LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) لارڈز کا تاریخی میدان کرکٹ کی دنیا میں ایک مقدس مقام رکھتا ہے۔ یہاں بڑے بڑے کھلاڑیوں نے تاریخ رقم کی، مگر 28 اگست 2026ء کو لارڈز میں جو کچھ ہوا، وہ صرف کرکٹ کی تاریخ کا حصہ نہیں۔ ایک مرتبہ پھر کھیل کے میدان سے پاکستان کی سیاست اور عمران خان کی آواز دنیا تک پہنچی۔

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) لارڈز کا تاریخی میدان کرکٹ کی دنیا میں ایک مقدس مقام رکھتا ہے۔ یہاں بڑے بڑے کھلاڑیوں نے تاریخ رقم کی، مگر 28 اگست 2026ء کو لارڈز میں جو کچھ ہوا، وہ صرف کرکٹ کی تاریخ کا حصہ نہیں۔ ایک مرتبہ پھر کھیل کے میدان سے پاکستان کی سیاست اور عمران خان کی آواز دنیا تک پہنچی۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کا اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو نشر ہوا۔ انٹرویو کرنے والے انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ مبصر مائیک ایتھرٹن تھے۔ یوں ایک طرف لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کا ٹیسٹ جاری تھا اور دوسری طرف عمران خان کے بیٹے اپنے والد کی صحت اور حالات کے بارے میں دنیا سے بات کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے انٹرویو نشر ہونے سے قبل اسکائی اسپورٹس سے احتجاج کیا۔ یہاں تک کہ مبینہ طور پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں واپس نہ آنے کے آپشن پر غور کرسکتے ہیں۔
یہ بات اگر درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کرکٹ کے ادارے کو ایک سابق وزیراعظم کے بیٹوں کے انٹرویو سے آخر اتنی پریشانی کیوں ہوئی؟
آخرکار انٹرویو نشر ہوگیا، پاکستانی کھلاڑی بھی میدان میں واپس آگئے اور میچ بھی جاری رہا۔ یعنی نہ کوئی کرکٹ ختم ہوئی، نہ قومی ٹیم نے کھیلنے سے انکار کیا۔ لیکن ایک کام ضرور ہوگیا: عمران خان کے بیٹوں کی آواز پوری دنیا نے سن لی۔
یہی ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کو جیل میں ڈال دینے سے اس کی آواز بھی قید ہوجاتی ہے۔ مگر آج کا زمانہ اطلاعات کا زمانہ ہے۔ آوازیں دیواروں کی پابند نہیں رہیں۔
پاکستان کے کونے کونے سے عمران خان کی آواز ابھرتی ہے، مگر عمران خان صرف پاکستان کا ہیرو نہیں۔ وہ دنیا کے ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شخصیت کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھی ایک پہچان دی، اور امتِ مسلمہ کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں بھی ان کے لیے خاص جگہ ہے۔
میں نے خود بیرونِ ملک ایسے لوگوں کو عمران خان کا ذکر کرتے سنا ہے جن کا پاکستان کی سیاست سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ دبئی ہو یا اس سے پہلے سعودی عرب، بارہا ایسے لوگ ملے جنہوں نے عمران خان کا نام عزت اور محبت سے لیا۔
ایک واقعہ تو میرے لیے آج بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ایک تھیلے والا شخص، جب اس نے میرے ساتھ عمران خان کی تصویر دیکھی تو فوراً کہنے لگا: ’’میں نے آپ سے پیسے نہیں لینے۔‘‘
اس ایک جملے میں عمران خان کے لیے اس عام آدمی کی محبت اور احترام چھپا ہوا تھا۔
اور پھر حرمِ پاک کا وہ منظر کیسے بھول سکتا ہوں؟ عمرے کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان ایک نیپالی مسلمان ملا۔ باتوں باتوں میں جب عمران خان کا ذکر آیا تو اس نے کہا:
’’میں تو ہر روز عمران خان کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘‘
اب ذرا سوچیں، کتنے لوگوں کا منہ بند کریں گے؟
پاکستان میں ایک آواز کو بند کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، مگر دبئی میں کیا کریں گے؟ سعودی عرب میں کیا کریں گے؟ نیپال کے ایک مسلمان کے دل سے نکلنے والی دعا کو کون روکے گا؟ لندن میں بیٹھے عمران خان کے بیٹوں کو کون خاموش کرے گا؟
یہی حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہوگا۔
عمران خان کی صحت گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل موضوع بنی ہوئی ہے۔ ان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں بہترین طبی سہولیات دی جائیں اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت دی جائے۔ دوسری طرف حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عمران خان سے اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں کی متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
اسی معاملے پر 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط بھی لکھا۔ خط لکھنے والوں میں مائیک ایتھرٹن بھی شامل تھے۔
لیکن مجھے ان سابق کپتانوں کی سادگی پر حیرت ہوتی ہے۔ وہ کتنے سادہ دل تھے کہ ایک ایسے شخص کو خط لکھ رہے تھے جس کے بارے میں پاکستان میں یہ مشہور ہے کہ ہر سوال کا جواب یہی ہوتا ہے: ’’میں پوچھ کے بتاتا ہوں۔‘‘
وہ سمجھ رہے تھے کہ وزیراعظم کو خط لکھیں گے تو شاید معاملہ حل ہوجائے گا۔ انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے ہاں خط بھی فائلوں میں چلا جاتا ہے، سوال بھی فائل میں چلا جاتا ہے اور بعض اوقات انسان بھی فائل بن جاتا ہے۔
مگر اس خط کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ مختلف ممالک کے سابق کپتانوں کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ اب صرف پاکستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہا۔
حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ دنیا اب سوال پوچھ رہی ہے۔ سوال کا جواب دلیل سے دینا ہوگا، پابندی سے نہیں۔
پی سی بی کو بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان کرکٹ کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے۔ ہمارے کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں سیاسی کشمکش میں فریق بنانا کسی طور مناسب نہیں۔
لارڈز میں پاکستانی ٹیم میدان میں واپس آگئی، میچ جاری رہا، لیکن اس دن ایک اور میچ بھی کھیلا گیا: خاموشی اور آواز کے درمیان۔
کیمرہ روکنے کی کوشش ہوسکتی ہے، انٹرویو مؤخر کیا جاسکتا ہے، خبر کو دبانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، مگر آج کے دور میں آواز کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
عمران خان کے بیٹوں نے لارڈز سے اپنے والد کے بارے میں بات کی۔ دنیا نے سنا۔
اور پاکستان کے گلی کوچوں سے لے کر دبئی، سعودی عرب اور حرمِ پاک تک، لوگ عمران خان کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ آواز کہاں سے اٹھی۔
سوال یہ ہے کہ اس آواز کا جواب کون دے گا؟
کتنے لوگوں کا منہ بند کریں گے؟
کیونکہ کیمرہ بند کیا جاسکتا ہے، خبر روکی جاسکتی ہے، راستے میں رکاوٹ ڈالی جاسکتی ہے، مگر دل کی آواز اور دعا کو قید نہیں کیا جاسکتا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »