حیدرآباد (ڈیجیٹل پوسٹ) نسیم نگر پولیس کی کارروائی، 16 سالہ طالب علم علی مرتضیٰ بروہی کو سیشن کورٹ حیدرآباد سے تحویل میں لینے کا انکشاف ایس ایس پی حیدرآباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ والد سینئر صحافی
Share
حیدرآباد (ڈیجیٹل پوسٹ): حیدرآباد میں نسیم نگر پولیس کی کارروائی ایک بار پھر تنازع کا باعث بن گئی۔ اطلاعات کے مطابق 16 سالہ میٹرک کا طالب علم علی مرتضیٰ بروہی، جو سیشن کورٹ حیدرآباد میں اپنی پکی ضمانت کی کارروائی کے سلسلے میں موجود تھا، کو پولیس نے عدالت کے احاطے سے اپنی تحویل میں لے لیا۔اہل خانہ اور متعلقہ افراد کا مؤقف ہے کہ علی مرتضیٰ بروہی کا تعلق ایک ایسے مقدمے سے جوڑا گیا جس میں ایک چوری کی واردات کی تفتیش کے دوران مبینہ طور پر صرف سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر اس پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ ان کے مطابق طالب علم کا مؤقف ہے کہ وہ واردات کے وقت صرف اس گلی سے گزر رہا تھا اور اس کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ معاملے کی مزید جانچ کے لیے کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ بھی متعلقہ حکام کے پاس موجود ہے۔خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ اس سے قبل بھی نسیم نگر پولیس کی کارروائیوں کے دوران ان کے گھر میں داخل ہو کر خواتین سے بدسلوکی اور تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک تین ماہ کا حمل بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ان الزامات کے بعد ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے ایس ایچ او نسیم نگر ظہیر سولنگی کو معطل کر دیا تھا۔متاثرہ خاندان اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس پی حیدرآباد اس تازہ واقعے کا بھی فوری نوٹس لیں، عدالت سے طالب علم کو تحویل میں لینے کے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے قانون سے ہٹ کر کارروائی کی گئی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

