LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) زینب ایوب تفتیشی نظام میں میرٹ، جرات اور پیشہ ورانہ دیانت کی روشن مثال

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ہمارے معاشرے میں پولیس کا ذکر آتے ہی عام آدمی کے ذہن میں متعدد سوالات ابھرتے ہیں۔ کیا انصاف میسر آئے گا؟ کیا تفتیش غیر جانب دار ہوگی؟ کیا قانون طاقتور کے سامنے اپنی پوری قوت کے ساتھ کھڑا ہو سکے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو برسوں سے عوامی اعتماد کو متزلزل کرتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی افسر اپنی پیشہ ورانہ بصیرت، دیانت، اور قانون سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کر لے تو اس کا ذکر محض ستائش نہیں رہتا بلکہ ایک انتظامی حقیقت کے اعتراف کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

ایس پی انویسٹیگیشن زینب ایوب انہی افسران میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے تفتیشی شعبے کو محض دفتری کارروائی یا رسمی ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ اسے انصاف کی فراہمی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ ان کی ذمہ داری کا دائرہ صرف مقدمات کی فائلوں تک محدود نہیں، بلکہ ان فائلوں کے پس منظر میں موجود انسانی المیے، قانونی تقاضوں اور ریاستی جواب دہی تک پھیلا ہوا ہے۔

پاکستان میں تفتیشی نظام ہمیشہ سے پولیس کے نہایت حساس اور مشکل ترین شعبوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ایک ناقص یا جانبدار تفتیش نہ صرف کسی بے گناہ کو اذیت میں مبتلا کر سکتی ہے بلکہ اصل مجرم کو بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کا موقع فراہم کر دیتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی معاشرے میں انصاف کا معیار بڑی حد تک تفتیش کے معیار سے وابستہ ہوتا ہے۔ زینب ایوب کی کارکردگی کا نمایاں ترین پہلو یہی ہے کہ انہوں نے تفتیش کو محض روایتی بیانات اور کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے شواہد، حقائق اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

ان کے زیرِ نگرانی ہونے والی تفتیشوں کے حوالے سے پولیس حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ کیس کی باریکیوں پر غیر معمولی توجہ دیتی ہیں۔ محض رپورٹ طلب کر لینا ان کے نزدیک کافی نہیں، بلکہ وہ معاملات کی جامع جانچ، شواہد کے باریک بینی سے تجزیے اور تفتیشی افسران کی کارکردگی کے مسلسل جائزے کو ناگزیر سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے طرزِ عمل کو روایتی دفتری انداز سے مختلف اور زیادہ مؤثر قرار دیا جاتا ہے۔

زینب ایوب کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک اہم پہلو نگرانی اور احتساب کا مضبوط نظام بھی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ تفتیشی افسران کی کارکردگی پر مؤثر نگرانی نہیں ہوتی، جس کے باعث متعدد مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب اعلیٰ سطح پر نگرانی فعال اور بامقصد ہو تو تفتیشی عمل میں بہتری آتی ہے، مقدمات جلد نمٹتے ہیں اور عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ زینب ایوب نے اسی تصور کو عملی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔

خصوصاً خواتین، بچوں اور کمزور طبقات سے متعلق مقدمات میں حساسیت، وقار اور پیشہ ورانہ سنجیدگی کسی بھی پولیس افسر کے کردار کا اہم ترین پیمانہ ہوتی ہے۔ ایک خاتون پولیس افسر کی حیثیت سے زینب ایوب نے ایسے مقدمات کی نگرانی میں خصوصی دلچسپی اور توجہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا یہ طرزِ عمل متاثرہ خاندانوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کی شکایات محض ایک فائل نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی مسئلہ ہیں، جنہیں پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی ایک افسر کے لیے پورے نظام کو یکسر تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پولیس، پراسیکیوشن، فرانزک سائنس، عدالتی نظام اور گواہوں کے تعاون سمیت متعدد عوامل انصاف کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم ایک باصلاحیت اور دیانت دار افسر ان تمام ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باوجود اپنے دائرۂ اختیار میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے۔ زینب ایوب کی پیشہ ورانہ شناخت بھی اسی مسلسل اور مخلصانہ جدوجہد سے عبارت دکھائی دیتی ہے۔

ان کی قیادت میں تفتیشی عمل میں میرٹ، شواہد کی اہمیت اور قانونی تقاضوں پر زور دینے کا رجحان نمایاں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں ان کے بارے میں مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ہر افسر کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ اعداد و شمار، عدالتی نتائج اور ادارہ جاتی جائزوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایک افسر کا رویہ، اس کی دیانت داری اور اس کی انتظامی ترجیحات بھی عوامی اعتماد کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان کو آج ایسے ہی افسران کی ضرورت ہے جو قانون کو اپنی وفاداری کا مرکز بنائیں، دباؤ اور سفارش سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں، اور تفتیشی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ زینب ایوب کی پیشہ ورانہ جدوجہد اسی سمت میں ایک مثبت، سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ وہ آئندہ بھی میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے فرائض اسی وقار اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتی رہیں گی۔ کیونکہ ریاستیں صرف قوانین سے نہیں بلکہ ان قوانین پر دیانت داری سے عمل کرنے والے افراد سے مضبوط ہوتی ہیں، اور ایسے ہی کردار عوام کے دلوں میں اعتماد کی نئی شمع روشن کرتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »