LOADING

Type to search

National

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) روزنامہ خبریں اھم حقائق سامنے لانے میں پھر بازی لے گیا

Share

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) روزنامہ خبریں اھم حقائق سامنے لانے میں پھر بازی لے گیا خانیوال میں ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والے قانون کے شکنجے میں کس دئیے گئے
تین تھانوں میں ایف آئی آرز درج ۔مقدمات کی ھیٹرک مکمل ۔ مزید ایف آئی آر درج ھونے کا امکان
اینٹی ریپ ایکٹ کو ذاتی دشمنی کا ہتھیار بنانے والوں پر خانیوال پولیس کی یلغار
حویلی کورنگا، سرائے سدھو اور کبیر والا سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ گئے
مدعی عدالتوں میں مکر گئے، پولیس نے الٹا مقدمات ٹھوک دیے
“زیرو ٹالرنس پالیسی” نافذ، جھوٹے الزامات لگانے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
ریپ قوانین کے غلط استعمال کا خوفناک چہرہ بے نقاب، پولیس کا آہنی شکنجہ
ڈی پی او محمد عابد ایکشن میں، جعلی مقدمات درج کروانے والوں کی دوڑیں لگ گئیں
عدالتوں کی جگہ قانون کو گمراہ کرنے والوں کے خلاف خانیوال پولیس کی تاریخی کارروائی
جھوٹے ریپ کیسز کے ذریعے مخالفین کو پھنسانے کی سازشیں ناکام بنا دی گئیں
بے گناہوں کو جیل بھجوانے کا کھیل الٹا پڑ گیا، مدعیان خود قانون کی لپیٹ میں آ گئے تفصلات کے مطابق خانیوال پولیس نے اینٹی ریپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف بڑا اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تھانہ حویلی کورنگا، تھانہ سرائے سدھو اور تھانہ سٹی کبیر والا میں درج تین مختلف ریپ مقدمات میں جھوٹ، گمراہ کن بیانات اور قانون کے غلط استعمال کے الزامات پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ڈی پی او خانیوال محمد عابد کی خصوصی ہدایات پر درج ہونے والے ان مقدمات نے ضلع بھر میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی جگہ قانون کو گمراہ کر کے ذاتی دشمنیوں، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے لیے سنگین قوانین کو استعمال کرنے والوں کے خلاف اب “نو مرسی پالیسی” کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق خانیوال پولیس نے حالیہ ہفتوں میں اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت درج ہونے والے متعدد حساس مقدمات کا ریکارڈ دوبارہ چیک کیا جس دوران تین ایسے کیسز سامنے آئے جن میں تفتیش، عدالتی بیانات اور شواہد نے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ پولیس حکام کے مطابق بعض عناصر سنگین نوعیت کے مقدمات کو مخالفین کے خلاف دباؤ بڑھانے، خاندانوں کو تقسیم کرنے اور بے گناہ افراد کو جیل بھجوانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، تاہم ڈی پی او خانیوال محمد عابد نے ایسے کیسز میں سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانون صرف مظلوم کے تحفظ کے لیے ہے، اسے ذاتی انتقام کا ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پہلا کیس تھانہ حویلی کورنگا میں سامنے آیا جہاں ایف آئی آر نمبر 206/26 میں مدعی عامر سہیل نے اپنے ہی بھائی کے خلاف بدفعلی کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔ مقدمہ درج ہوتے ہی علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی، خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جبکہ مقامی سطح پر معاملہ موضوع بحث بن گیا۔ پولیس نے حساس نوعیت کے باعث خصوصی تفتیش شروع کی اور شواہد، گواہوں اور عدالتی بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تفتیش مکمل ہونے پر الزام بے بنیاد ثابت ہوا جس کے بعد پولیس نے مدعی کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی دفعات 22-2 اے اور 22-2 بی کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
دوسرا کیس تھانہ سرائے سدھو میں سامنے آیا جہاں سابقہ ریپ کیس نمبر 600/25 میں مدعی محمد عرفان اور مرکزی گواہان عدالت میں اپنے ہی بیانات سے منحرف ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کی پیروی کے دوران سرکاری وسائل، نفری اور تفتیشی نظام پر بھاری دباؤ پڑا جبکہ کئی ماہ تک پولیس اہلکار کیس پر مصروف رہے، تاہم بعد ازاں گواہوں کے بدلتے بیانات نے پورے مقدمے کو مشکوک بنا دیا۔ پولیس نے جھوٹی اطلاع دینے، سرکاری مشینری کا وقت ضائع کرنے اور مقدمے کے ذریعے قانونی نظام کو گمراہ کرنے کے الزام میں دفعات 182، 213 اور 427 تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔
تیسرا اور سب سے زیادہ حیران کن واقعہ تھانہ سٹی کبیر والا میں رپورٹ ہوا جہاں مسمات امین شاہ نے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ ذرائع کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار رہے، تاہم بعد ازاں عدالت میں خاتون نے مبینہ وقوعہ سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد پورا کیس مشکوک ہو گیا۔ پولیس نے عدالتی بیان اور تفتیشی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد خاتون کے خلاف بھی اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جھوٹے مقدمات صرف ایک فرد یا خاندان کو متاثر نہیں کرتے بلکہ پورے انصاف اور تفتیشی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ ایک جھوٹے مقدمے کی وجہ سے پولیس فورس، عدالتوں، فرانزک نظام اور سرکاری وسائل پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ اصل متاثرین کے مقدمات بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض بے گناہ افراد ایسے مقدمات کی وجہ سے کئی کئی ماہ جیلوں میں رہتے ہیں، ان کی سماجی زندگی تباہ ہو جاتی ہے اور خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ڈی پی او خانیوال محمد عابد نے اس حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی طاقت صرف مظلوم شہریوں کے تحفظ کے لیے ہے اور اسے جھوٹ، بلیک میلنگ یا ذاتی دشمنیوں کے لیے استعمال کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں کی جگہ قانون کو گمراہ کرنے والے عناصر اب خود قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے مقدمات کے باعث نہ صرف بے گناہ شہری متاثر ہوتے ہیں بلکہ حقیقی متاثرین کے لیے انصاف کا عمل بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
خانیوال پولیس کے مطابق ضلع بھر میں جھوٹے مقدمات، گمراہ کن بیانات اور سنگین قوانین کے غلط استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جا رہا ہے جبکہ حساس مقدمات کی نگرانی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے بعد ایسے عناصر میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جو ماضی میں سنگین دفعات کو دباؤ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی جھوٹے مقدمے یا گمراہ کن الزام پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »