہ ہے کہ بیرونی جھٹکے کا پورا بوجھ کم آمدن والے شہری کی جیب پر منتقل نہ ہو۔ حکومت نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے اور ڈیجیٹل Fuel Pass System کے ذریعے شفاف طریقے سے ریلیف پہنچانے کا طریقہ اختیار کیا۔

یہاں معاشی پالیسی کا انسانی پہلو سامنے آتا ہے۔ میکرو اکنامک استحکام ضروری ہے، لیکن عام آدمی کے لیے یہ اسی وقت معنی رکھتا ہے جب اس کے سفر، روزگار اور گھر کے بجٹ پر دباؤ کم ہو۔ سرکاری اعداد کے مطابق ستمبر کے آخر تک لاکھوں شہری فیول ریلیف اسکیم میں رجسٹر ہو چکے تھے اور لاکھوں افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے تھے۔

تاہم معاشی استحکام کو صرف پٹرول ریلیف یا مہنگائی کے ایک عدد سے بھی نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک مضبوط معیشت وہ ہے جو عالمی بحران کے دوران اپنے بنیادی مالیاتی اور بیرونی توازن کو برقرار رکھ سکے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کا نسبتاً متوازن رہنا، مالیاتی نظم اور اصلاحات کا تسلسل اسی بڑے عمل کے حصے ہیں۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے ٹیکس بیس وسیع کرنے، سرکاری مالیات مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی کے شعبے کی پائیداری اور سماجی تحفظ کو اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔

یہاں حکومت کے لیے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ معاشی استحکام کو صرف اعداد و شمار کی کامیابی نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے روزگار، کاروبار، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہونا چاہیے۔ اگر کاروباری طبقہ مستقبل کے بارے میں پُراعتماد ہو، صنعت کی لاگت کم ہو، برآمدات میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں تو یہی میکرو اکنامک استحکام حقیقی معاشی بحالی کی بنیاد بنتا ہے۔

پاکستان کی معاشی تاریخ میں کئی بحران آئے۔ ہر بحران کے بعد فوری ریلیف کی ضرورت بھی رہی اور طویل المدت اصلاحات کی بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار بحران سے نکلنے کے ساتھ ساتھ ایسی بنیاد قائم کرنا ضروری ہے جو اگلے عالمی جھٹکے کے سامنے معیشت کو دوبارہ کمزور نہ ہونے دے۔

توانائی کا شعبہ اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بجلی کی قیمت، گردشی قرضہ، درآمدی ایندھن اور صنعتی لاگت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک توانائی کا نظام زیادہ مؤثر اور مالی طور پر پائیدار نہیں ہوتا، صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کا سفر مکمل نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح ٹیکس نظام کی توسیع بھی ناگزیر ہے۔ معیشت کا بوجھ محدود طبقے پر ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرنا، ٹیکس وصولی کو بہتر بنانا اور سرکاری اخراجات میں مؤثر نظم پیدا کرنا طویل مدت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں بھی مالیاتی پائیداری، ٹیکس بیس میں توسیع اور اخراجات کے بہتر انتظام کو بنیادی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

سرمایہ کاری اور نجی شعبہ بھی اس معاشی سفر کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت اگر پالیسی میں تسلسل، کاروباری آسانی اور مسابقتی ماحول فراہم کرتی ہے تو نجی سرمایہ کاری معیشت کے لیے روزگار اور پیداوار کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ محض سرکاری اخراجات سے پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں؛ اس کے لیے نجی شعبے کا اعتماد اور پیداواری سرگرمی میں اضافہ ضروری ہے۔

اس پورے منظرنامے میں عام آدمی کو مرکز میں رکھنا ہوگا۔ معاشی پالیسی کا حتمی پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی فائلیں تیار ہوئیں یا کتنے اجلاس ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ایک گھر کا بجٹ کتنا قابلِ برداشت ہوا، ایک نوجوان کو روزگار کا کتنا بہتر موقع ملا، ایک دکاندار کے کاروبار میں کتنا اعتماد آیا اور ایک مزدور کی آمدنی نے مہنگائی کا کتنا مقابلہ کیا۔

شہباز شریف حکومت کی معاشی حکمت عملی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد، مالیاتی نظم، توانائی اصلاحات، سرمایہ کاری اور برآمدات پر توجہ کے ساتھ عالمی بحران کے دوران کم آمدن والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم ان اقدامات کی پائیدار کامیابی کا انحصار اصلاحات کے تسلسل اور ان کے عملی نتائج پر ہوگا۔

دنیا میں جنگیں ختم ہونے میں وقت لگ سکتی ہیں، عالمی منڈیوں میں قیمتیں اچانک بدل سکتی ہیں اور بیرونی حالات کسی بھی ملک کی معاشی منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ پاکستان عالمی معیشت کے ان جھٹکوں سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتا۔ لیکن مضبوط مالیاتی نظم، بہتر توانائی نظام، وسیع ٹیکس بیس، برآمدی صلاحیت اور مؤثر سماجی تحفظ وہ عوامل ہیں جو ان جھٹکوں کا اثر کم کر سکتے ہیں۔

معاشی استحکام کا سفر اس لیے اہم ہے کہ یہ صرف حکومت یا ریاست کا معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق ہر اس شخص سے ہے جو روزانہ کام پر جانے کے لیے موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتا ہے، ہر اس دکاندار سے ہے جو اگلے دن کی خریداری کا حساب لگاتا ہے، ہر اس صنعت کار سے ہے جو نئی مشین لگانے کا فیصلہ کرتا ہے اور ہر اس نوجوان سے ہے جو اپنے مستقبل کے لیے روزگار تلاش کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل منزل صرف بحران سے نکلنا نہیں، بلکہ ایسی معیشت تعمیر کرنا ہے جو بحران آنے پر دوبارہ نہ ڈگمگائے۔

یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ لیکن اگر مالیاتی نظم، اصلاحات، سرمایہ کاری، برآمدات، توانائی اور انسانی سرمائے پر توجہ کا تسلسل برقرار رہا اور معاشی استحکام کے ثمرات عام شہری تک منتقل ہوتے رہے تو اعداد و شمار میں آنے والی بہتری حقیقی معاشی اعتماد میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

آخرکار معاشی استحکام اسی وقت قومی کامیابی بنتا ہے جب اس کا اثر صرف سرکاری رپورٹوں میں نہیں بلکہ بازار، کاروبار، روزگار اور عام آدمی کے گھر میں بھی محسوس ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »