LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) تھرڈ پارٹی ورکرز کے حقوق سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر شدید تحفظات سماجی و سیاسی رہنما لیاقت علی ساہی نے وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرڈ پارٹی ورکرز کو مستقل ملازمت کا آئینی حق تسلیم نہ کرنا لاکھوں محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کو متاثر کرے گا۔

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) تھرڈ پارٹی ورکرز کے حقوق سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پر شدید تحفظات سماجی و سیاسی رہنما لیاقت علی ساہی نے وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرڈ پارٹی ورکرز کو مستقل ملازمت کا آئینی حق تسلیم نہ کرنا لاکھوں محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کو متاثر کرے گا۔
پاکستان کا دستور ہر شہری کو مساوی حقوق، انسانی وقار، قانون کے مطابق تحفظ اور استحصال سے آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 3، 4، 9، 18، 25 اور 37(e) واضح طور پر ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ وہ محنت کش طبقے کے حقوق، فلاح اور سماجی تحفظ کو یقینی بنائے۔
لیاقت علی ساہی نے کہا کہ ملک بھر کے سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں برسوں سے مستقل نوعیت کا کام تھرڈ پارٹی اور آؤٹ سورسنگ کے ذریعے لیا جا رہا ہے، مگر محنت کشوں کو مستقل ملازمت، پنشن، سوشل سکیورٹی، میڈیکل سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کھلی ناانصافی اور استحصالی طرزِ عمل ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس قومی مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور محنت کش طبقے کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایمپلائمنٹ اسٹینڈنگ آرڈر 1968 پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، کیونکہ یہ قانون محنت کشوں کے روزگار، سروس اسٹرکچر اور بنیادی تحفظات کے لیے پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی و قانونی ضمانت ہے لیاقت علی ساہی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی منظور کردہ قانون سازی، خصوصاً اسٹینڈنگ آرڈر 1968، پر عمل درآمد کرانے کے بجائے عدالتیں اداروں کی انتظامیہ کو مکمل آزاد چھوڑ دیں تو پھر پارلیمنٹ کی قانون سازی کی آئینی حیثیت اور وقار پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار اور عوامی نمائندگی کی بنیاد ہے، اس لیے کسی بھی انتظامیہ کو مزدور قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں مزدوروں کے تحفظ، مساوی سلوک اور استحصالی نظام کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ ایسے میں حالیہ فیصلے سے محنت کش طبقے میں بے چینی اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے انہوں نے تمام مزدور تنظیموں، ٹریڈ یونینز، وکلاء تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس اہم قومی مسئلے پر متحد ہو کر آواز بلند کریں تاکہ محنت کش طبقے کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مزدور صرف روزگار نہیں بلکہ عزت، تحفظ اور مساوی حقوق بھی مانگتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر محنت کش کو انصاف فراہم کرے اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ مزدور قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔..

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »