LOADING

Type to search

National

فتح جنگ (ڈیجیٹل پوسٹ) فتح جنگ میں جشنِ میلاد کی ساعتیں، خان شبیر کی قیادت میں خدمت کا رنگ

Share

فتح جنگ (ڈیجیٹل پوسٹ) فتح جنگ ان دنوں ربیع الاول کی اس خوشبو میں بسا ہوا ہے جو گلیوں سے گزر کر سیدھی دلوں تک اترتی ہے، اور اس خوبصورت منظر کے بیچ خان شبیر اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ یوں موجود ہیں جیسے کسی خاموش داستان کا وہ کردار جسے شہرت سے زیادہ فرض عزیز ہو۔

عید میلاد النبی ﷺ کی ساعتیں ہیں۔

گلیاں روشن ہیں، سبز پرچم لہرا رہے ہیں، مساجد اور محافل سے درود و سلام کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، نعت خواں سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول پیش کر رہے ہیں اور فتح جنگ کی فضاؤں میں محبت، عقیدت اور خوشی کی ایک ایسی مٹھاس گھل گئی ہے جسے شاید صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

مگر ہر خوبصورت منظر کے پیچھے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو منظر کا حصہ بننے کے بجائے اس منظر کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔

فتح جنگ سرکل کے پولیس کمانڈر خان شبیر بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔

ان کی نگرانی میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جبکہ ایس ایچ او فتح جنگ طاہر اقبال خان اپنی پولیس ٹیم کے ہمراہ مختلف مقامات پر سیکیورٹی، نظم و ضبط اور عوامی سہولت کے انتظامات کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔

یہ کام بظاہر ایک سرکاری ڈیوٹی ہے۔

لیکن ہر کام کو صرف اس کے ظاہری عنوان سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

کچھ کام فائل پر “ڈیوٹی” لکھے جاتے ہیں، مگر ان کے اندر انسان کی محنت، قربانی اور احساسِ ذمہ داری چھپا ہوتا ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سڑک پر کھڑا پولیس جوان بھی ایسی ہی ایک خاموش کہانی ہے۔

وہ محفل کے اندر نہیں بیٹھا۔

وہ نعت سننے والوں میں شامل نہیں۔

وہ شاید اپنے گھر کے چراغ بھی نہ دیکھ سکے۔

مگر وہ کسی دوسرے کے گھر کے چراغ کو محفوظ رکھنے کے لیے کھڑا ہے۔

یہی خدمت کا حسن ہے۔

انسان کبھی کبھی اپنی خوشی سے باہر نکل کر دوسروں کی خوشی کی حفاظت کرتا ہے۔

ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانا نہیں سکھاتا، بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جس نبی کریم ﷺ کی آمد نے انسانیت کو رحمت کا پیغام دیا، ان کی سیرت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔

اور پولیس کی ذمہ داری بھی، اپنی اصل روح میں، لوگوں کے لیے امن اور آسانی پیدا کرنا ہے۔

فتح جنگ میں جب میلاد کے جلوس نکلتے ہیں، محافل سجتی ہیں اور لوگ اپنے بچوں، بزرگوں اور خاندانوں کے ساتھ عقیدت کے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں تو ان کے راستے محفوظ بنانا معمولی کام نہیں۔

یہاں ایک لمحے کی غفلت بھی بڑے مسئلے کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی لیے خان شبیر کی نگرانی میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی، راستوں کی نگرانی، اجتماعات کے اطراف سیکیورٹی اور مسلسل رابطہ محض انتظامی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک بڑے اجتماعی اطمینان کی بنیاد ہیں۔

عوام جشن دیکھتے ہیں۔

پولیس ذمہ داری دیکھتی ہے۔

عوام چراغ دیکھتے ہیں۔

پولیس راستے دیکھتی ہے۔

عوام نعت کی آواز سنتے ہیں۔

پولیس اردگرد کے حالات سنتی ہے۔

عوام میلاد کی خوشی میں مصروف ہوتے ہیں۔

پولیس اس خوشی کے پُرامن اختتام کی فکر میں رہتی ہے۔

یہی فرق محافظ اور محفوظ کے درمیان ہوتا ہے۔

محفوظ آدمی بے فکری سے مسکرا سکتا ہے کیونکہ کہیں کوئی اور پوری ذمہ داری سے چوکس کھڑا ہے۔

فتح جنگ کے پولیس جوانوں کی یہی خاموش محنت قابلِ تحسین ہے۔

اور اس محنت کی نگرانی کرنے والے خان شبیر کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے کہ ان کے ماتحت جوان صرف ڈیوٹی پر موجود نہ ہوں بلکہ ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کریں۔

ایک اچھا کمانڈر صرف حکم نہیں دیتا۔

وہ اپنے جوانوں کی ذمہ داری بھی اپنے کندھے پر لیتا ہے۔

اسی طرح ایس ایچ او طاہر اقبال خان کے لیے بھی میلاد النبی ﷺ کے یہ دن معمول کی مصروفیات سے مختلف ہیں۔ تھانے کی سطح پر انتظامات کی نگرانی، جوانوں کی تعیناتی، اجتماعات اور جلوسوں کے دوران نظم و ضبط اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ افسر ہر لمحہ چوکس رہے۔

یہ کام آرام طلب طبیعت کے لیے نہیں۔

یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو جانتے ہیں کہ جب شہر سو رہا ہو تو پولیس جاگتی ہے۔

جب شہر جشن منا رہا ہو تو پولیس زیادہ چوکس ہوتی ہے۔

اور جب لوگ اپنے محبوب ﷺ کی ولادت کی خوشی میں گھروں سے نکلیں تو ان کی سلامتی کی ذمہ داری بھی کسی کو اٹھانی ہوتی ہے۔

یہی ذمہ داری خان شبیر اور طاہر اقبال خان سمیت پولیس جوانوں نے اٹھائی ہے۔

تصوف کی زبان میں شاید خدمت کا سب سے خوبصورت مفہوم یہی ہے کہ انسان کسی دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرے اور اس کے بدلے میں کچھ نہ مانگے۔

ایک جوان راستہ کھولتا ہے۔

کوئی شکریہ ادا نہیں کرتا۔

وہ کسی بزرگ کو ہجوم سے محفوظ نکالتا ہے۔

شاید بزرگ اس کا نام بھی نہ جان پائیں۔

وہ ایک بچے کو والدین تک پہنچاتا ہے۔

شاید بچہ کل اسے پہچان بھی نہ سکے۔

مگر خدمت کا حسن یہی ہے۔

نیکی کو پہچان کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسے صرف اخلاص چاہیے۔

اور اخلاص وہ دولت ہے جو خاموش کام کو بھی معنویت عطا کر دیتی ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کی اصل روح بھی ہمیں محبت، رحمت، اخلاق اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی طرف لے جاتی ہے۔

اگر ہم اس دن چراغ روشن کرتے ہیں تو ہمارے کردار میں بھی روشنی ہونی چاہیے۔

اگر ہم سبز پرچم لہراتے ہیں تو ہمارے رویوں میں بھی امن کا رنگ ہونا چاہیے۔

اگر ہم درود پڑھتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا بننا چاہیے۔

کیونکہ محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں۔

محبت کردار کا نام ہے۔

اور خدمت، محبت کا سب سے خوبصورت عملی اظہار ہے۔

فتح جنگ میں میلاد النبی ﷺ کی خوشیوں کے ساتھ پولیس کی یہ محنت اسی عملی اظہار کی ایک جھلک ہے۔

ایک طرف محفل میں نعت پڑھی جا رہی ہے۔

دوسری طرف سڑک پر ایک جوان کھڑا ہے۔

ایک طرف درود کی آواز ہے۔

دوسری طرف وائرلیس پر ہدایات ہیں۔

ایک طرف عقیدت مند ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں۔

دوسری طرف محافظ اپنی آنکھیں کھلی رکھے ہوئے ہیں۔

یہ تضاد نہیں۔

یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔

ایک رخ محبت کا ہے۔

دوسرا ذمہ داری کا۔

اور دونوں مل کر امن کی تصویر بناتے ہیں۔

فتح جنگ کی یہ ساعتیں گزر جائیں گی۔

ربیع الاول کے یہ دن بھی گزر جائیں گے۔

چراغ اتر جائیں گے۔

سبز جھنڈے سمیٹ لیے جائیں گے۔

محافل ختم ہو جائیں گی۔

جلوس اپنے اختتام کو پہنچیں گے۔

مگر اس جشن کی یاد باقی رہے گی۔

اور اگر اس یاد میں یہ بات بھی شامل ہو کہ شہر نے اپنے محبوب ﷺ کی ولادت کی خوشی امن، نظم اور اطمینان کے ساتھ منائی تو یہ اس جشن کی ایک بڑی کامیابی ہو گی۔

اس کامیابی کے پس منظر میں خان شبیر کی نگرانی، طاہر اقبال خان کی عملی ذمہ داری اور پولیس کے ان گمنام جوانوں کی محنت بھی شامل ہے جنہوں نے شاید پورا جشن نہ دیکھا ہو، مگر جشن کو محفوظ ضرور بنایا۔

یہ لوگ محفل کے مرکز میں نہیں۔

مگر محفل کی سلامتی کے مرکز میں ہیں۔

یہ لوگ نعت کے ساتھ نہیں۔

مگر نعت پڑھنے والوں کے راستے کے ساتھ ہیں۔

یہ لوگ چراغ جلانے والوں میں نہیں۔

مگر ان چراغوں کے نیچے کھڑے محافظ ہیں۔

اور شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ ہر شخص کا کردار الگ ہو، مگر مقصد خیر ہو۔

کوئی خوشی منائے۔

کوئی خوشی کی حفاظت کرے۔

کوئی درود پڑھے۔

کوئی درود پڑھنے والوں کے لیے راستہ محفوظ بنائے۔

کوئی چراغ جلائے۔

کوئی اس چراغ کے گرد امن قائم رکھے۔

یہ سب مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔

عید میلاد النبی ﷺ کے اس بابرکت موقع پر فتح جنگ کے ان محافظوں کو سلام جو اپنی ذمہ داری کو صرف ملازمت نہیں بلکہ امانت سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

خان شبیر کو سلام، جن کی نگرانی میں فتح جنگ سرکل پولیس اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

طاہر اقبال خان کو سلام، جو ایس ایچ او فتح جنگ کی حیثیت سے اپنی ٹیم کے ہمراہ سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اور ان تمام جوانوں کو سلام جو دھوپ، گرمی، تھکن اور طویل ڈیوٹی کے باوجود اپنی جگہ موجود ہیں۔

کیونکہ کسی شہر کی اصل خوشی تب مکمل ہوتی ہے جب اس کے شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں فرض، خدمت اور محبت ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔

فتح جنگ میں آج میلاد کی خوشبو ہے۔

درود کی مٹھاس ہے۔

چراغوں کی روشنی ہے۔

دلوں میں محبتِ رسول ﷺ ہے۔

اور ان سب کے درمیان کچھ خاموش محافظ ہیں جو اپنے حصے کا چراغ جلائے کھڑے ہیں۔

ان کا چراغ شاید دکھائی نہ دے۔

مگر اس کی روشنی لوگوں کے اطمینان میں محسوس ہوتی ہے۔

کیونکہ محبت کا سب سے خوبصورت اظہار کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی خوشی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کسی دوسرے کی خوشی کو محفوظ بنا دے۔

اور یہی خدمت ہے۔

یہی فرض ہے۔

یہی انسانیت ہے۔

اور ربیع الاول کی ان بابرکت ساعتوں میں شاید یہی سب سے خوبصورت پیغام بھی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »