LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج دیکھنے میں آیا

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں درجنوں سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو یو ایس کیپٹل پولیس نے حراست میں لے لیا۔ یہ مظاہرہ کینن ہاؤس آفس بلڈنگ میں کیا گیا۔ مظاہرین میں کئی سابق فوجی وردیوں میں ملبوس تھے، جبکہ کچھ بظاہر معذور بھی تھے، جو اس احتجاج کو مزید علامتی بنا رہے تھے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ‘‘ اور ’’ہم ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک علامتی تقریب میں امریکی پرچم اتار کر جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ بعض افراد ایرانی شہریوں کی یاد میں سرخ ٹیولپ کے پھول اٹھائے ہوئے تھے’ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور ۲۸؍ فروری کو ڈونالڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کے درمیان شروع ہونے والی جنگ نے خطے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مائیک پریسنر، جو Center on Conscience and War کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، نے گرفتاری سے قبل کہا کہ یہ جنگ پہلے ہی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی بحران بن رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ۱۰۰؍ سے زائد فوجی پہلے ہی “ضمیر کی بنیاد پر جنگ سے انکار کرنے والے” کے طور پر درخواست دے چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے ‘ سابق فوجی ٹائلر رومیرو نے موجودہ فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور جنگی مشین کا حصہ بننا مستقبل میں مزید تکلیف کا باعث بنے گا۔ مظاہرے کا اہتمام مختلف تنظیموں کے اتحاد نے کیا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »