LOADING

Type to search

Karachi National

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) ایس بی پی ریفرنڈم 2026 دراصل انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف مزدوروں کا ریفرنڈم تھا: لیاقت علی ساہی

Share

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) ڈیموکریٹک ورکرز یونین، اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے سیکریٹری جنرل لیاقت علی ساہی نے ریفرنڈم 2026 کے نتائج پر ورکرز سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ریفرنڈم محض دو یونینز کے درمیان مقابلہ نہیں تھا بلکہ بنیادی طور پر یہ انتظامیہ کی ان پالیسیوں کے خلاف ورکرز کا ریفرنڈم تھا جن کے نتیجے میں ملازمین اپنے بنیادی اور آئینی حقوق سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک ورکرز یونین کا واضح منشور کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیاں، کنٹریکٹ ورکرز کو مستقل کرنا اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ورکرز کو ووٹ کا حق دلانا ہے۔ انتظامیہ ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ لیبر یونین انتظامیہ کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسے حالات میں ورکرز نے ریفرنڈم کے ذریعے اپنے ووٹ کی پرچی کو اپنے حقوق کے حق میں استعمال کیا ہے لیاقت علی ساہی نے کہا کہ بنیادی مقابلہ ڈیموکریٹک ورکرز یونین اور لیبر یونین کے درمیان نہیں بلکہ انتظامیہ کی پالیسیوں اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کے درمیان تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیبر یونین دراصل ایک ’’پاکٹ یونین‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ملکی سطح پر جن اداروں میں انتظامیہ پاکٹ یونینز کی سرپرستی کرتی ہے، وہاں ٹریڈ یونین کا وجود برقرار نہیں رہتا اور مزدور بھی مؤثر طور پر اپنا تحفظ نہیں کر پاتے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک میں بھی 1997 میں انتظامیہ نے مبینہ طور پر اپنے حمایت یافتہ عناصر کے ذریعے ٹریڈ یونین کا مکمل صفایا کرنے کی کوشش کی، تاہم ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے ان کی قیادت میں مسلسل جدوجہد جاری رکھی اور لیبر قوانین اور ملک کے دستور کی روشنی میں یونین کا وجود برقرار رکھا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں ورکرز کے تحفظ کے ساتھ ساتھ متعدد مراعات بھی حاصل کی گئیں۔
کنٹریکٹ ورکرز کے حقوق کے لیے قانونی جدوجہد
لیاقت علی ساہی نے کہا کہ 2018 میں ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے کنٹریکٹ ورکرز کو ووٹ کا حق دلوایا۔ تاہم، ان کے مطابق انتظامیہ کے اشاروں پر کام کرنے والی لیبر یونین کو دو ریفرنڈمز میں ووٹ دے کر ٹریڈ یونین کو کمزور کیا گیا انہوں نے کہا کہ 2023 میں ورکرز نے ایک مرتبہ پھر ڈیموکریٹک ورکرز یونین پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کامیاب کیا، جس کے بعد یونین نے کنٹریکٹ ورکرز کے لیے نہ صرف مراعات حاصل کیں بلکہ مستقل بھرتیوں اور کنٹریکٹ ورکرز کو مستقل کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ بھی کیا۔ جب اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) میں پٹیشن دائر کی تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کرایا جا سکے ریفرنڈم 2026 کے نتائج اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم 2026 میں ڈیموکریٹک ورکرز یونین کا منشور واضح تھا: کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیاں، کنٹریکٹ ورکرز کو مستقل کرنا اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ورکرز کو ووٹ کا حق دینا لیاقت علی ساہی کے مطابق انتظامیہ ان تینوں مطالبات پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتی، جبکہ لیبر یونین انتظامیہ کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ اس کے باوجود ورکرز نے انتہائی مشکل حالات میں ریفرنڈم کا سامنا کیا انہوں نے کہا کہ دستیاب اعلان شدہ نتائج کے مطابق لیبر یونین کو ڈیموکریٹک ورکرز یونین پر صرف پانچ ووٹوں کی برتری حاصل ہے، جبکہ خضدار کے آٹھ ووٹوں کا نتیجہ ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق خضدار کے آٹھ ووٹوں میں سے پانچ ووٹ ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے حق میں واضح ہیں، جبکہ بقیہ تین ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض پولنگ بوتھس سے ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے ایسے ووٹ مسترد کیے گئے جن کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پھول کے نشان پر مہر واضح نہیں تھی۔ ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے ان مسترد شدہ ووٹوں کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر دیا ہے خضدار کے نتائج کے بغیر حتمی فیصلہ قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہوگا
لیاقت علی ساہی نے کہا کہ خضدار کے لیے NIRC کی جانب سے پوسٹ کیے گئے بیلٹ پیپرز ریفرنڈم سے صرف ایک روز قبل پہنچے، جس کی ذمہ داری متعلقہ Authorized Officer پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت بیلٹ پیپرز کی دستیابی یقینی بناتے انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ خضدار کے نتائج شامل کیے بغیر ریفرنڈم کے حتمی نتائج کا فیصلہ کرنا قانونی طور پر قابلِ اعتراض تصور کیا جائے تھرڈ پارٹی ورکرز کا ووٹ کا حق اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت معاملہ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ریفرنڈم 2026 کے دوران ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے تھرڈ پارٹی ورکرز کی 403 ممبرشپس جمع کرائیں اور مطالبہ کیا کہ انہیں ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مؤقف کے مطابق IRA 2012 کی دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (xxxiii) کے تحت مستقل، کنٹریکٹ اور تھرو کنٹریکٹر ورکرز، جو مقررہ مدت یعنی 90 دن کی ملازمت مکمل کر چکے ہوں، ووٹ کے حق دار ہیں۔ تاہم ان کے مطابق Authorized Officer نے اس قانونی مؤقف کے مطابق ووٹر لسٹ مرتب نہیں کی لیاقت علی ساہی نے بتایا کہ ڈیموکریٹک ورکرز یونین نے پہلے اس معاملے کو NIRC کے فل بینچ کے سامنے چیلنج کیا، تاہم فل بینچ موجود نہ ہونے کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ معزز اسلام آباد ہائی کورٹ میں 8 ستمبر 2026 کو سماعت ہوئی، جس میں تمام فریقین نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ ڈیموکریٹک ورکرز یونین کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے 2020SCMR 638 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تھرڈ پارٹی ورکرز کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ان کے مطابق عدالت نے معاملہ 10 ستمبر 2026 کو حکم کے لیے رکھا تھا، تاہم تاحال فیصلہ جاری نہیں ہوا۔ دوسری جانب NIRC کی جانب سے ریفرنڈم کرایا جا چکا ہے، جس کے باعث متعدد قانونی سوالات نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا’’مزدوروں کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی‘ لیاقت علی ساہی نے ریفرنڈم میں حصہ لینے والے تمام ورکرز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن کنٹریکٹ ورکرز نے ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے منشور کے برخلاف ووٹ دیا، انہوں نے دراصل اپنے بنیادی حقوق کے مطالبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور خود کو انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے ٹریڈ یونین مزید کمزور اور زوال پذیر ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوگی جو مزدوروں کے بنیادی حقوق کے بجائے انتظامیہ کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ میں اور میری ٹیم آج بھی مزدوروں کے آئینی، قانونی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے کھڑے ہیں اور ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »