LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے جہاں عالمی منظرنامے کو متاثر کیا ہے

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے جہاں عالمی منظرنامے کو متاثر کیا ہے وہیں اس کے اثرات اسلامی جمہوریہ پاکستان تک بھی واضح طور پر پہنچ رہے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور جنگی ماحول نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات روزمرہ زندگی میں مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

جنگ سے قبل برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 70 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی، جبکہ کشیدگی کے آغاز سے عین پہلے یہ تقریباً 79 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ تاہم جیسے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہوئی، تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اور بعض اوقات 120 سے 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ قیمتیں اب بھی 90 سے 95 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار ہیں۔

پاکستان چونکہ اپنی 90 فیصد سے زائد تیل کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھے اور صنعتی پیداوار مہنگی ہو گئی۔ اس کا اثر ہر شعبے پر پڑا، چاہے وہ اشیائے خوردونوش ہوں یا زرعی اجناس ہو، عام آدمی اس بوجھ تلے دب چکا ہے اور دن بدن مزید دب رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ تیل اور گیس سے وابستہ ہے جبکہ ایل این جی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام گھریلو گیس سلنڈر (۱۱ کلو) جو چند ماہ قبل یعنی جنگ سے پہلے تقریباً 3000 روپے میں دستیاب تھا، اب 5600 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی اور گیس دونوں کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی لاگت میں مزید اضافہ کیا، جس کا نتیجہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ صورتحال عارضی بھی نہیں دکھائی دیتی۔ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی حالت، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں اور مارکیٹ میں عدم استحکام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی جارحیت نے اس بحران کو جنم دیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب مذاکرات کا عمل جاری تھا۔ ایران نے اب تک اپنے دفاع میں ردعمل دیا ہے، ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل کو جواب میں نشانہ بنایا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کی بنیادی وجہ امریکہ و اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔

لہٰذا یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، جس نے عام آدمی کو شدید متاثر کیا ہے، اس کے پس منظر میں امریکہ و اسرائیل ہی وہ عالمی طاقتیں ہیں جنہوں نے اس خطے کو عدم استحکام کا شکار بنایا۔

اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کا کردار قابلِ ستائش رہا ہے۔ جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اگر یہ کاوشیں کامیاب ہوئیں تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہوگا بلکہ معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے ممالک باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »