LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) آبنائے ہرمز بحران: امریکی طاقت کی حدود اور معاشی دباؤ بے نقاب

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) امریکہ اور ایران کے درمیان سات ہفتوں پر محیط کشیدگی اپنے اپنےبنیادی اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں کر سکی مگر اس نے ایک اہم حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہےکہ امریکی طاقت کی اصل کمزوری اس کی معیشت پر پڑنے والا دباؤ ہے۔

مسلسل فوجی دباؤ کے باوجود امریکہ نہ تو ایران کی قیادت کو گرا سکا اور نہ ہی اسے مکمل طور پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر سکا۔ اس کے برعکس، اس بحران نے واضح کر دیا کہ عالمی توانائی منڈیوں سے جڑے معاشی اثرات کس تیزی سے واشنگٹن کے فیصلوں کو محدود کر سکتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کا مرکز آبنائے ہرمز رہا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کے تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر دباؤ ڈالنے اور بعد ازاں اسے دوبارہ کھولنے کے اعلان نے عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا کی۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں، ترسیلی اخراجات میں اضافہ ہوا اور طویل المدتی سپلائی میں خلل کے خدشات نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔

اگرچہ امریکہ دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن وہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکہ میں ایندھن مہنگا کر دیا، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عوامی سطح پر بے چینی بڑھی۔ ماہرین کے مطابق یہی معاشی دباؤ امریکی پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے لگا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال ایک نازک توازن کا باعث بنی۔ ایک طرف عالمی سطح پر طاقت کا اظہار ضروری تھا، جبکہ دوسری طرف اندرونِ ملک بڑھتے معاشی مسائل کو نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طویل تصادم سے گریز کرتا نظر آیا۔

ایران کی جانب سے جمعہ کے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اعلان نے عالمی منڈیوں کو وقتی سکون فراہم کیا، تاہم اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ امریکہ مسلسل معاشی دباؤ برداشت کرنے کی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بحران عالمی سطح پر بھی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ یورپ اور ایشیا میں امریکہ کے اتحادی اس صورتحال کو اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ آیا واشنگٹن معاشی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہ سکتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکی پالیسیاں اندرونی معاشی حالات سے زیادہ متاثر ہونے لگیں تو اس سے اس کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، امریکہ کے حریف ممالک جیسے چین اور روس اس بحران سے اہم اسباق حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل سے جڑے حساس مقامات کو ہدف بنا کر امریکہ پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، بغیر براہِ راست جنگ کے۔

ایران کی حکمت عملی اس دوران خاصی محتاط رہی۔ اس نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی اہمیت کے حامل راستے کو متاثر کیا، مگر مکمل بندش سے گریز کیا تاکہ صورتحال قابو سے باہر نہ ہو۔ اس طرح ایران نے عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کی اپنی طاقت دکھائی جبکہ کشیدگی کو ایک حد میں بھی رکھا۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کے اثرات فوری نوعیت تک محدود نہیں بلکہ طویل المدتی ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید دور میں قومی سلامتی کا انحصار صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ معاشی استحکام پر بھی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد اگرچہ عالمی منڈیاں وقتی طور پر سنبھل گئی ہیں، مگر اس بحران کے اثرات آئندہ بھی عالمی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ موجودہ دور میں طاقت کا توازن صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی طے ہوتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »