LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) حکمرانوں کی بے حسی مہنگائی کا طوفان، کیا عوام صرف ٹیکس بھرنے کے لیے ہیں؟

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) حکمرانوں کی بے حسی مہنگائی کا طوفان، کیا عوام صرف ٹیکس بھرنے کے لیے ہیں؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ غریب عوام پر مسلط کردہ وہ معاشی دہشت گردی ہے جس نے سفید پوش طبقے سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ آج جب پاکستان میں پٹرول کی قیمت 393.35 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 380.19 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے، تو یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ آخر یہ ریاست اپنے شہریوں کا لہو نچوڑ کر عالمی اداروں کی خوشنودی کب تک حاصل کرتی رہے گی؟ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں جنگی حالات کے باوجود 110 سے 120 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہیں، لیکن پاکستان میں قیمتیں اس لیے آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کیونکہ یہاں پٹرول کی اصل قیمت کم اور حکومتی بدانتظامی و ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے۔ عوام کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ وہ فی لیٹر پٹرول پر تقریباً 107 روپے صرف پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں ادا کر رہے ہیں، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر مارجنز ملا کر قیمت کا 40 فیصد حصہ براہِ راست حکومت کی جیب میں جاتا ہے۔ جب ہم ہمسایہ ممالک پر نظر ڈالتے ہیں تو شرم سے سر جھک جاتا ہے؛ بھارت جیسا ملک عالمی دباؤ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے روس سے سستا تیل خرید کر اپنے عوام کو تقریباً 345 روپے میں پٹرول فراہم کر رہا ہے، افغانستان جیسے ملک میں قیمتیں 300 روپے کے قریب ہیں، اور ایران میں تو تیل کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں محض 115 روپے کے لگ بھگ ہے، لیکن ہمارے حکمران اپنی “نام نہاد خودمختاری” کا جنازہ نکال کر صرف آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر جی رہے ہیں۔ یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان اس قابل ہے کہ وہ دنیا کے بڑے فیصلے کر سکتا ہے، عالمی سطح پر جنگیں رکوانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور امتِ مسلمہ کی قیادت کا دم بھرتا ہے، تو پھر وہ اپنے ہی ملک کے اندر عوام کے خلاف لگی اس “معاشی جنگ” کو کیوں نہیں روک پا رہا؟ کیا ہماری سفارت کاری صرف دوسروں کے مفادات کے لیے ہے؟ ہمیں ایٹمی طاقت ہونے کا کیا فائدہ اگر ہم آج بھی چند ٹکوں کے لیے عالمی پابندیوں کے خوف سے اپنے عوامی مفادات کی قربانی دے رہے ہیں؟ ایٹمی طاقت ہونے کا وقار تبھی برقرار رہ سکتا ہے جب ملک کی معیشت آزاد اور عوام خوشحال ہوں۔ اگر ہم پابندیوں کے ڈر سے ایران جیسے ہمسائے سے سستا تیل نہیں لے سکتے، جو ہمیں عالمی مارکیٹ سے 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت دے سکتا ہے، تو پھر یہ کیسی دفاعی اور ایٹمی برتری ہے جو اپنے شہریوں کو دو وقت کی روٹی اور سستا ایندھن فراہم کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتی؟ پٹرول مہنگا ہونے کا مطلب صرف سفر کا مہنگا ہونا نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست وار کسان کے ٹریکٹر پر، مال بردار ٹرکوں پر اور فیکٹریوں کی چمنیوں پر ہوتا ہے، جس سے آٹا، سبزی اور ہر ضروری چیز غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہے۔ یہ کیسی ریاست ہے جو بااثر اشرافیہ کی مراعات اور مفت پٹرول تو ختم نہیں کر سکتی لیکن ایک مزدور کی موٹر سائیکل میں ڈالنے والے پٹرول پر بھی سو روپے سے زائد ٹیکس وصول کرتی ہے؟ اگر پاکستان واقعی ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے تو اسے اب وہ تلخ اور جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے جو عوامی مفاد میں ہوں؛ ہمیں ایران اور روس کے ساتھ فوراً سستے تیل کے معاہدے کرنے چاہئیں اور بارٹر ٹریڈ کے ذریعے ڈالر کی زنجیریں توڑنی ہوں گی تاکہ پٹرول کی قیمت کو 200 سے 250 روپے کی سطح پر لایا جا سکے۔ حکمران یاد رکھیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے؛ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو پیسنے کے بجائے ان پالیسیوں کو پیسا جائے جو غیروں کے اشارے پر بنتی ہیں، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھوک گھروں میں ڈیرہ ڈالتی ہے تو پھر تخت و تاج سلامت نہیں رہتے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر تمام اضافی ٹیکس ختم کرے اور عوامی مفادات کو اپنی ترجیحات میں سب سے پہلے رکھے، کیونکہ ریاست عوام سے ہوتی ہے، عوام ریاست کی قربانی کے لیے نہیں ہوتے۔
“تیل کی قیمت نہیں، یہ خون ہے غریبوں کا – حکمران پی رہے ہیں، بڑے شوق کے ساتھ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »