LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکا ,ایران جنگ میں انتہائی ہولناک تیزی، پاکستان کافریقین سے تحمل پر زور

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حملوں کے تبادلے کے نتیجے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں انتہائی ہولناک تیزی آ گئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے ہیں۔
امریکی فوج نے ایران کے پانچ صوبوں کے نو مختلف شہروں پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے، جس میں 140 سے زیادہ جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان امن قائم کرنے کا جو پرانا معاہدہ ہوا تھا، وہ اب پوری طرح ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید لڑائی کے دوران اب سفارتی محاذ پر بھی بیانات کا تند و تیز سلسلہ شروع ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی یادداشت ’اسلام آباد ایم او یو‘ کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں۔ہر معاملے میں ہمارے اور دوسری پارٹی کے فرائض بالکل صاف تھے، اور یہ بات دستاویزات کے ساتھ ثابت کی جا سکتی ہے کہ دوسری پارٹی یعنی امریکا نے مختلف بہانوں سے اس معاہدے کے کئی حصوں کی خلاف ورزی کی ہے۔دوسری طرف، میدانِ جنگ سے آنے والی خبریں انتہائی خوفناک ہیں۔امریکا کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کے بعد روس مبینہ طور پر کھل کر ایران کی مدد کے لیے میدان میں آتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اب روس کے اس اڑتے ہوئے کمانڈ طیارے کے ایران پہنچنے کے بعد یہ جنگ ایک بہت ہی خطرناک اور بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کارروائی کا ایک نیا اور بہت بڑا مرحلہ شروع کیا ہے جس کے تحت پچھلے تین دنوں میں مجموعی طور پر 310 سے زیادہ حملے کیے جا چکے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملے امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے امریکی کمانڈر ان چیف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اسے مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی ایک بیان میں ایران کے دوبارہ محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم ایرانی جہازوں اور ایران کے گاہکوں کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ”صدر ٹرمپ نے ایرانی افواج کو دنیا کے سامنے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے عام بحری جہازوں اور ملاحوں کو نشانہ بنانے کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کا راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔“ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان امریکی حملوں کے بعد ایران کے اہم ساحلی شہر بندر عباس، جزیرہ قشم، سیرک اور جاسک میں انتہائی زوردار دھماکے سنے گئے۔ امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ہوا اور سمندر میں خود ہی جا کر پھٹنے والے خودکش ڈرون طیاروں کا استعمال بھی کیا ہے جن کی مدد سے ایران کے فوجی ریڈاروں، میزائلوں، اور چھوٹی جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے صوبے خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ان کے صوبے کے آٹھ مختلف مقامات پر رات کے اندھیرے میں بمباری کی۔ انہوں نے افسوسناک تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ماہشہر کے علاقے میں کھیتوں کو پانی دینے والے ایک سرکاری واٹر پمپنگ اسٹیشن پر امریکی پروجیکٹائل لگنے سے وہاں موجود ایک چوکیدار جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ایران نے بھی ان امریکی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیتے ہوئے خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کر دی ہے۔ ایران کی نیوز ایجنسی ’نور‘ کے مطابق، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود ’”دشمن کے اڈوں“ پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن کے ’پرنس حسن ایئربیس‘ پر میزائل داغ کر وہاں موجود امریکی تیل کے گوداموں اور بارود کے ذخائر کو آگ لگا دی ہے، جبکہ بحرین کے ’شیخ عیسیٰ ایئربیس‘ پر بھی حملہ کر کے امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کنٹرول روم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے کویت پر حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل امریکی ’اے ٹی اے سی ایم ایس‘ میزائل سسٹم پر لگے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔ واضح رہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے اس ایکشن کے بعد شروع ہوئیں جب ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو ایسے جہازوں کو روکنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے اپنے راستے بتانے والے سسٹم بند کر رکھے تھے اور وہ ”غیر قانونی“ طریقے سے سفر کر رہے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں یہ جوابی کارروائیاں جاری رکھے گا جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سمندری راستوں کو کھلا رکھیں گے اور ایران کے ایسے کسی بھی اقدام کا طاقت سے جواب دیں گے۔ دونوں طرف سے جاری اس شدید بمباری نے پورے علاقے کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے باوجود امریکا اور ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ہفتے کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے باوجود کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جن کے باعث علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں فوری کمی کے لیے اقدامات کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے جون 2026 کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں جب کہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔آبنائے ہرمز کی صورت حال پر ایران اور امریکا کے درمیان متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ تمام قانونی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے، جب کہ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران کی متعلقہ اتھارٹی نے اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اس سے قانونی طور پر گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اسے مالی معاوضہ ملنا چاہیے، جب کہ ایران کے عسکری ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔ ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے، شاید اسے گارڈین اینجل آف دی اسٹریٹ کہیں اور اس کے لیے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔ مزید کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے بہت زیادہ رقم حاصل کرے گا۔ ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہیں اور ہم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ ہم یہ سب کچھ مفت میں کریں۔ حالیہ دنوں میں امریکی فوج اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں فریق آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدرکے بقول، جب بھی وہ ڈرون بھیجتے ہیں، ہم انہیں بہت سخت جواب دیتے ہیں۔ مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ موجود تھا، لیکن ایران نے اسے توڑ دیا۔ وہ ہمیشہ معاہدے توڑتے ہیں، اس لیے ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ہم آبنائے کو اپنے پاس رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔ بعد ازاں صدرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی کھلی رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا ’ایرانی ناکا بندی‘ کو دوبارہ نافذ کر رہا ہے، جس کے تحت ان کے بقول صرف ایرانی جہازوں یا ایران کے گاہکوں کے جہازوں کی آمدورفت کو روکا جائے گا، جب کہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے منصفانہ اور آزادانہ استعمال کی اجازت ہوگی۔ مزید کہا کہ امریکا آئندہ ’گارڈین آف دی ہرمز اسٹریٹ‘ کے نام سے جانا جائے گا اور اس ذمہ داری کے تحت آبنائے ہرمز میں سلامتی اور تحفظ کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کے بدلے تمام بحری مال برداری پر 20 فی صد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس نظام کے قیام اور نفاذ کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق بیان پر ایرانی عسکری ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ ردِ عمل ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور ممکن ہے اس کے انتظامی امور بھی چلائے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام میں کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ہی دی جائے گی۔ آبنائے ہرمز میں امریکا کی ’بار بار کی مہم جوئی‘ نے خطے کی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور تیل بردار و تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری حکام نے خبردار کیا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کا عسکری یا لاجسٹک تعاون ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور اگر تنازع مزید پھیلا تو اس کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فی صد ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ قبل ازیں، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک ایران پر وعدہ خلافی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، امریکا نے مختلف بہانوں سے معاہدے کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کی۔ خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدے پورے نہ کرے تو تہران بھی اس معاہدے پر مزید عمل درآمد جاری رکھنے کا پابند نہیں رہے گا۔ ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور مارے جانے والے تمام شہریوں کے خون کے لیے انصاف کے حصول کو اپنی بنیادی پالیسی سمجھتا ہے۔ ان کے بقول تہران امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی اور بین الاقوامی راستے اختیار کرے گا۔ اسماعیل بقائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے عمان کے ساتھ ایک مشترکہ طریقۂ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم مسقط پر امریکی دباؤ ان کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔دوسری جانب یمن کا دارالحکومت صنعا ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق یمنی فوج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو اس وقت نشانہ بنایا جب حوثی باغی ایک ایرانی طیارے کو وہاں لینڈ کروانے کی تیاری کر رہے تھے۔ حوثی گروپ نے ان حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔’الجزیرہ‘ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے پیر کو یمنی فورسز کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کے ایک سویلین طیارے (ماہان ایئر) کو صنعا میں لینڈ کرنے سے روکنا تھا، جس میں تہران سے واپس آنے والا حوثی وفد سوار تھا۔یمنی حکومت کے مطابق حوثی باغیوں نے یمن کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کو صنعا میں اترنے سے روکا جب کہ ایرانی طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی، جو یمنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ واضح رہے کہ یمن اس وقت عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ملک کا دارالحکومت صنعا، شمالی یمن کے بیشتر علاقے اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جب کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے، جسے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔دوسری جانب حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔اس واقعے کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے دوبارہ یمن پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ یمن ماضی میں ہونے والی خانہ جنگی اور بین الاقوامی مداخلت کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کو اقوام متحدہ نے اکیسویں صدی کا ہولناک ترین انسانی بحران قرار دیا تھا۔سال 2015 میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے اور حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی تھی۔ جس کا مقصد حوثی باغیوں کو صنعا سے پیچھے دھکیلنا اور معزول صدر منصور ہادی کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔اس جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور قحط جیسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی جب کہ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد یمن میں امن کی امید پیدا ہوئی تھی تاہم تازہ پیش رفت نے اس خدشے کو بھی تقویت دی ہے کہ اس قسم کے واقعات سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پھر متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف ایران نے کویت، قطر، اردن اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور سب سے اہم سمندری راستے، یعنی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امریکی صدرنے صاف کہہ دیا ہے کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے، جبکہ ایران کے بڑے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اب یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ امریکا نے دو دن پہلے ایران پر نئی پابندیاں لگائی تھیں اور اب یہ پانچویں بار ہے کہ دونوں طرف سے اتنے بڑے حملے ہوئے ہیں۔ ایران کے ان جوابی حملوں کی وجہ سے خطے کے دوسرے ممالک بھی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا جاری رہنا ایک خطرناک صورتحال ہے جو خطے میں امن قائم کرنے کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کو تباہ کر دے گی، اسی طرح کویت نے بھی اپنے ملک پر ہونے والے ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں کا سلسلہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے جس سے خطے میں بے امنی پھیلے گی، دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کے حفاظتی نظام چوبیس گھنٹے پوری طرح الرٹ ہیں سعودی عرب نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے اس رویے کی مذمت کی ہےاگرچہ اس بار سعودی عرب کو نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن پچھلے ہفتے ان کا ایک تیل کا جہاز آبنائے ہرمز میں متاثر ہوا تھا۔ اب حالات اتنے غیر یقینی ہو چکے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کیونکہ ایک طرف ایران بدلے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف سفارتی بات چیت کا راستہ بھی کھلا رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »