اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم پاکستان کی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران کو نئی تجاویز
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگ ختم کرنے کے لیے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے،
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے پاکستانی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملک کا تیل کا درآمدی بل ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ اس علاقائی تنازع کی وجہ سے پاکستان کا تیل کا ہفتہ وار بل تقریباً 167 فیصد اضافے کے ساتھ 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر اب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور یہ ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے جس کا ہمیں ہمت اور یکسوئی سے سامنا کرنا ہے۔ پاکستان اس جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے بے پناہ کاوشیں کر رہا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں ہی جنگ بندی میں توسیع ممکن ہوئی جو اب بھی برقرار ہے۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امن کے لیے ایران کو نئی تجاویز ارسال کی ہیں جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ مشاورت کے بعد ان تجاویز کا جواب دیں گے۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ یہ جنگ جلد ختم ہو کیونکہ اس اچانک چھڑنے والی جنگ نے گزشتہ دو سالوں کی ان معاشی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے جو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس جمعہ کو عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق نئی مقامی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کی وجہ سے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں تیل کے حصول کے لیے لمبی قطاریں یا افراتفری پیدا نہیں ہوئی اور حالات قابو میں رہے۔ وزیراعظم نے عوام سے تیل کی بچت کی اپیل بھی کی اور بتایا کہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں ملک میں تیل کی کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے جو ایک مثبت علامت ہے۔ عالمی منڈی کی صورتحال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برینٹ کروڈ کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جس کی بڑی وجہ امریکی ناکہ بندی میں توسیع کی خبریں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زراعت کے ساتھ ساتھ عوامی ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم شعبوں میں بھی عوام کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے مشاورت شروع کریں تاکہ عام آدمی کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔وزیراعظم پاکستان نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو نئی تجاویز بھیجی ہیں, جس میں پاکستان کے ذریعے اہم تجاویز واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہیں۔جنگ بندی اور قیامِ امن کے لیے سامنے آنے والی حالیہ تجاویز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:آبنائے ہرمز کی بحالی: ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔جوہری مذاکرات میں تاخیر: ایران کی نئی تجاویز میں جوہری معاملے پر بات چیت کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ناکہ بندی کا خاتمہ: ایران نے ان تجاویز کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور امن کی بحالی کی شرط رکھی ہے۔جنگ بندی میں توسیع: پاکستان کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کر دی ہے جب تک ایرانی قیادت کی جانب سے ان حتمی تجاویز پر بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی۔مستقل ضمانتیں: ایرانی تجاویز میں پہلے مرحلے پر عارضی اور پھر مستقبل میں مستقل جنگ بندی کی ضمانتیں شامل ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے اسلام آباد ان مذاکرات کے لیے مرکزی میزبان کے طور پر ابھرا ہے، جہاں دونوں فریقین کے درمیان “اسلام آباد ٹاکس” کے ذریعے جامع تصفیے کی کوششیں جاری ہیں۔”اسلام آباد ٹاکس” (Islamabad Talks) ایران اور امریکہ کے درمیان 2026 کی حالیہ جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان کی زیرِ صدارت ایک تاریخی سفارتی کوشش ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک جامع تصفیہ (Comprehensive Peace Deal) تک پہنچنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لایا جا سکے۔
اس عمل کی تازہ ترین صورتحال اور اہم پہلو درج ذیل ہیں:
مذاکرات کا پہلا دور اور موجودہ پیش رفت : 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل براہِ راست مذاکرات ہوئے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے 1979 کے بعد دونوں حریفوں کے درمیان پہلا آمنے سامنے بیٹھنے کا “تاریخی موقع” قرار دیا۔
تحریری تجاویز کا تبادلہ: آمنے سامنے گفتگو کے بعد اب فریقین تحریری متن (Written Texts) کے تبادلے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جو کہ مذاکرات کے زیادہ سنجیدہ اور حتمی مرحلے کی علامت ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے جامع تصفیے کے اہم نکات پاکستان کے ذریعے دونوں فریقین نے اپنی اپنی شرائط پیش کی ہیں,
ایران کا 10 نکاتی منصوبہ:
ایران نے آبنائے ہرمز کی نگرانی، خطے سے امریکی افواج کا انخلا، تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے مطالبات رکھے ہیں۔
امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ:
امریکہ کے منصوبے میں ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ، میزائلوں پر پابندی اور آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنا شامل ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردارثالثی :
وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار فعال طور پر “شٹل ڈپلومیسی” (Shuttle Diplomacy) کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
جنگ بندی میں توسیع: پاکستان کی خصوصی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی تاکہ اسلام آباد میں سفارتی کوششیں اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکیں۔اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے، لیکن اسلام آباد ان مذاکرات کے ذریعے “مستقل امن معاہدے” کی طرف بڑھنے کے لیے پرامید ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے باعث خطے سمیت پاکستان کی معیشت بھی دباؤ میں آئی، تاہم سعودی عرب کی بروقت مدد سے حکومت ’فنانشل شاک‘ برداشت کرنے میں کامیاب رہی۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس تنازعے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو بڑھا دیا، جو ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق خدشات کے درمیان بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی کی ہے جس میں یورو بانڈز میں 1.4 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا: ’اللہ تعالی نے ہماری معیشت کو میکرو لیول پر رکھا تھا اور ہم بہتری کی طرف جا رہے تھے لیکن اس اچانک جنگ کے نتیجے میں، پچھلے دو سال کی ہماری کوششیں ماند پڑ گئیں۔‘
مزید کہا کہ ’عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا بل 30 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت نے جمعے کو نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہیں۔ کابینہ کو بتایا کہ ملک کی ایندھن کی کھپت ’گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صورت حال کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے اور ایندھن کی سبسڈی بڑھانے کے لیے صوبوں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو ایک مرتبہ پھر سراہا اور کہا کہ اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات کے دوران بہت زیادہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور یوں سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔ 11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع بھی ممکن ہو سکی تھی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق دار کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔کہا کہ کئی اہم شخصیات کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی۔ وزیراعظم نے کہا: ’ایران اور امریکہ کے درمیان 11 اپریل کی رات پاکستان میں ہونے والے مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے۔ یہ ایک طویل میراتھن سیشن تھا۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کی گئیں۔ ان کوششوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اسحاق ڈار، اور دیگر اہم شخصیات نے بھرپور کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سیز فائر میں توسیع دی گئی، جو اب بھی جاری ہے۔‘وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے روس جانے سے قبل انہیں فون پر بتایا کہ وہ اپنی قیادت سے مشورے کے بعد جلد از جلد جواب دیں گے۔ عباس عراقچی اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آئے تھے اور اگلے ہی دن عمان کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ بعدازاں ایرانی سفارت کار اسی روز عمان سے واپس آئے اور روس روانہ ہو گئے، جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولا دی میر پوتن سے ہوئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (انٹر نیشنل انرجی ایجنسی یا آئی ای اے) کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر اپنے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل مارکیٹ میں دستیاب کرنے پر اتفاق کیا تاکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والی تیل کی منڈیوں میں رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ آئی ای اے، جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت 32 ملک شامل ہیں، ترقی یافتہ، تیل استعمال کرنے والے ممالک کو توانائی کے تحفظ اور پائیداری کے بارے میں مشورہ دیتی ہے۔بین الحکومتی ایجنسی کی ویب سائٹ پر موجود ایک بیان کے مطابق: ہنگامی اجتماعی کارروائی کا فیصلہ گذشتہ روز آئی ای اے رکن حکومتوں کے ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد کیا گیا، جسے آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے درمیان مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لینے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے اختیارات پر غور کرنے کے لیے بلایا تھا۔ آئی ای اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ ’ہم تیل کی منڈی کے جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ بڑے پیمانے پر بے مثال ہیں، اس لیے مجھے بہت خوشی ہے کہ آئی ای اے کے ممبر ممالک نے بے مثال سائز کی ہنگامی اجتماعی کارروائی کے ساتھ جواب دیا ہے۔مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازعہ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی آمد میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے، اس وقت خام اور صاف شدہ مصنوعات کی برآمدات تنازعات سے پہلے کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم ہیں۔یہ پورے خطے کے آپریٹرز کو پیداوار کی کافی مقدار کو بند کرنے یا کم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘2025 میں اوسطاً دو کروڑ بیرل یومیہ خام تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں، یا دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا تقریباً 25 فیصد۔ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے تیل کے بہاؤ کے اختیارات محدود ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ آئی ای اے سیکرٹریٹ مزید تفصیلات فراہم کرے گا کہ اس اجتماعی کارروائی کو مقررہ وقت پر کیسے نافذ کیا جائے گا۔ یہ تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کی بھی کڑی نگرانی کرتا رہے گا اور ضرورت کے مطابق رکن حکومتوں کو سفارشات فراہم کرتا رہے گا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) پیرس میں قائم ایک خودمختار بین الحکومتی تنظیم ہے جو 1974 میں قابل اعتماد، سستی اور صاف توانائی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ ایجنسی اصل میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کو منظم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب یہ رکن ممالک کو توانائی کی حفاظت، اقتصادی ترقی اور عالمی صاف توانائی کی منتقلی کے بارے میں مشورہ دیتی ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورت حال پر ہونے والے مباحثے کے دوران کہی۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا بھر کے ممالک کو مشکل میں ڈال رکھا جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جہاں تیل کی قلت کا سامنا ہے وہیں قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو بھی چند مشکل فیصلے لینے پڑے ہیں۔ابتدا میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا تاہم بعد میں امریکہ نے بھی اس کی ناکہ بندی کا آغاز کر دیا۔اس بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے نے کہا کہ ’وسیع تر علاقائی کشیدگی بین الاقوامی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔‘عاصم افتخار نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی صورت حال دنیا بھر کے ممالک بشمول پاکستان پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔‘ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ہم بین الاقوامی قانون کے عالمی احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے حامی ہیں۔عاصم افتخار نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نازک مرحلے پر تحمل، مکالمہ اور سفارت کاری کو غالب آنا چاہیے۔پاکستان ایسے سفارتی راستوں کو آگے بڑھانے اور اس بحران کے پُرامن حل کی حمایت کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات اسی عزم کا ثبوت ہیں۔ پاکستان خطے میں مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں کی حمایت اور سہولت کاری جاری رکھے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے جبکہ دوسرے دور کے لیے بھی تیاریاں تو کر لی گئی تھیں تاہم ایران نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے تقریباً تین روز میں دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا اور اپنی تجاویز سے پاکستان کو آگاہ کیا۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے جدہ میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے علاقائی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں جی سی سی اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ جی سی سی کا یہ اجلاس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں ہوا جس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ جی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں سیکریٹری جنرل جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ سربراہان مملکت نے موجودہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، خصوصاً خطے میں کشیدگی، کونسل ممالک اور اردن پر ایران کے کھلے حملوں، اور ایسے سفارتی راستے قائم کرنے کے طریقوں پر جو بحران کا خاتمہ کریں۔ جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ اجلاس میں ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے، جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے، اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی نام سے فیس عائد کرنے جیسے غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور آزاد جہاز رانی بحال کی جائے اور صورتحال کو 28 فروری 2026 سے پہلے والی حالت میں واپس لایا جائے۔مزید کہا کہ خلیجی رہنماؤں نے سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے اجلاس بلانے کی دعوت کو سراہا، جو کونسل ممالک کے درمیان اتحاد مضبوط کرنے اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔جاسم محمد البدیوی نے واضح کیا کہ ’خلیجی رہنماؤں نے کونسل رکن ممالک اور اردن پر ایران کے کھلے حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ان حملوں کو انہوں نے کونسل ممالک کی ’خودمختاری، اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل سے بھی زیادہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا حملوں کا سامنا کیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی نے ایسے حملوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے داغے کے میزائلوں اور ڈرونز میں سے 83 فیصد کا سامنا جی سی سی ممالک کو کرنا پڑا جبکہ 17 فیصد کا ہدف اسرائیل تھا۔ کہا گیا کہ خلیجی ممالک میں اہم انفراسٹرکچر اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے یہ حملے خطرناک شدت اختیار کر چکے ہیں، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ’مجموعی طور پر داغے گئے ہتھیاروں کی تعداد 4,391 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل جو براہِ راست ایران پر حملے کر رہا ہے، پر 930 میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں، جو کہ کل علاقائی حملوں کا صرف 17 فیصد بنتے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تنازع کے آغاز سے اب تک سعودی عرب پر 723 میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ یو اے ای پر پر 2,156، بحرین پر 429، کویت پر 791، قطر پر 270 جبکہ عمان پر 22 حملے کیے گئے ہیں۔خلیجی فضائی دفاعی نظاموں نے ان خطرات کو ناکام بنانے میں غیر معمولی کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اور خود کو ایک ناقابلِ تسخیر ڈھال ثابت کیا ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو محفوظ بناتی ہے۔‘ خلیجی عرب ممالک کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں نشانہ بنانے والے یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور عالمی معیشت اور بین الاقوامی توانائی کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ سعودی عرب سمیت چھ پانچ عرب نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کے حالیہ حملے ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن کی طرف سے کہا گیا کہ ایسے حملے ’چاہے یہ براہِ راست کیے گئے ہوں یا ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے‘ نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے شروع کیے جانے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اسرائیل کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین پر بھی حملے شروع کر دیے تھے۔

