اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بچی انصاف مانگ رہی ہے، صاحبِ اختیار کس کی طرف کھڑے ہیں؟
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ویسٹ منسٹر کیس جب مفاد، منصب اور تعلق ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں تو سوال تو اٹھیں گے پاکستان میں ایک پرانی روایت ہے جب کوئی کمزور آدمی طاقتور کے دروازے پر انصاف مانگنے پہنچے تو سب سے پہلے اسے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ معاملہ اتنا بڑا نہیں خاموش ہو جاؤ تو اچھا ہے
لیکن اگر معاملہ کسی بااثر ادارے کا ہو، کسی صاحبِ اختیار شخصیت کا ہو یا اپنے لوگوں کا ہو تو اچانک اصول، قانون، اخلاق اور شفافیت سب کی تعریفیں بدل جاتی ہیں
ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل اسکول کے معاملے میں بھی اصل سوال یہی ہے۔
ایک کمسن بچی کے حوالے سے سنگین الزام سامنے آیا ایک ماں آواز اٹھا رہی ہے معاملہ سوشل میڈیا سے نکل کر قومی سطح تک پہنچ گیا اب متعلقہ اداروں سے جواب طلبی اور تحقیقات کا مطالبہ ہو رہا ہے
اور دوسری طرف سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو ایسے موقع پر سب سے آگے کھڑے ہو کر بچے کے حق اور شفاف تحقیقات کی آواز بلند کرنی چاہیے، ان کا کردار کیا ہے
یہ سوال اس لیے اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ سرکاری اطلاعات کے مطابق بیرسٹر دانیال چودھری وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات ہیں اور Westminster International School کی ایک سرکاری طور پر رپورٹ شدہ تقریب میں انہیں اسکول کی قیادت کے ساتھ نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے
تو پھر سوال بنتا ہے دانیال صاحب اگر ایک عام پاکستانی کی بچی کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا تو آپ کس طرف کھڑے ہوتے کیا آپ کہتے کہ CCTV سامنے لاؤ
کیا آپ والدین کو مطمئن کیا کیا آپ کہتے کہ تحقیقات کسی دباؤ کے بغیر ہونی چاہئیں
معاملہ اپنے ادارے کا ہے اس لیے پہلے ادارے کی عزت بچاؤ بس یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور اصول کا فرق سامنے آتا ہے صاحبِ اختیار کا اصل امتحان بچوں کے حقوق پر تقریریں کرنا بہت آسان ہے اسکولوں کی تقریبات میں کھڑے ہو کر بچوں کے مستقبل، تعلیم، کردار اور محفوظ ماحول کی بات کرنا بھی بہت آسان ہے۔
لیکن اصل امتحان اس دن ہوتا ہے جب اپنے ادارے پر انگلی اٹھ جائے
اس دن پتہ چلتا ہے کہ آپ واقعی بچے کے ساتھ کھڑے ہیں یا صرف اپنے ادارے کے ساتھ
کیونکہ اگر الزام غلط ہے تو آزادانہ تحقیقات سب سے بہترین راستہ ہیں
اور اگر الزام میں حقیقت ہے تو پھر کسی ادارے کی عزت، کسی عہدے کی طاقت اور کسی بااثر شخص کا تعلق بچے کے حقِ انصاف سے بڑا نہیں ہو سکتا۔
پھر مسئلہ یہ نہیں رہتا کہ Westminster کی عزت کیسے بچائی جائے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک کمسن بچے کا اعتماد کیسے بچایا جائے کیا عجیب اتفاق ہے
ہماری سیاست میں اپنے لوگ ایک عجیب مخلوق ہیں
اپنا آدمی غلطی کرے تو اسے غلط فہمی کہا جاتا ہے
اپنے ادارے پر الزام آئے تو اسے سازش کہا جاتا ہے اپنے کارکن پر انگلی اٹھے تو کہا جاتا ہے تحقیقات ہونے دیں لیکن کوئی غریب آدمی سوال کر دے تو فوراً اس سے ثبوت، ثبوت اور مزید ثبوت مانگے جاتے ہیں۔
اور جب ایک ماں اپنی بچی کے لیے سوال اٹھائے تو اسے بھی پہلے یہی سمجھایا جاتا ہے کہ خاموشی میں عافیت ہے اب یہ پرانا پاکستان نہیں ہونا چاہیے
اب ماں کی آواز کو شور نہیں شکایت سمجھا جانا چاہیے
بچے کی بات کو بدنامی نہیں تحقیقات کا نقطۂ آغاز سمجھا جانا چاہیے اور طاقتور ادارے کو دشمن نہیں قانون کے سامنے جواب دہ فریق سمجھا جانا چاہیے
دانیال چودھری صاحب سے چند سیدھے سوال
اگر آپ کا Westminster سے تعلق انتظامی نوعیت کا ہے، تو اس معاملے میں آپ اپنی غیر جانب داری کیسے یقینی بنائیں گے
اگر آپ کا تعلق انتظامی نہیں بلکہ کسی اور نوعیت کا ہے تو اسے عوام کے سامنے واضح کیوں نہیں کیا جاتا
اگر اسکول بے قصور ہے تو آزادانہ تحقیقات سے خوف کیسا اگر الزام غلط ہے تو مکمل شواہد سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں اور اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو پھر ذمہ دار کو بچانے کی کوشش کا تاثر بھی کیوں پیدا ہو
یہ سوال اس لیے ہیں کیونکہ عوام کو شک کا حق حاصل ہے اور بااثر لوگوں کو شک دور کرنے کی ذمہ داری
اصل مسئلہ دانیال چودھری نہیں یہ نظام ہے
ہمیں کسی ملازم کو بھی بغیر ثبوت قصوروار نہیں کہنا
لیکن ہمیں یہ ضرور کہنا چاہیے کہ اگر ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا سوال اٹھا ہے تو اس کی تحقیقات ایسی ہونی چاہئیں جن پر بچی کی ماں بھی اعتماد کرے اور عام آدمی بھی
یہ اعتماد بیانات سے نہیں آئے گا شفافیت سے آئے گا
CCTV فوٹیج بھی سامنے لانی چاہیےتاکہ والدین اور عوام خود دیکھ سکیں کہ اصل معاملہ کیا ہے، آگاہ کیا
گواہوں کے بیانات لیے جائیں پولیس اپنی تحقیقات کرے متعلقہ بچوں کے حقوق کا ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
اور اگر کسی پر الزام ثابت ہو تو اسے اس کے عہدے تعلق یا طاقت کی بنیاد پر رعایت نہ ملے۔
تقریروں میں ہم کہتے ہیں بچے ہمارا مستقبل ہیں
حقیقت میں اگر وہی بچہ انصاف مانگنے لگے تو پھر مستقبل کو خاموش کرانے کی کوشش کیوں ہوتی ہے
بچوں کا تحفظ ہماری ترجیح ہونا چاہیے
تو پھر جب ایک ماں تحفظ اور انصاف مانگے تو اسے تنہا کیوں محسوس ہونا چاہیے قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر طاقتور اداروں کے سامنے قانون کی آواز مدھم کیوں پڑنی چاہیے
دانیال صاحب، آپ کے پاس ایک تاریخی موقع ہے
آپ چاہیں تو اس پورے معاملے میں سب سے مضبوط آواز بن سکتے ہیں اگر Westminster بے قصور ہے تو تحقیقات ہوں اور اسے بری الذمہ قرار دیا جائے؛ اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ میرا اپنا کیوں نہ ہو، قانون کے حوالے کیا جائے
یہ ایک جملہ آپ کے خلاف اٹھنے والے تمام سوالات کو ختم کر سکتا ہے۔
لیکن اگر ادارہ پہلے بچہ بعد میں تعلق پہلے، انصاف بعد میں اور اپنی صفائی پہلے آزاد تحقیقات بعد میں آئیں گی، تو پھر سوال تو اٹھیں گے اور سوال اٹھیں گے بھی، اور اٹھنے بھی چاہئیں کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں یہ کسی اسکول کی مارکیٹنگ کا مسئلہ نہیں یہ کسی شخصیت کی عزت کا مسئلہ بھی نہیں یاد رکھیے اداروں کی عزت بچوں کی خاموشی سے نہیں بچوں کے تحفظ سے بنتی ہے
الزام جھوٹا ہے تو سچ کو سامنے آنے دیں
الزام درست ہے تو انصاف کو سامنے آنے دیں
لیکن خدا کے لیے ایسا پاکستان نہ بنائیں جہاں بچے کی آواز سے زیادہ طاقتور بااثر لوگوں کی خاموشی ہو
کیونکہ جس معاشرے میں ایک بچہ انصاف مانگے اور طاقتور لوگ اپنی صفائیاں بچانے میں مصروف ہو جائیں وہاں مسئلہ صرف ایک اسکول کا نہیں رہتا سوال پورے نظام سے ہوتا ہے
آخر اس ملک میں بچوں کے حق میں کون کھڑا ہوگا جب ان کے سامنے طاقتور کھڑے ہوں گے

