اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بجلی بلوں میں ظالمانہ فکسڈ چارجز عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ ـ
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز آج پاکستان کے عوام کے لیے سب سے تکلیف دہ مسائل میں سے ایک بن چکے ہیں۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو پہلے ہی بری طرح متاثر کر رکھا ہے، روزمرہ زندگی کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور عام شہری کی آمدنی محدود ہوتی جا رہی ہے، بجلی کے بل ہر ماہ ایک نئے صدمے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جو عوامی مشکلات کی درست عکاسی کرتا ہے۔
بجلی آج کے دور میں کوئی آسائش نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ گھر، دکان، اسکول، اسپتال، دفتر، صنعت اور چھوٹا کاروبار سب بجلی کے محتاج ہیں۔ مگر موجودہ بلنگ نظام نے اس بنیادی سہولت کو عوام کے لیے ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ صارفین صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت ادا نہیں کر رہے بلکہ فکسڈ چارجز، ٹیکسز، سرچارجز اور دیگر اضافی مدات کے باعث اصل بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ ناانصافی ہے جس نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
بجلی کے بل کا اصول سادہ اور منصفانہ ہونا چاہیے کہ جو صارف زیادہ بجلی استعمال کرے وہ زیادہ ادائیگی کرے، اور جو کم بجلی استعمال کرے اسے ریلیف ملے۔ بدقسمتی سے فکسڈ چارجز نے اس اصول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک غریب خاندان اگر احتیاط کے ساتھ بجلی استعمال کرتا ہے، غیر ضروری لائٹس بند رکھتا ہے، پنکھے اور برقی آلات کم چلاتا ہے، تب بھی اسے فکسڈ چارجز کی وجہ سے بھاری بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سہولت دینے کے بجائے سزا دی جا رہی ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا نے اس ناانصافی کی ایک واضح مثال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں ان کے اپنے بجلی کے بل میں استعمال شدہ یونٹس کی اصل قیمت تقریباً 6 ہزار 200 روپے تھی، جبکہ اس پر فکسڈ چارجز 6 ہزار 800 روپے لگا دیئے گئے۔ یعنی اصل بجلی کی قیمت سے زیادہ اضافی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ بلنگ نظام کس حد تک غیر متوازن اور غیر منصفانہ ہو چکا ہے۔
اگر ایک پارلیمنٹیرین کے بل میں فکسڈ چارجز اصل استعمال سے زیادہ آ سکتے ہیں تو عام شہری، مزدور، پنشنر، روزانہ اجرت پر کام کرنے والا، کم آمدنی والا گھرانہ اور چھوٹا دکاندار کس تکلیف سے گزرتا ہوگا؟ آج کئی خاندان بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے خوراک، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور سفری اخراجات تک کم کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ کسی بھی شہری کو اس صورتحال میں نہیں دھکیلنا چاہیے کہ وہ بجلی کے بل اور گھر کے ضروری اخراجات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔
یہ دلیل کہ فکسڈ چارجز بجلی کے شعبے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ضروری ہیں، عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ عوام کو توانائی کے شعبے کی ناکامیوں، لائن لاسز، بجلی چوری، گردشی قرضوں، مہنگے معاہدوں، ناقص انتظامی پالیسیوں اور تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین پر مسلسل بوجھ ڈالنا اصلاحات نہیں بلکہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
کئی برسوں سے عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ بجلی کے شعبے کی بہتری کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں، مگر ان سخت فیصلوں کا نتیجہ ہمیشہ عوام کے لیے مہنگے بلوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اصل سخت فیصلے تو ان عناصر کے خلاف ہونے چاہئیں جو بجلی چوری، نظامی خرابی، بدانتظامی، غیر ضروری اخراجات اور ناقص معاہدوں کے ذمہ دار ہیں۔ اصلاحات کا مطلب عوام کی جیب سے مزید رقم نکالنا نہیں بلکہ نظام کی خرابیوں کو درست کرنا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کا وزارت توانائی کے اعلیٰ حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔ تاہم یہ معاملہ صرف روایتی بریفنگز اور سرکاری وضاحتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ وزارت توانائی کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ فکسڈ چارجز کس قانون، کس اصول اور کس حساب کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ایسا بوجھ کیوں اٹھانا پڑتا ہے جو ان کے حقیقی استعمال سے مطابقت نہیں رکھتا؟
ایک منصفانہ بجلی بلنگ نظام شفافیت، affordability اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین، خاص طور پر محفوظ اور کم آمدنی والے طبقات، کو فکسڈ چارجز سے فوری ریلیف دیا جانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ بجلی کے بلوں میں شامل تمام اضافی چارجز، ٹیکسز اور سرچارجز کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ صارفین سے وہی رقم وصول کی جائے جو ان کے حقیقی استعمال کے قریب تر ہو۔
بجلی کے بلوں میں عوامی ریلیف اب ایک فوری قومی ضرورت بن چکا ہے۔ اس سے نہ صرف گھریلو صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ چھوٹے کاروبار، دکاندار، صنعتیں اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہونے سے بچ سکیں گے۔ جب بجلی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے تو کاروبار بند ہوتے ہیں، پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور عوامی بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس لیے بجلی کے بلوں میں انصاف صرف ایک گھریلو مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام بجلی کی قیمت ادا کرنے سے انکار نہیں کر رہے۔ عوام صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان سے وہی وصول کیا جائے جو انہوں نے استعمال کیا ہے۔ وہ ایسا نظام قبول نہیں کر سکتے جس میں اصل استعمال سے زیادہ فکسڈ چارجز اور اضافی مدات شامل کر کے بل ناقابل برداشت بنا دیا جائے۔ بجلی کا بل عوام سے ریونیو اکٹھا کرنے کا ظالمانہ ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
فکسڈ چارجز کے خاتمے کا مطالبہ جائز، معقول اور فوری توجہ کا مستحق ہے۔ یہ معاشی ریلیف، سماجی انصاف اور عوامی اعتماد کا معاملہ ہے۔ وزارت توانائی کو سنجیدگی اور شفافیت کے ساتھ اس مسئلے کا حل پیش کرنا ہوگا۔ ایسے فکسڈ چارجز جو اصل استعمال کو مسخ کر دیں یا بل کو غیر منصفانہ بنا دیں، انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایسے بجلی بلنگ نظام کی ضرورت ہے جو غریب کو تحفظ دے، ایماندار صارف کا احترام کرے اور ہر گھر تک انصاف پہنچائے۔

