راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ) راولپنڈی رنگ روڈ کے سروس ایریا اور نشاط سینما سے متعلق این او سی کے اجرا کے معاملے کے بعد حکومت پنجاب نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلے کر دیے
Share
راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ) راولپنڈی رنگ روڈ کے سروس ایریا اور نشاط سینما سے متعلق این او سی کے اجرا کے معاملے کے بعد حکومت پنجاب نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلے کر دیے، تاہم اس کیس سے متعلق دفاتر میں کام کرنے والے بعض رجسٹری محرران اور دیگر قریبی اہلکار بدستور اپنی نشستوں پر تعینات ہیں، جس پر عوامی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رجسٹری محرران گزشتہ چار سے پانچ سال سے مسلسل اسی نشست پر تعینات تھے۔ ان کی ذمہ داری صرف رجسٹری محرر کی نہیں تھی بلکہ وہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے کارِ خاص کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے اور دفتری و انتظامی معاملات میں خصوصی رسائی رکھتے تھے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ رجسٹری محرران میں سے دو اہلکار ڈپٹی کمشنر کے انتہائی قریبی کارِ خاص تصور کیے جاتے تھے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر رنگ روڈ سروس ایریا اور نشاط سینما سے متعلق این او سیز کے اجرا میں بے ضابطگیوں یا جعلی این او سی کے اجرا کے خدشات کی تحقیقات ہو رہی ہیں تو ان اہلکاروں کے کردار کا بھی مکمل اور غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف اعلیٰ افسران کے تبادلوں تک معاملہ محدود نہ رکھا جائے بلکہ تمام متعلقہ رجسٹری محرران، خاص طور پر وہ اہلکار جو طویل عرصے سے اسی نشست پر تعینات رہے اور ڈپٹی کمشنر کے کارِ خاص کے طور پر کام کرتے رہے، انہیں بھی فوری طور پر انتظامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے تاکہ تحقیقات مکمل شفاف انداز میں انجام پا سکیں۔

