اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران , امریکا مذاکرات کی کامیابی پاکستانی معیشت کے لیےبڑا گیم چینجر
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران , امریکا مذاکرات کی کامیابی پاکستانی معیشت کے لیےبڑا گیم چینجر بن سکتی ہیں, ایران نے امریکا کی تجاویز کے جواب میں پاکستان کے ذریعے اپنی 14 نکاتی تجویز واشنگٹن کو ارسال کر دی ہیں، جن میں مذاکرات کیلئے شرائط نرم کرتے ہوئے ایک ماہ میں مسائل حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کی اگلی سفارتی حکمتِ عملی اس وقت انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران کی 14 نکاتی تجویز واشنگٹن پہنچانے کے بعد، اسلام آباد کے اگلے ممکنہ اقدامات یہ ہو سکتے ہیں:
1. اسلام آباد میں “گرینڈ ڈائیلاگ” کی میزبانی;
پاکستان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے نمائندوں کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا جائے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان ایک ایسی خفیہ یا اعلانیہ نشست کی تیاری کر رہا ہے جہاں دونوں فریقین پاکستان کی ثالثی میں ان 14 نکات پر براہِ راست بحث کر سکیں۔
2. واشنگٹن اور تہران کے درمیان “تکنیکی خلا” کو پُر کرنا;
چونکہ صدر ٹرمپ نے ایرانی نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس لیے پاکستانی دفترِ خارجہ اور سیکیورٹی حکام اب اس دستاویز کی ایسی تشریح یا ترامیم پر کام کر سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہوں۔
پاکستان کا ہدف یہ ہے کہ “جوہری پروگرام” اور “علاقائی مداخلت” جیسے مشکل موضوعات پر ایران سے کچھ لچک دکھانے کا کہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو انگیج رکھا جا سکے۔
3. علاقائی بلاک (سعودی عرب اور ترکیہ) کو اعتماد میں لیناپاکستان جانتا ہے کہ خلیج میں پائیدار امن کے لیے سعودی عرب کا اعتماد ضروری ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری قیادت آنے والے دنوں میں ریاض اور انقرہ کے ساتھ مزید مشاورت کر سکتے ہیں تاکہ ایران کے 14 نکاتی منصوبے کو ایک “علاقائی امن فارمولے” کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
4. آبنائے ہرمز کے لیے “ضامن” کا کردار;
ایران نے آبنائے ہرمز کے لیے جو نیا انتظامی میکانزم تجویز کیا ہے، اس میں پاکستان خود کو ایک غیر جانبدار ضامن یا مبصر کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
پاکستان کی بحریہ اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت اور تجارتی جہازوں کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے کسی مشترکہ فریم ورک کا حصہ بننے کی پیشکش کر سکتی ہے۔
5. شٹل ڈپلومیسی کا نیا دور;
اگر واشنگٹن سے کوئی باقاعدہ جوابی تجویز (Counter-proposal) آتی ہے، تو پاکستانی قیادت فوری طور پر تہران کا دورہ کرے گی تاکہ ایرانی قیادت کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ وہ امریکی تحفظات کو دور کریں۔
پاکستان کا اگلا قدم صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ اب ایک ایکٹو فیسیلی ٹیٹر بن کر دونوں فریقین کو سمجھوتے کے درمیانی راستے پر لانے کی کوشش کرے گا۔ یہ تجاویز، جنہیں پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجا گیا، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی کامیابی سے معیشت پر ممکنہ اثرات درج ذیل ہیں:
. پاک-ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل;
سب سے بڑا فائدہ برسوں سے لٹکے ہوئے گیس پائپ لائن منصوبے (IP Project) کی شکل میں ہوگا۔
سستی توانائی: ایران سے سستی گیس کی فراہمی سے پاکستان کا توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے۔
جرمانے سے بچت:
پاکستان پر اس منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے اربوں ڈالر جرمانے کی تلوار لٹک رہی ہے، جو مذاکرات کی کامیابی اور امریکی پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں ٹل جائے گی۔
. دوطرفہ تجارت میں اضافہ ;
فی الحال پابندیوں کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان زیادہ تر تجارت اسمگلنگ یا بارٹر (مال کے بدلے مال) کے ذریعے ہوتی ہے۔
باقاعدہ بینکنگ چینلز:
پابندیاں ختم ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز کھل جائیں گے، جس سے قانونی تجارت کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
زرعی برآمدات:
پاکستان اپنی چاول، گوشت اور پھلوں کی برآمدات کے لیے ایران کی بڑی منڈی تک باآسانی رسائی حاصل کر لے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی سستی فراہمی;
ایران سے پیٹرول اور ڈیزل کی قانونی درآمد سے پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ عام آدمی اور صنعتوں کو پہنچے گا۔
سی پیک اور علاقائی رابطےگوادر اور چابہار کا اشتراک:
مذاکرات کی کامیابی سے گوادر اور چابہار بندرگاہوں کے درمیان تعاون بڑھے گا، جس سے پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے تجارت کا مرکز بن جائے گا۔
ٹرانزٹ ٹریڈ:
پاکستان کے راستے ایرانی سامان کی نقل و حمل سے ٹرانزٹ فیس کی مد میں بھاری زرمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔
ڈالر کے دباؤ میں کمی ;
ایران نے اپنی تجاویز میں مقامی کرنسی یا چینی یوان میں تجارت کی بات کی ہے۔ اگر پاکستان ایران سے تیل اور گیس ڈالر کے بجائے کسی اور میکانزم سے خریدتا ہے، تو ہمارے روپے پر ڈالر کا دباؤ کم ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے۔
.غیر ملکی سرمایہ کاری ;
خطے میں امن کی صورت میں پاکستان کا کنٹری رسک
(Country Risk) کم ہو جائے گا، جس سے عالمی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔
پاکستان کے لیے یہ صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک اقتصادی لائف لائن ثابت ہو سکتی ہے جو ملک کو آئی ایم ایف (IMF) جیسے اداروں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گی;
ایران اور امریکہ کے درمیان کامیاب مذاکرات اور ایران کی عالمی تنہائی کے خاتمے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو ایک نئی وسعت ملے گی، جو اسے محض ایک کوریڈور سے بدل کر ایک علاقائی تجارتی نیٹ ورک بنا دے گی۔
سی پیک پر پڑنے والے مخصوص اثرات درج ذیل ہیں:
1. سی پیک کا ایران تک پھیلاؤ (CPEC-Plus)مذاکرات کی کامیابی سے ایران باقاعدہ طور پر سی پیک کا حصہ بن سکتا ہے۔ چین پہلے ہی ایران کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدہ کر چکا ہے۔ ایران کی شمولیت سے سی پیک کا دائرہ کار گوادر سے نکل کر تہران اور پھر ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پھیل جائے گا، جو اس منصوبے کی افادیت کو دوگنا کر دے گا۔
2. گوادر اور چابہار:
“سسٹر پورٹس” کا عملی روپاب تک گوادر اور چابہار کو ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا رہا ہے۔ تناؤ ختم ہونے کی صورت میں:دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی تکمیل کریں گی۔گوادر کو ایرانی ریلوے اور سڑکوں کے نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے گا، جس سے وسطی ایشیا اور روس تک رسائی کے لیے پاکستان کے پاس ایک متبادل اور مختصر ترین راستہ ہوگا۔
3. توانائی کی حفاظت (Energy Security)سی پیک کے تحت پاکستان میں لگنے والے صنعتی زونز (SEZs) کو سستی توانائی کی ضرورت ہے۔ایران سے گیس اور بجلی کی براہِ راست ترسیل سی پیک کے صنعتی منصوبوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی کرے گی، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔
4. مغربی روٹ (Western Route) کی اہمیت میں اضافہ ;
سی پیک کا مغربی روٹ جو بلوچستان سے گزرتا ہے، ایران کے ساتھ سرحد (تفتان اور گبد) سے منسلک ہے۔امن کی صورت میں اس روٹ پر تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی، جس سے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی ہوگی اور عسکریت پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
5. چینی سرمایہ کاری کا تحفظ;
چین نے سی پیک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ ایران و امریکہ کے درمیان کسی بھی جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا۔ مذاکرات کی کامیابی چینی کمپنیوں کو پر اعتماد کرے گی کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مزید بڑے منصوبے شروع کریں۔
6. امریکی اعتراضات میں کمی;
امریکہ اکثر سی پیک کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ اگر امریکہ خود ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جاتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، تو سی پیک جیسے منصوبوں پر اس کا سیاسی دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے، کیونکہ مستحکم خطہ خود امریکہ کے تجارتی مفاد میں ہوگا۔
سی پیک کے لیے ایران ایک “مسنگ لنک” (Missing Link) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کی شمولیت سے سی پیک صرف پاکستان اور چین کا منصوبہ نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے ایشیا کو جوڑنے والا سب سے بڑا تجارتی مرکز بن جائے گا۔
اہم نکات:14 نکاتی ایجنڈا:
مستقل جنگ بندی:
ایران نے امریکا کی دو ماہ کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کے برعکس 30 دن کے اندر تمام مسائل حل کرنے اور جنگ کے مستقل خاتمے پر زور دیا ہے۔
عسکری مطالبات:
خطے سے امریکی افواج کا انخلا اور ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی ہے,
اقتصادی شرائط:
منجمد اثاثوں کی بحالی، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ،
اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز:
عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم اس شاہراہ کے لیے ایک نئے انتظامی میکانزم کی تجویز دی گئی ہے۔
علاقائی امن:
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مکمل خاتمے کو اس منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تجاویز میں خطے سے امریکی فوج کا انخلا، آبنائے ہرمز کھولنے اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔
پاکستانی ثالثی:
ایران نے ان تجاویز کے لیے پاکستان کو اپنا ثالث بنایا۔
پیش رفت: توقع کی جا رہی ہے کہ ان تجاویز کے ذریعے پابندیوں میں نرمی اور امریکی-ایرانی مذاکرات کی بحالی پر پیش رفت ہو سکے۔
ایران نے امریکا کی 9 نکاتی تجویز کے جواب میں اپنی شرائط پاکستان کی وساطت سے واشنگٹن تک پہنچا ئی ہیں، جس میں جنگ بندی کی مدت بڑھانے کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے,
نئی تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کی تجاویز کے جواب میں پاکستان کے ذریعے اپنی 14 نکاتی تجاویز میں واشنگٹن کو واضح کیا ہے کہ امریکا کو ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں 2 ماہ کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کو 30 دن کے اندر حل کیا جائے اور جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔
ایران کی 14 نکاتی تجویز میں متعدد اہم امور شامل ہیں، جن میں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی تجویز بھی ایرانی منصوبے کا حصہ ہے اور ایران اس وقت اپنی تجاویز پر امریکا کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جمعرات کو امریکا کو 14 نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے تجویز سے آگاہ ذرائع کے مطابق اس میں ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے پر معاہدہ کیا جائے گا۔ ایرانی تجویز کے مطابق اس ابتدائی معاہدے کے بعد مزید ایک ماہ کی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی ہےاس کے بعد کوپر خطے کے دورے پر روانہ ہوئے اور ہفتے کے روز بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹرپولی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ہفتے کے روز پام بیچ سے میامی روانگی سے قبل انہوں نے بتایا کہ وہ پرواز کے دوران اس کا جائزہ لیں گے۔ مزید کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی ردعمل میں ان تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس دستاویز کے مکمل متن کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں متوقع ہے۔
ایران کے 14 نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز
(Strait of Hormuz) کے حوالے سے پیش کی گئی تجویز کو سب سے اہم تزویراتی نکتہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس نئے انتظامی میکانزم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک:
ایران نے تجویز دی ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے غیر علاقائی طاقتوں (امریکا و دیگر) کے بجائے علاقائی ممالک پر مشتمل ایک نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔
جہاز رانی کی آزادی:
اس میکانزم کا مقصد تیل کے ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو کسی بھی قسم کے حملے یا قبضے کے خوف کے بغیر محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔کشیدگی کا خاتمہ: ایران اس نکتے کے ذریعے یہ ضمانت دینا چاہتا ہے کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو وہ عالمی سپلائی لائن کو متاثر نہیں کرے گا، جو کہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔
امریکی اثر و رسوخ کی نفی:
اس تجویز کا ایک مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی کو ختم کرنا یا کم سے کم کرنا ہے۔آبنائے ہرمز سے روزانہ عالمی تیل کی کل کھپت کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ گزرتا ہے، اسی لیے اس “نئے انتظامی میکانزم” پر عالمی منڈیوں اور واشنگٹن کی گہری نظر ہے
اس منصوبے کے معاشی اثرات یا امریکی ردعمل درج ذیل ہیں:
1. امریکی ردعمل:
“عدم اطمینان اور شکوک و شبہات”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ وہ اس ایرانی منصوبے سے مطمئن نہیں ہیں۔
ان کے ردعمل کے اہم پہلو یہ ہیں:
ناقابلِ قبول قرار:
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ تجاویز ان کے لیے قابلِ قبول ہوں گی کیونکہ ان کے بقول “ایران نے ابھی تک اپنے کیے کی پوری قیمت ادا نہیں کی”۔
فوجی حملوں کی دھمکی:
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے “بدتمیزی” کی تو امریکہ دوبارہ فوجی حملے شروع کر سکتا ہے۔
جوہری پروگرام پر ابہام:
امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی واضح ضمانت شامل نہیں ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اعلیٰ سطحی جائزہ:
اگرچہ ٹرمپ نے شکوک کا اظہار کیا ہے، تاہم وہ اس دستاویز کے حتمی متن کا جائزہ لینے پر آمادہ ہیں۔
2. معاشی اثرات: ”
عالمی توانائی کا بحران”جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، اور اس نئے منصوبے کے ذریعے ان اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے:
تیل کی قیمتوں میں اضافہ:
حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 سے 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے فی بیرل قیمت 80 سے 82 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 4.45 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت:
عالمی تیل کی سپلائی کا 20 سے 30 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس کی مکمل بندش سے روزانہ 80 سے 100 لاکھ بیرل تیل عالمی سپلائی سے نکل سکتا ہے۔
ایشیائی ممالک پر اثر:
بھارت، چین، جاپان اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ (تقریباً 75% تیل) اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک کی صنعتیں شدید دباؤ میں ہیں۔
یوہان (Yuan) میں تجارت:
ایران نے ایک ایسی تجویز بھی دی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے صرف ان ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو تیل کی تجارت چینی یواین میں کریں گے، تاکہ ڈالر کے اثر کو کم کیا جا سکے۔
3. ایرانی موقف ایران نے گیند اب واشنگٹن کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ ایرانی حکام کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ انہوں نے امن کی طرف قدم بڑھا دیا ہے، اب امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ چنتا ہے یا جنگ کا۔
ایران کے 14 نکاتی منصوبے میں کشیدگی کے خاتمے
(De-escalation) کے حوالے سے انتہائی سخت مگر جامع شرائط رکھی گئی ہیں، جن کا مقصد خطے میں فوجی تصادم کو مستقل بنیادوں پر روکنا ہے۔ اس کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
کثیر الجہتی جنگ بندی:
ایران کا مطالبہ ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہ رہے، بلکہ لبنان، شام، یمن اور عراق سمیت تمام محاذوں پر اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
30 دن کا فریم ورک:
ایران نے امریکی تجویز کے برعکس ایک مختصر ٹائم لائن دی ہے کہ تمام تصفیہ طلب فوجی اور سیاسی معاملات کو ایک ماہ (30 دن) کے اندر حل کیا جائے تاکہ غیر یقینی صورتحال ختم ہو۔ سیکورٹی ضمانتیں:
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے مستقبل میں کسی بھی قسم کی امریکی یا اسرائیلی جارحیت کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں تاکہ خطے میں دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ:
ایرانی موقف کے مطابق جب تک معاشی دہشت گردی (پابندیاں اور بحری ناکہ بندی) ختم نہیں ہوگی، حقیقی معنوں میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
پاکستان کا کردار: اس کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اس منصوبے کے ذریعے تہران نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع دے رہا ہے۔
ایران کا واضح موقف ہے کہ اگر یہ 14 نکات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو وہ خطے میں امن کی ضمانت دے گا، ورنہ کشیدگی میں مزید اضافے کا ذمہ دار واشنگٹن ہوگا۔ ایران کے 14 نکاتی منصوبے پر اب تک کا عالمی ردعمل ملا جلا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت شکوک و شبہات اور اسرائیل کی جانب سے تحفظات نمایاں ہیں۔اس منصوبے پر سامنے آنے والے اہم ردعمل درج ذیل ہیں:
. امریکی ردعمل (صدر ڈونلڈ ٹرمپ)امریکی صدر نے اس منصوبے کو “ناکافی” قرار دیتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے:عدم اطمینان: ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس منصوبے سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے خیال میں یہ ناقابل قبول ہوگا۔سخت موقف: ان کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ دہائیوں میں کیے گئے اقدامات کی ابھی “کافی قیمت” ادا نہیں کی ہے۔فوجی آپشن: صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔
اسرائیلی ردعمل;اسرائیل نے اس منصوبے کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے اور اپنے دفاعی اہداف پر اصرار کیا ہے:
لبنانی محاذ کا مسئلہ: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں جاری کارروائیوں پر نہیں ہوگا۔
فوجی مہم کا تسلسل: اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مہم اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک تمام تزویراتی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
اسرائیل نے تہران کے ساتھ کسی بھی رعایت کو “غلطی” قرار دیا ہے۔3. ایرانی ردعمل ; ایران نے دو ٹوک پیغام دیا ہے تہران کا کہنا ہے کہ وہ “امن اور جنگ” دونوں کے لیے تیار ہے؛ اگر امریکہ سفارت کاری کا راستہ نہیں چنتا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق یہ تجاویز ایران کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے اپنے دفاعی موقف پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک کلیدی ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے، جس نے یہ تحریری مسودہ واشنگٹن تک پہنچایا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کی کوششوں سے مذاکرات کا یہ عمل دوبارہ شروع ہوا ہے، تاہم کامیابی کا انحصار اب امریکی اور اسرائیلی حتمی فیصلوں پر ہے
ایران نے اپنی 14 نکاتی تجویز براہِ راست امریکا کو دینے کے بجائے پاکستانی ثالثوں کے حوالے کی، جنہوں نے اسے واشنگٹن تک پہنچایا۔
اعتماد کا رشتہ: پاکستان کے ایران اور امریکا، دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے گریز کر رہا ہے، اس لیے وہ پاکستان کو ایک بھروسہ مند چینل کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات: رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا اگلا اہم دور اسلام آباد میں متوقع ہے، جہاں دونوں جانب سے اہم شخصیات کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
علاقائی امن میں دلچسپی: پاکستان کے لیے ایران اور امریکا کی جنگ معاشی اور امن و امان کے لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہے، اس لیے پاکستانی قیادت اس تنازع کو سفارتی سطح پر حل کرانے کے لیے سرگرم ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق، پاکستان کی یہ “خاموش سفارت کاری” ہی تھی جس کی وجہ سے ایران نے ایک تحریری امن منصوبہ پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
پاکستانی قیادت اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اعلیٰ سطحی سفارت کاری میں مصروف ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
آرمی چیف کا دورۂ تہران : آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپریل کے آخری ہفتے میں تہران کا تین روزہ دورہ کیا۔ انہوں نے ایرانی قیادت اور مذاکراتی ٹیم سے ملاقاتیں کیں، جس میں واشنگٹن کا “نئی تجاویز” پر مبنی پیغام تہران تک پہنچایا گیا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ تہران صرف پاکستان میں مذاکرات پر آمادگی رکھتا ہے کیونکہ اسے اسلام آباد پر مکمل اعتماد ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیانات : وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں 47 سال بعد پہلی بار امریکا اور ایران کی قیادت براہِ راست مذاکرات کی میز پر آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے حال ہی میں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے کیے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پائیدار امن معاہدے کے لیے وسیع تر علاقائی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی اور انہیں اپنی حالیہ سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق، پاکستان خاموشی سے ایک “نئے فارمولے” پر کام کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر امریکا اور ایران کے درمیان موجود تعطل کو ختم کیا جا سکے ترجمان دفترِ خارجہ نے اعتراف کیا کہ امن کی راہ میں رکاوٹیں ضرور ہیں، لیکن پاکستان دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا, امریکی انتظامیہ اور صدر ٹرمپ اس مشکل مرحلے میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے اس مسودے کو فوری طور پر رد کرنے کے بجائے اس پر غور شروع کیا گیا ہےٹرمپ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی ترجیح ایک ایسا “گرینڈ ڈیل” ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام پر مستقل پابندیاں ہوں، جبکہ ایران کی 14 نکاتی تجویز میں زیادہ تر زور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی سلامتی پر دیا گیا ہےعالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے ان نکات میں سے چند پر بھی اتفاق کر لیا، تو یہ خطے میں بڑی جنگ کے بادل چھٹنے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع کی روشنی میں، ایران کے 14 نکاتی منصوبے پر امریکی انتظامیہ کے اگلے ممکنہ اقدامات درج ذیل ہو سکتے ہیں:جوابی “کاؤنٹر پروپوزل” (Counter-Proposal):امکان ہے کہ واشنگٹن ایران کے 14 نکات کے جواب میں اپنی ایک نئی ترمیم شدہ تجویز بھیجے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے جوہری پروگرام کی مستقل بندش اور بیلسٹک میزائلوں پر مزید سخت ضمانتیں مانگ سکتی ہے، جو ایران کی موجودہ تجویز میں واضح نہیں ہیں۔اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات:امریکی وزیرِ خارجہ یا کوئی اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد کا دورہ کر سکتا ہے تاکہ پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں ایرانی وفد سے ان 14 نکات پر تکنیکی بحث کی جا سکے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ “بات چیت کے لیے تیار ہیں” بشرطیکہ سودا ان کی شرائط کے قریب ہو۔پابندیوں میں جزوی نرمی کا لالچ:اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں، تو امریکہ خیر سگالی کے طور پر ایران کے کچھ منجمد اثاثوں (تقریباً 6 سے 10 ارب ڈالر) کو واگزار کرنے یا ادویات و خوراک کی ترسیل کے لیے بحری ناکہ بندی میں عارضی نرمی کا اعلان کر سکتا ہے تاکہ ایران کو مزید رعایتوں پر آمادہ کیا جا سکے۔
“انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی:صدر ٹرمپ اپنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” (Maximum Pressure) کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے فوری طور پر کوئی معاہدہ کرنے کے بجائے ایران کو مزید معاشی دباؤ میں رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ تہران اپنے 14 نکات میں مزید لچک پیدا کرے۔
علاقائی اتحادیوں سے مشاورت:واشنگٹن کوئی بھی حتمی قدم اٹھانے سے پہلے اسرائیل اور سعودی عرب کو اعتماد میں لے گا۔ اگر اسرائیل نے لبنانی محاذ پر جنگ بندی سے انکار کیا، تو امریکہ کے لیے ایران کی “کثیر الجہتی جنگ بندی” کی شرط ماننا مشکل ہو جائے گا۔
اگلا قدم فوجی نہیں بلکہ سخت سفارتی سودے بازی کا ہوگا، جس میں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد مرکزی اسٹیج بن سکتا ہے۔

