اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی اقدام
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں جنگ، سیاسی کشیدگی، انسانی المیے اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی کراچی کی جانب سے “مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران اور امن و سفارت کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار” کے موضوع پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد نہ صرف بروقت بلکہ انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے۔ یہ سیمینار اس امر کا عکاس ہے کہ پاکستان کے علمی ادارے صرف تدریس تک محدود نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی معاملات پر فکری رہنمائی فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس اہم سیمینار کا اہتمام شعبۂ ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز (HSS) نے کیا، جس میں ممتاز سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور طلبہ نے شرکت کی۔ مقررین نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، اس کے علاقائی اور عالمی اثرات، اور امن کے قیام کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سیمینار کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ تمام مقررین نے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، مکالمے اور باہمی احترام کو واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔
ملائیشیا کے قونصل جنرل ہرمن ہارڈی ناتا احمد نے اپنے خطاب میں عالمی امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سفارتی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے دانشمندانہ سفارت کاری اور مسلسل مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے خیالات نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ امن صرف ریاستوں کے درمیان تعلقات کا نام نہیں بلکہ عوامی خوشحالی اور ترقی کی بنیادی شرط بھی ہے۔
کراچی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی مرکز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیا کا خطاب خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے ایران کے نقطۂ نظر کو واضح کرتے ہوئے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان کی حکومت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی عوام پاکستانی قوم کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں پاکستانی عوام نے جس خیرسگالی، محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، اس نے دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔
جامعہ کراچی کی سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے سیاسی، سماجی اور انسانی پہلوؤں کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ جنگوں اور تنازعات کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع کو فروغ دے تاکہ مستقل اور پائیدار امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر علی احسان نے اپنے مدلل خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ، عالمی طاقتوں کے کردار اور موجودہ بحران کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا یہی متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اسے خطے میں ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
سیمینار کا آغاز وائس چانسلر بریگیڈیئر (ر) پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس نے پورے مباحثے کا فکری رخ متعین کیا۔ انہوں نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں امن، سفارت کاری اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور اس امر پر زور دیا کہ جامعات کو قومی اور عالمی مسائل پر سنجیدہ علمی مکالمے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے شعبۂ ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مقررین، شرکاء اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔
یہ سیمینار اس حقیقت کا واضح اظہار تھا کہ پاکستان آج بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ علاقائی بحرانوں کے دوران پاکستان نے جس متوازن، ذمہ دارانہ اور دوراندیش پالیسی کا مظاہرہ کیا، اسے بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومتِ پاکستان کی کوششوں کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کو ایک سنجیدہ اور امن دوست ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی اور شعبۂ ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز اس کامیاب اور بامقصد سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ایسے علمی فورمز نہ صرف طلبہ اور محققین کی فکری تربیت کرتے ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی مثبت اور تعمیری مباحثے کو فروغ دیتے ہیں۔ آج جب دنیا کو جنگوں کے بجائے امن کی ضرورت ہے، ایسے سیمینار امید، دانش اور سفارت کاری کے روشن چراغ ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ امن، باہمی احترام اور تعمیری روابط پر رہی ہے، اور یہی پیغام اس سیمینار سے بھی ابھر کر سامنے آیا کہ مستقل امن کا راستہ طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے، تدبر اور سفارت کاری سے ہو کر گزرتا ہے۔

