اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) کیپٹن راجہ محمد سرور شہید نشانِ حیدر پانے والے پہلے فوجی، کیپٹن سرور شہید کی 78 ویں برسی آج منائی جائے گی
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) کیپٹن راجہ محمد سرور شہید نشانِ حیدر پانے والے پہلے فوجی، کیپٹن سرور شہید کی 78 ویں برسی آج منائی جائے گی’ اس موقع پر، ان کے آبائی گاؤں میں واقع ان کی یادگار پر فوجی دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا’ راجہ محمد سرور 10 نومبر 1910 کو گوجر خان کے گاؤں سنگھوری میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، راجہ محمد حیات خان، برطانوی فوج میں برطانوی حکومت نے پہلی جنگ عظیم کے دوران خدمات کے صلے میں راجہ حیات خان کو سمندری کے قریب اراضی بطور تحفہ دی تھی’راجہ سرور نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد کے اسلامیہ ہائی اسکول سے حاصل کی راجہ سرور کو فٹ بال اور کبڈی کے کھیلوں میں گہری دلچسپی تھی’ اپریل 1929 میں بطور سپاہی فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1941 تک بلوچ رجمنٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1944 میں انہیں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن ملا ‘ انہوں نے قیامِ پاکستان سے کچھ ماہ قبل کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1947 میں جب ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تو راجہ محمد سرور نے کشمیر کو واپس لینے کے لیے تشکیل دی جانے والی بٹالین کا حصہ بننے کے لیے رضاکارانہ طور پر پیشکش کی ‘انہیں پنجاب رجمنٹ کی دوسری بٹالین کا کمپنی کمانڈر مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں رجمنٹ نے بھارتی افواج کو گلگت بلتستان کے بعض علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاہم، جب ان کے سپاہی دشمن کی ایک مضبوطی سے محفوظ پوزیشن پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھے تو اوڑی سیکٹر میں موجود مخالف افواج کی جانب سے انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے ہی وہ اپنی بٹالین کے ہمراہ آگے بڑھتے رہے، فائرنگ، دستی بموں کے حملوں اور مارٹر گولوں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ دشمن کی صفوں میں مزید پیش قدمی کی کوشش کے دوران خاردار تاروں کی رکاوٹ کاٹنے کی کوشش میں، 27 جولائی 1948 کو ان کے سینے پر متعدد گولیاں لگیں اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی بہادری کے اعتراف میں، پاک فوج کی جانب سے کیپٹن سرور کو نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ گوجر خان میں واقع ’سرور شہید کالج‘ کا نام انہی کے اعزاز میں رکھا گیا ‘سرور کی میت ‘تلپاترا کی پہاڑی پر سپردِ خاک کی گئی، جو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کے قریب واقع ہے انہیں وہاں 27 جولائی 1948 کو دفن کیا گیا تھا۔ لاہور کینٹ میں قومی ہیرو کیپٹن سرور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک یادگار، ایک سڑک اور ایک جنرلز کالونی ان کے نام سے منسوب کی گئی’ بریگیڈیئر اسماعیل صدیقی اور محمد حنیف شاہد نے شہید کی سوانح حیات مرتب کی ‘ پاکستان پوسٹ نے بھی ان کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا’ شہید کے چاہنے والوں نے ان کے گاؤں میں آبائی گھر کی تجدید و مرمت ‘ میوزیم ، لائبریری اور ریکارڈ روم قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

