رحیم یارخان (ڈیجیٹل پوسٹ) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صادق آباد میں تعیناتیوں اور انتظامی امور سے متعلق ایک معاملہ شہری حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے
Share
رحیم یارخان (ڈیجیٹل پوسٹ) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال صادق آباد میں تعیناتیوں اور انتظامی امور سے متعلق ایک معاملہ شہری حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں ڈاکٹر مجیب الرحمن پیرزادہ کے طرزِ عمل اور ذمہ داریوں کی ادائیگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مجیب الرحمن پیرزادہ کو گریڈ 18 کے سینیئر بلڈ ٹرانسفیوژن آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم وہ گزشتہ چار ماہ سے بغیر کسی باقاعدہ حکم نامے کے کارڈیک وارڈ میں بطور انچارج خدمات سرانجام دیتے رہے۔ حالیہ طور پر انہیں ان کی اصل پوسٹ یعنی بلڈ بینک میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی، مگر اطلاعات ہیں کہ وہ اس تعیناتی کو تسلیم کرنے کے بجائے کارڈیک وارڈ میں ہی اپنی تعیناتی برقرار رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کارڈیک فرسٹ ایڈ سینٹر کے لیے باقاعدہ روسٹر جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ مذکورہ ڈاکٹر کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں نائٹ شفٹ کے لیے بطور میڈیکل آفیسر ڈیوٹی سونپی گئی ہے۔ اس کے باوجود بلڈ بینک اس وقت سینیئر بلڈ ٹرانسفیوژن آفیسر کے بغیر چل رہا ہے، جو کہ ایک نہایت حساس شعبہ ہے اور عوامی صحت کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق غیر محفوظ انتقال خون مختلف مہلک بیماریوں، خصوصاً ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے کیسز میں اضافہ بھی رپورٹ ہوا ہے، جس کے پیش نظر بلڈ بینک میں مستند افسر کی عدم موجودگی تشویشناک ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور فوری طور پر ڈاکٹر کو ان کی اصل ذمہ داری سونپی جائے، بلڈ بینک کے نظام کو فعال اور محفوظ بنایا جائے، جبکہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت سے بھی فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

