اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ہم پاکستانی بڑے عجیب لوگ ہیں۔ ہم پولیس کو گالیاں بھی دیتے ہیں، پولیس سے ڈرتے بھی ہیں، پولیس سے کام بھی نکلواتے ہیں اور پھر کسی ایک ایماندار پولیس والے سے مل جائیں تو حیران بھی ہوتے ہیں کہ اچھا! ایسے بھی ہوتے ہیں؟
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ہم پاکستانی بڑے عجیب لوگ ہیں۔ ہم پولیس کو گالیاں بھی دیتے ہیں، پولیس سے ڈرتے بھی ہیں، پولیس سے کام بھی نکلواتے ہیں اور پھر کسی ایک ایماندار پولیس والے سے مل جائیں تو حیران بھی ہوتے ہیں کہ اچھا! ایسے بھی ہوتے ہیں؟
ہاں، ایسے بھی ہوتے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ طاہر اقبال خان کی کہانی قابلِ ذکر ہے۔
یہ کہانی کسی شہزادے کی نہیں، کسی جاگیردار کے وارث کی نہیں، کسی سیاسی خاندان کے چشم و چراغ کی نہیں۔ یہ ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جس نے قانون پڑھا، پھر وردی پہن کر اسی قانون کو سڑکوں، بازاروں، تھانوں اور جرائم کے بیچ آزمایا۔
شاید طاہر اقبال خان کے اندر وردی کا عشق پولیس میں آنے کے دن پیدا نہیں ہوا تھا؛ وردی کا مفہوم ان کے دل میں اس سے بہت پہلے اتر چکا تھا، جب ایک فوجی تعلیمی ادارے کے ماحول میں ان کے بچپن نے نظم، وطن اور فرض کو محض الفاظ کی صورت میں نہیں بلکہ ایک زندہ روایت کی شکل میں دیکھا۔
وہاں یونیفارم صرف لباس نہیں، وطن سے وفا، نظم، قربانی اور فرض شناسی کا سبق تھی۔ فوج ہو یا پولیس، وردی کا رنگ بدل سکتا ہے، مقصد نہیں؛ دونوں کے سینے میں ایک ہی وطن دھڑکتا ہے اور دونوں کے کندھوں پر اسی مٹی کی حفاظت کا قرض ہوتا ہے۔
یونیفارم پہننے والا آدمی جانتا ہے کہ زندگی صرف اپنی نہیں رہتی؛ اس کی سانسیں بھی فرض کی امانت بن جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے اس کے دل کی سب سے خوبصورت تمنا یہی ہوتی ہے:
زندگی غازی کی ہو، موت شہید کی—اور جب تک سانس ہے، پاکستان مقدم رہے۔
طاہر اقبال خان نے قانون پڑھا، مگر قانون کو صرف کتاب میں نہیں رہنے دیا۔
اے پی ایس اٹک سے ابتدائی تعلیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کیا۔ پھر 2014ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سب انسپکٹر کی حیثیت سے پنجاب پولیس میں داخل ہوئے۔
یہ انتخاب اپنے اندر ایک سوال بھی رکھتا ہے: قانون کا طالب علم پولیس کیوں چنتا ہے؟
شاید اس لیے کہ عدالت میں قانون دلیل کی شکل میں سامنے آتا ہے، جبکہ پولیس میں وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کے ساتھ آمنے سامنے ہوتا ہے۔ وہاں قانون کے سامنے جرم بھی ہوتا ہے، مجرم بھی، مظلوم بھی، سفارش بھی، خوف بھی اور کبھی کبھی ایسا دباؤ بھی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔
طاہر اقبال خان نے پولیس کو صرف ایک عہدے کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کی سروس مختلف ذمہ داریوں سے گزری۔ PRO، PSO اور CSO کی ذمہ داریاں ادا کیں، ضلع اٹک کے کمپلینٹ سیل سے وابستہ رہے اور پھر فیلڈ پولیسنگ میں اترے۔
ایس ایچ او ایئرپورٹ، ایس ایچ او باہتر اور ایس ایچ او سٹی حسن ابدال کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔
یہ تجربات ایک افسر کو صرف فائلوں کا آدمی نہیں رہنے دیتے۔ شکایتی سیل میں بیٹھ کر شہری کا دکھ سننا اور فیلڈ میں مجرم کا تعاقب کرنا پولیس کے دو مختلف چہرے ہیں۔ ایک جگہ ریاست کو نرم ہاتھ سے بولنا پڑتا ہے، دوسری جگہ اسے قانون کی سختی دکھانی پڑتی ہے۔
اصل کمال شاید دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے میں ہے۔
باہتر میں ایک مسلح مقابلہ اس سفر کا ایک سخت باب بنا۔
ڈاکوؤں کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں ایک ڈاکو زخمی ہوا۔ اس گروہ کے ایک رکن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کے دہشت گرد عناصر سے روابط تھے۔
ایسے واقعات کو کاغذ پر لکھنا آسان ہے: مقابلہ، فائرنگ، زخمی ملزم۔
مگر فیلڈ میں یہ چند الفاظ نہیں ہوتے۔ وہاں ہر لمحہ ایک سوال ہوتا ہے، ہر آواز خطرے کا امکان اور ہر فیصلہ کسی کی زندگی کا فیصلہ بن سکتا ہے۔
ایک دوسرے واقعے میں ایک ایسے ڈاکو کے خلاف کارروائی ہوئی جس پر الزام تھا کہ اس نے ٹیکسی چھیننے کے دوران ایک غریب ڈرائیور کو قتل کیا تھا۔ بعد ازاں پولیس مقابلے میں وہ ڈاکو مارا گیا۔
یہاں پولیس کی ذمہ داری کا ایک انسانی پہلو سامنے آتا ہے جسے اعداد و شمار اکثر چھپا دیتے ہیں۔
ایک مقتول ڈرائیور کے گھر میں شاید کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایف آئی آر کس دفعہ کے تحت درج ہوئی؛ اسے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ گھر کا کمانے والا واپس نہیں آئے گا۔
قانون کسی انسان کو واپس نہیں لا سکتا، مگر قاتل کو قانون کے دائرے میں لانا کم از کم انصاف کی طرف ایک قدم ضرور ہے۔
مگر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پولیس افسر کی بہادری کا آخری امتحان بندوق ہے تو کہانی ابھی ادھوری ہے۔
اصل امتحان کبھی کبھی خاموشی میں ہوتا ہے۔
کوئی بندوق سامنے نہیں ہوتی، کوئی وردی پر گولی نہیں چل رہی ہوتی، کوئی سائرن نہیں بج رہا ہوتا۔
صرف ایک پیشکش ہوتی ہے۔
طاہر اقبال خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ زمینوں پر قبضہ کرنے والے عناصر نے انہیں کروڑوں روپے کی رشوت کی پیشکش کی۔ انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا راستہ اختیار کیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
ایمانداری آخر ہے کیا؟
کیا ایمانداری یہ ہے کہ آدمی غریب ہو اور رشوت لینے کا موقع ہی نہ ملے؟
یا یہ کہ آدمی کے پاس اختیار بھی ہو، موقع بھی ہو، رقم بھی ہو اور پھر وہ اپنے ضمیر کو بیچنے سے انکار کر دے؟
دوسری صورت میں ایمانداری محض اخلاقی خوبی نہیں رہتی، کردار بن جاتی ہے۔
اور کردار کی قیمت ہمیشہ اس وقت معلوم ہوتی ہے جب سامنے فائدہ موجود ہو۔
طاہر اقبال خان کے کیریئر میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔
پولیس ان کے لیے واحد ممکنہ راستہ نہیں تھی۔
انہوں نے FPSC کے ذریعے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس، گریڈ 17 کے لیے کامیابی حاصل کی۔ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا راستہ بھی ان کے سامنے آیا۔
وہ چاہیں تو ایک مختلف سرکاری زندگی اختیار کر سکتے تھے۔
لیکن انہوں نے پولیس میں رہنے کو ترجیح دی۔
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ بعض اوقات انسان کی ترجیحات اس کے حاصل کردہ عہدے سے زیادہ اس عہدے سے ظاہر ہوتی ہیں جسے وہ چھوڑ دیتا ہے۔
گریڈ، دفتر اور نسبتاً محفوظ راستے موجود تھے، مگر فیلڈ پولیسنگ کا انتخاب برقرار رہا۔
پھر CSS آیا۔
2020ء میں تحریری امتحان پاس کیا۔ 2022ء میں PMS کا تحریری امتحان بھی کامیابی سے عبور کیا۔ مگر حتمی الاٹمنٹ چند نمبروں کے فاصلے پر رہ گئی۔
چند نمبر!
یہ دو لفظ بظاہر معمولی ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک امیدوار کی راتیں، محنت، امیدیں اور برسوں کے خواب ہوتے ہیں۔
بعض لوگ ایسی ناکامی کے بعد راستہ بدل لیتے ہیں۔ بعض اپنے آپ کو الزام دیتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ خاموشی سے اگلے دن دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتے ہیں۔
یہی شاید پیشہ ورانہ مزاج کی ایک علامت ہے: شکست کو اپنی شناخت نہ بننے دینا۔
طاہر اقبال خان کا سفر سب انسپکٹر سے شروع ہوا اور مختلف ذمہ داریوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔ لیکن کسی افسر کا اصل قد اس کے عہدے کے نام سے نہیں، اس کے فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے۔
اب فتح جنگ ہے۔
تھانے کی کرسی بظاہر ایک میز، چند فائلیں، ایک فون اور کچھ اختیارات کا مجموعہ ہے۔ حقیقت میں یہ پورے علاقے کے خوف، امید، شکایات اور تنازعات کا مرکز ہوتی ہے۔
یہاں ہر شخص اپنے آپ کو درست سمجھتا ہے اور پولیس سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس کی طرف کھڑی ہو۔
مگر ریاست کسی ایک فریق کی نہیں ہوتی۔
پولیس کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے قانون کو چھوٹا اور کمزور کے سامنے بڑا نہ کر دے۔
سفارش آئے گی۔
دباؤ آئے گا۔
فون آئیں گے۔
نام لیے جائیں گے۔
کبھی کوئی بااثر شخص کہے گا کہ معاملہ دیکھ لیں۔
کبھی کوئی غریب شخص صرف یہ چاہے گا کہ اسے تھانے میں انسان سمجھ کر سنا جائے۔
ایسے میں ایس ایچ او کا ایک فیصلہ کسی کے لیے معمولی اور کسی دوسرے کے لیے پوری زندگی کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
اسی لیے پولیس افسر کی اصل کامیابی صرف گرفتاریوں کی تعداد نہیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ عام شہری تھانے سے نکلتے وقت یہ محسوس کرے کہ ریاست نے اس کی بات سنی ہے۔
طاہر اقبال خان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ایک ساتھ رکھیں تو ایک دلچسپ تصویر بنتی ہے: فوجی ماحول میں پرورش پانے والا طالب علم، قانون کا گریجویٹ، پولیس کا سب انسپکٹر، مختلف انتظامی اور فیلڈ ذمہ داریوں کا تجربہ رکھنے والا افسر، خطرناک کارروائیوں کا سامنا کرنے والا اہلکار، اعلیٰ مسابقتی امتحانات میں کامیاب ہونے والا امیدوار اور ایسے سرکاری مواقع کو چھوڑ کر پولیس میں رہنے والا شخص جو اس کے لیے ایک مختلف مستقبل کھول سکتے تھے۔
یہ سب الگ الگ واقعات نہیں۔
یہ ایک مزاج کے مختلف رنگ ہیں۔
اور شاید اس مزاج کو سمجھنے کے لیے پھر وہی پہلی تصویر سامنے لانا پڑے گی: فوجی ادارے کا ایک بچہ، سامنے وردی، قدموں کی آواز، قطار میں کھڑے جوان، اور دل میں اترتا ہوا یہ احساس کہ وطن صرف نقشے پر بنا ہوا خطہ نہیں؛ وطن ان لوگوں کا نام بھی ہے جن کی حفاظت کا فرض کسی دن تمہارے کندھوں پر آ سکتا ہے۔
اسی لیے وردی سے محبت محض جذبات نہیں ہونی چاہیے۔ اسے قانون، ضبط اور قربانی میں ڈھلنا چاہیے۔
کیونکہ وردی کی سب سے بڑی شان اس کی چمک نہیں، اسے پہننے والے کا کردار ہے۔
ایک سپاہی ہو یا پولیس افسر، دونوں سے قوم کو آخرکار یہی توقع ہوتی ہے کہ جب خوف سامنے آئے تو فرض پیچھے نہ ہٹے؛ جب لالچ سامنے آئے تو ضمیر خاموش نہ ہو؛ اور جب کمزور دروازے پر کھڑا ہو تو ریاست کی طاقت اس کے خلاف نہیں، اس کے ساتھ کھڑی ہو۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں یونیفارم کپڑے سے بلند ہو کر علامت بن جاتی ہے۔
وطن کی علامت۔
ذمہ داری کی علامت۔
قربانی کی علامت۔
اور اس آدمی کی بھی علامت جو جانتا ہے کہ وردی پہن لینے کے بعد زندگی صرف اس کی اپنی نہیں رہتی۔
وردی جسم پر ایک لباس ضرور ہے، مگر اس کی اصل جگہ آدمی کے ضمیر پر ہے۔
اور جس دن کوئی افسر یہ فرق سمجھ لیتا ہے، اسی دن وہ محض وردی پہننے والا شخص نہیں رہتا۔
وہ وردی کا امین بن جاتا ہے۔

