اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) درویش کی باتیں تحریر صوفی عابد چشتی نظامی نیازی عرسِ مقدس سلطانُ المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) سلطانُ المشائخؒ، محبوبِ الٰہیؒ، محفل شکنؒ، ذری زر بخشؒ حضرت خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاءؒ وہ عظیم صوفی بزرگ ہیں جنہوں نے دہلی کی سرزمین پر محبت خدمت سخاوت صبر اور اللہ کی رضا کا ایسا چراغ روشن کیا جو آج صدیوں گزرنے کے باوجود پوری دنیا میں روشن ہے
آپ کا عرسِ مبارک ہر سال 17 ربیع الثانی کو دہلی شریف میں آپ کے مزارِ اقدس پر نہایت عظیم الشان اور روحانی عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے عقیدت مند حاضر ہو کر خراجِ محبت و عقیدت پیش کرتے ہیں
آپؒ کا روحانی سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ سے ہوتا ہوا حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ تک پہنچتا ہے۔ اسی چشتی روایت نے محبت، انسانیت اور خدمتِ خلق کو تصوف کی بنیادی روح بنا دیا
حضرت محبوبِ الٰہیؒ کی تعلیمات کا مرکز محبت تھا۔ آپؒ لوگوں کو اللہ سے جوڑتے، دلوں کو جوڑتے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ آپؒ کی خانقاہ میں آنے والے کے لیے دروازہ بند نہ تھاامیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، سب کے لیے محبت اور شفقت تھی آپؒ کے ہاں لنگر صرف کھانا تقسیم کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس فکر کا عملی اظہار تھا کہ اللہ کی مخلوق کی خدمت، اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ خانقاہ میں وسیع پیمانے پر کھانا تقسیم ہوتا، جبکہ خود حضرت محبوبِ الٰہیؒ سادہ زندگی گزارتے اور فاقہ و تنگی کو صبر و رضا کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔
یہی آپؒ کا اصل پیغام تھا کہ انسان اپنے لیے کم اور اللہ کی مخلوق کے لیے زیادہ جئے سلطانُ المشائخؒ اور دنیاوی طاقت سے بے نیازی آپؒ کو سلطانُ المشائخؒ کہا گیا مگر آپؒ کی سلطنت تخت و تاج کی نہیں، دلوں کی سلطنت تھی دہلی کے بادشاہ بدلتے رہے حکومتیں آتی اور جاتی رہیں مگر حضرت محبوبِ الٰہیؒ کا درِ محبت قائم رہا ہنوز دلی دور است حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ سے منسوب مشہور قول “ہنوز دلی دور است” صدیوں سے لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے تاریخی روایت کی تفصیلات مختلف انداز میں بیان ہوئی ہیں لیکن اس جملے نے ایک گہرا روحانی مفہوم اختیار کر لیا ہے ہنوز دلی دور است صرف ایک جملہ نہیں رہا یہ اس حقیقت کی علامت بن گیا کہ اللہ کے در کے فقیر کو دنیاوی طاقت سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا
جب دنیاوی طاقت نے ایک فقیرِ خدا کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ایک طرف تخت کی طاقت تھی اور دوسری طرف اللہ کے ولی کا یقین صبر توکل تھا
ذری زر بخشؒ حضرت محبوبِ الٰہیؒ کا ایک خوبصورت لقب “ذری زر بخشؒ” بھی بیان کیا جاتا ہےیعنی آپؒ کا وہ در جس سے خزانے برستے تھےآپؒ کے در سے جو شخص خالی ہاتھ آتا، وہ اکثر امید حوصلے اور محبت کی دولت لے کر واپس جاتا اور اللہ کی طرف جانے والی راہ کے خزانے بھی تھے
آپؒ کی خانقاہ نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ اصل بڑائی مال منصب یا اقتدار میں نہیں بلکہ عاجزی تقویٰ محبت اور خدمت میں ہے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے وصال کو صدیوں گزر چکی ہیں لیکن آپؒ کی خانقاہ آپؒ کا پیغام آپؒ کی نسبت اور آپؒ کی یاد آج بھی زندہ ہے۔
یہ اللہ کی شان ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کے ذکر کو مٹنے نہیں دیتا۔ جسم دنیا سے چلا جاتا ہےمگر محبت کردارتعلیم اور فیض کی خوشبو باقی رہتی ہے
علامہ اقبالؒ کی عقیدت
حضرت محبوبِ الٰہیؒ کی عظمت کو علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اپنی نظم “التجائے مسافر” میں خراجِ عقیدت پیش کیاحضرت نظام الدین اولیاءؒ کی بارگاہ سے مخاطب ہو کر اقبالؒ کہتے ہیں
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا
اور آگے فرماتے ہیں
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا
یہ اشعار اس محبت اور عقیدت کی ترجمانی کرتے ہیں جو برصغیر کے عظیم اہلِ دل کے دلوں میں حضرت محبوبِ الٰہیؒ کے لیے موجود رہی
میری اپنی نسبت اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے بفضلِ اللہ تعالیٰ، کرمِ مصطفیٰ ﷺ، پنجتنِ پاکؓ اور خواجگانِ چشت کی عنایات سے میری نسبتِ روحانی سلطانُ المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے جڑی ہوئی ہے اسی مبارک سلسلۂ نسبت میں میرے پیر و مرشد، حضرت سید مختار نظامی چشتی نیازی میاں، سجادہ نشینِ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ، میری روحانی رہنمائی کا وسیلہ ہیں۔ اس نسبت کی روحانی کڑیاں بزرگوں کی محبت و فیض سے آگے بڑھتی ہوئی حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور پھر حضرت سید مقتضیٰ نیازی اچھن میاں سرکار رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتی ہیں، اور اسی فیض و نسبت کے وسیلے سے مجھے اپنے پیر و مرشد حضرت سید مختار نظامی چشتی نیازی میاں کی غلامی و محبت نصیب ہوئی میری دعا ہے کہ یہ نسبت قیامت تک قائم رہے اور میرے عزیزوں احباب اور متعلقین کے لیے بھی خیر برکت اور فیضان کا ذریعہ بنے
اللہ تعالیٰ مجھے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی محبت عاجزی سخاوت خدمتِ خلق صبر رضا اور اللہ کی اطاعت کے راستے پر قائم رکھے میرے قدم صراطِ مستقیم پر مضبوط فرمائے اور مجھے ایسا کردار عطا فرمائے کہ میری نسبت صرف نام کی نہ ہو بلکہ عمل اخلاق اور خدمت میں بھی نظر آئے
یا اللہ محبوبِ الٰہیؒ کے صدقے میں ہمارے دلوں کو محبتِ رسول ﷺ پنجتنِ پاکؓ خواجگانِ چشت کا کرم تا دمِ آخر ہمارے دامن سے وابستہ رہےآمین یا رب العالمین

