لاھور (ڈیجیٹل پوسٹ) خانیوال پولیس کے حساس ترین انتظامی مرکز، ڈی پی او آفس خانیوال، میں برسوں سے قائم ایک مبینہ خاموش مگر انتہائی طاقتور دفتری نظام بالآخر بڑے اقدام کی زد میں آ گیا ہے
Share
لاھور (ڈیجیٹل پوسٹ) خانیوال پولیس کے حساس ترین انتظامی مرکز، ڈی پی او آفس خانیوال، میں برسوں سے قائم ایک مبینہ خاموش مگر انتہائی طاقتور دفتری نظام بالآخر بڑے اقدام کی زد میں آ گیا ہے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس، اندرونی شکایات اور طویل عرصے سے جاری نگرانی کے بعد ڈی پی او خانیوال عابد علی نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پورے ضلع کی پولیس بیوروکریسی میں ہلچل، بے چینی اور غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ تیرہ سال آٹھ ماہ سے ایک ہی دفتر میں تعینات سٹینوگرافر محمد مقصود ولد محمد یوسف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو خانیوال پولیس میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس کے اثرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں مگر دفتری حلقوں میں اس کے بعد پیدا ہونے والی خاموشی اور اضطراب واضح محسوس کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اچانک نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل پس منظر ہے جس میں خفیہ اداروں کی رپورٹس، دفتری نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی، مختلف سطحوں پر ملنے والی غیر رسمی شکایات اور بعض داخلی اختلافات شامل ہیں۔ محمد مقصود کا نام ڈی پی او آفس خانیوال میں ایک ایسے اہلکار کے طور پر لیا جاتا رہا جو محض دفتری ذمہ داریوں تک محدود نہیں تھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک غیر رسمی مگر مؤثر اثر و رسوخ کے مرکز کے طور پر ابھرا۔
محمد مقصود کی تعیناتی 20 جولائی 2012 کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بطور سٹینوگرافر ہوئی جبکہ صرف دو ماہ بعد 18 ستمبر 2012 کو انہیں ڈی پی او آفس خانیوال میں تعینات کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مسلسل تیرہ سال سے زائد عرصہ تک اسی دفتر میں موجود رہے۔ پولیس کے سابق افسران اور انتظامی ماہرین کے مطابق کسی بھی حساس ادارے میں ایک ہی اہلکار کا اتنے طویل عرصے تک ایک ہی ضلع اور ایک ہی دفتر میں موجود رہنا خود ایک غیر معمولی صورتحال ہے، جو اکثر اوقات ادارہ جاتی توازن اور شفافیت پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محمد مقصود کے گرد ایک ایسا دفتری ماحول تشکیل پایا جسے بعض اہلکار “غیر رسمی طاقت کا نیٹ ورک” قرار دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم فائلوں کی نقل و حرکت، تبادلوں سے متعلق سمریوں، محکمانہ انکوائریوں اور بعض حساس دفتری معاملات میں ان کا کردار غیر معمولی حد تک بڑھ گیا تھا۔ بعض اہلکاروں کے مطابق یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ ڈی پی او آفس میں بعض فیصلوں کی اصل سمت فائل پر دستخط کرنے والے افسر کے بجائے اس کے پیچھے موجود دفتری عملے کے ذریعے طے ہوتی تھی۔
ذرائع اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ محمد مقصود کے بعض سابق ریڈرز اور دفتری حلقوں کے ساتھ قریبی روابط رہے جنہوں نے مبینہ طور پر ان کے دفتری اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان روابط کے نتیجے میں یہ تاثر عام ہوا کہ تبادلوں، پوسٹنگز اور بعض محکمانہ کارروائیوں کے نتائج اکثر اوقات غیر رسمی مشاورت اور اثر و رسوخ کے دائرے میں طے ہوتے رہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق موجود نہیں، تاہم پولیس حلقوں میں یہ بات طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہے۔
خانیوال پولیس کے اندرونی ذرائع کے مطابق محکمانہ کارروائیوں کے آغاز اور اختتام کے عمل میں بھی مبینہ طور پر غیر معمولی اثر و رسوخ کی شکایات سامنے آتی رہیں۔ بعض اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کچھ انکوائریاں غیر معمولی طور پر سست روی کا شکار رہتیں جبکہ بعض معاملات اچانک تیزی سے نمٹ جاتے، جس پر ادارے کے اندر سوالات اٹھتے رہے۔ ان ہی حالات نے خفیہ اداروں کی توجہ اس پورے دفتری نظام کی طرف مبذول کرائی۔
ٹریفک امور میں بھی محمد مقصود کا نام مختلف مواقع پر سامنے آتا رہا۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک عرصے تک ٹریفک معاملات میں فوکل پرسن کے طور پر کام کرتے رہے اور ڈرائیونگ لائسنسوں کے اجرا سے متعلق معاملات میں مبینہ طور پر کوٹہ سسٹم اور بیرونی لین دین جیسے غیر رسمی طریقہ کار کی شکایات گردش کرتی رہیں۔ بعض شہریوں کا دعویٰ ہے کہ کئی ایسے افراد کو بھی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے جو معمول کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اگرچہ یہ دعوے باقاعدہ ریکارڈ کی صورت میں ثابت نہیں ہو سکے، تاہم ان کی بازگشت طویل عرصے سے موجود رہی۔
سرکاری رہائش کے معاملے نے بھی اس پورے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق محمد مقصود کو فیملی رہائش کے تحت ایک سرکاری کوارٹر الاٹ کیا گیا تھا جو برسوں تک بغیر ہاؤس رینٹ کٹوتی کے استعمال ہوتا رہا۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس رہائش گاہ میں اکیلے رہائش پذیر رہے۔ مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اس کوارٹر کے استعمال کے حوالے سے بعض غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاعات گردش کرتی رہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔
خواتین عملے سے متعلق شکایات نے اس پورے معاملے کو ایک اور حساس پہلو فراہم کیا۔ ذرائع کے مطابق بعض خواتین اہلکاروں کی جانب سے غیر رسمی سطح پر ہراسانی، دباؤ اور بلیک میلنگ سے متعلق شکایات کا ذکر کیا جاتا رہا، تاہم دفتری ماحول اور ممکنہ نتائج کے خوف کے باعث کوئی باقاعدہ تحریری شکایت سامنے نہیں آ سکی۔ اس صورتحال نے دفتری ماحول میں ایک غیر محسوس خوف کی کیفیت پیدا کیے رکھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق محمد مقصود کے سیاسی و سماجی روابط بھی وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے جنہوں نے ان کے دفتری اثر و رسوخ کو مزید تقویت دی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان روابط کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کا عمل بھی طویل عرصے تک مؤخر ہوتا رہا۔ تاہم حالیہ خفیہ رپورٹس کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی اور ایک نئی انتظامی حکمت عملی کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
سب سے اہم اور حساس پہلو ان کے مبینہ مالی اثاثے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمد مقصود کے پاس موجود جائیدادیں اور مالی وسائل ان کی معلوم آمدن سے کہیں زیادہ ہیں۔ عارف والا میں آبائی گھر کے علاوہ مبینہ طور پر ایک مویشی فارم بھی قائم ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ان کے مالی حالات میں نمایاں اور غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی، جس نے خفیہ اداروں اور محکمانہ سطح پر سوالات کو جنم دیا۔
ڈی پی او خانیوال عابد علی کی جانب سے محمد مقصود کو عہدے سے ہٹانے کے اقدام کو پولیس کے اندرونی نظام میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈی پی او آفس خانیوال میں نہ صرف دفتری سرگرمیوں کا انداز تبدیل ہوا ہے بلکہ بعض اہلکاروں کے مطابق فائلوں کی رفتار، فیصلوں کی نوعیت اور اندرونی ماحول میں واضح فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے سابق افسران کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک ہی دفتر میں طویل تعیناتی، غیر رسمی روابط اور کمزور احتسابی ڈھانچہ مل کر ایک متوازی طاقت پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ادارہ جاتی نگرانی کمزور ہو جائے اور تبادلے و احتساب کا عمل متاثر ہو جائے تو پھر دفتری سطح پر ایسے اثر و رسوخ جنم لیتے ہیں جو بظاہر ایک فرد سے شروع ہوتے ہیں مگر پورے نظام کو متاثر کر دیتے ہیں۔
شہری حلقوں، وکلاء، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی جامع، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ نہ صرف حقائق سامنے آ سکیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی دفتری نظام میں کسی بھی سطح پر اختیارات کے غلط استعمال، مالی بے ضابطگیوں یا غیر رسمی اثر و رسوخ کا کوئی سلسلہ موجود رہا ہے تو اس کی مکمل چھان بین ناگزیر ہے۔
خانیوال پولیس کے اندر اس وقت ایک غیر معمولی خاموشی اور تجسس کی فضا ہے۔ ایک طرف وہ اہلکار ہیں جو اس فیصلے کو اصلاحی اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ حلقے ہیں جو اسے ایک بڑے داخلی نظام کی تبدیلی کا آغاز سمجھ رہے ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ڈی پی او آفس خانیوال میں ہونے والی اس کارروائی نے ایک ایسے دور کا خاتمہ کر دیا ہے جس کے بارے میں برسوں سے سرگوشیاں تو تھیں مگر کھل کر بات کم ہی ہوتی تھی۔

