کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) این آئی سی وی ڈی میں سینئر کارڈیالوجسٹ کے تیماردار سے مبینہ توہین آمیز رویہ، شدید تشویش
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں ایک سینئر طبی ماہر کے تیماردار کے ساتھ عملے کے مبینہ غیر پیشہ ورانہ اور توہین آمیز رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واقعہ ایک ہنگامی قلبی صورتحال کے دوران پیش آیا۔ذرائع کے مطابق سینئر کارڈیالوجسٹ اور سول اسپتال کراچی کے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گریش کو انفیرئیر وال مایوکارڈیل انفارکشن (MI) ہوا، جس کے بعد انہیں تقریباً صبح 8:45 بجے این آئی سی وی ڈی لایا گیا، جہاں مبینہ طور پر فوری پرائمری انٹروینشن کی ضرورت تھی۔
شکایت کنندہ کے مطابق وہ اس وقت بحریہ ٹاؤن میں موجود تھے اور اطلاع ملنے پر اپنے دوست کی عیادت اور صورتحال معلوم کرنے کے لیے فوری طور پر این آئی سی وی ڈی پہنچے، تاہم ہنگامی صورتحال کے باوجود وہ کئی گھنٹوں تک کیتھ لیب کے باہر انتظار کرتے رہےشکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ڈاکٹر عاطف شیخ سے صورتحال اور تاخیر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنا تعارف کرایا اور وضاحت طلب کی تو مبینہ طور پر انہیں انتہائی نامناسب اور توہین آمیز جواب دیا گیاان کے مطابق تقریباً 12:20 بجے تک وہ کیتھ لیب کے باہر موجود تھے اور انہیں صورتحال سے آگاہ نہیں کیا گیا تھاانہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے میونخ میں موجود ڈاکٹر حکیم صمد صاحب سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر جواب دیتے ہوئے صورتحال کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی۔ ان کی ہدایت اور حوالے سے دوبارہ متعلقہ عملے سے تعاون اور معلومات طلب کی گئیں، تاہم مبینہ طور پر جواب دیا گیا کہ انتظار کریں اور معاملے کی وضاحت کچھ دیر بعد‘‘ کی جائے گی۔شکایت کنندہ کے مطابق انہوں نے بعد ازاں ڈاکٹر طاہر صغیر سمیت متعدد متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کسی جانب سے جواب موصول نہیں ہوااس واقعے نے ملک کے اہم ترین امراضِ قلب کے اداروں میں سے ایک میں مریضوں کی دیکھ بھال، معلومات کی فراہمی، عملے کے پیشہ ورانہ رویے اور ادارہ جاتی جوابدہی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں اگر ایک سینئر کارڈیالوجسٹ اور سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے تیماردار کو مبینہ طور پر ایسے رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو عام اور غریب مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں سوالات اٹھنا فطری امر ہےحکومت کی جانب سے صحت کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے، ڈاکٹروں کی بھرتی ادویات اور طبی آلات کی خریداری پر خطیر عوامی فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ ان اداروں کے اندر مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا جا رہا ہےصرف عمارتیں، ڈاکٹرز اور ادویات ایک مؤثر نظامِ صحت کی ضمانت نہیں۔ کسی بھیi طبی ادارے کی اصل کارکردگی کا پیمانہ معیاری علاج، بروقت معلومات، مریض کی عزتِ نفس شائستہ رویہ اور انسانیت و ہمدردی ہےوزیرِ صحت سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر مریض اور اس کے تیماردار کے ساتھ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سماجی یا پیشہ ورانہ طبقے سے ہو، عزت احترام اور ہمدردی سے پیش آیا جائے اگر الزامات تحقیقات میں ثابت ہوتے ہیں تو ایسے واقعات نہ صرف محکمہ صحت کے لیے باعثِ تشویش ہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت کے لیے بھی باعثِ شرمندگی ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب صحت کے شعبے کے لیے اربوں روپے کے سرکاری فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں۔عوام کا حق ہے کہ انہیں سرکاری فنڈز سے چلنے والے طبی اداروں میں معیاری علاج، شفافیت، جوابدہی اور باعزت و باوقار طبی سہولیات فراہم کی جائیں اگر آپ چاہیں تو میں اسے زیادہ سخت اخباری/تحقیقی رپورٹ کے انداز میں بھی دوبارہ ڈرافٹ کر سکتا ہوں۔

