اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) کھول آنکھ زمین دیکھ’ فلک دیکھ
Share
اسلام آبا (ڈیجیٹل پوسٹ)د تاریخ ہمیشہ ان قوتوں سے عبارت ہوتی ہے جو تصادم کے طوفان میں مکالمے کی شمع روشن کرتی ہیں جنگ کے دو متحارو فریقوں کو قائل کرکے مذاکرات کی میز پر بٹھانا کوئی معمولی کام نہیں اس کے لئے صرف سیاسی ارادرے کی نہیں بلکہ خلوص نیت اور کمال سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دے مشرق وسطی کے صحرائوں سے اٹھنے والی جنگ کی چنگاریاں جب یورپ اور ایشیا کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں تو دنیا امن کی تلاش میں تھی اس بحران کے دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جس دور اندیشی کا ثبوت دیا وہ آنے والے وقتوں میں سٹریٹجک سٹڈیز کا حصہ بنے گا فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پس پردہ رابطوں میں سے کچھ ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیںجب کبھی مورخ اس کی تفصیلات سے پردہ اٹھائے گا تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ پاکستان نے کس مہارت کے ساتھ ان شعلوں پر پانی ڈالا جو عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے تھے پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ محض جغرافیائی طور پر ہی اہم نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک ایسا ناگزیر ستون ہے جس کے بغیر خطے اور دنیا میں استحکام کا خواب ادھورا ہے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی دور اندیشی اور کمال سفارت کاری کی بدولت اسلام آج آج ایک ایسے ناگزیر سفارتی کوریڈور میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سے گزرے بغیر عالمی امن کا سفر ممکن دکھائی نہیں دیتا امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لانا پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کی معراج ہے مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھ کر طویل مذاکرات کئے-مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے فریقین کے درمیان پیشرفت میں اپنی سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے پاکستانی حکام کی موجودگی میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ڈھائی گھنٹے طویل رہا وائٹ ہاوس کے سینئر اہلکار کے مطابق امریکی وفد میں قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے مشیر مائیکل وینس بھی شامل ہوئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی سے معاونت کرنے والے دیگر ماہرین کے ساتھ مختلف معاملات پر امریکی ماہرین کی ٹیم بھی اسلام آباد میں موجود رہی ایرانی مذاکراتی وفد بھی 70 سے زائد ارکان پر مشتمل تھا جس میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی سمیت تکنیکی ماہرین موجود تھے سربراہان کی سطح پر بات چیت کا پہلا دور ختم ہونے پر مختصر وقفے کے بعد تکنیکی ماہرین کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہاجس میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے تکنیکی پہلووں کا جائزہ لیا گیا بعدازں معاملہ زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کے تبادلے تک پہنچا پھر تیسرا دور شروع ہوا جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے کہا یہ امریکا کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری کے مطابق جیسے جیسے سہ فریقی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے روانہ پاکستان پہنچ گئے
امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کا سلسلہ کم و بیش 21 گھنٹے جاری رہا تاہم فریقی کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا بعدازاں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے قبل ازیں ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات 14 گھنٹے بعد مکمل ہوگئے فریقین کے تکنیکی ماہرین اس وقت تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے ایک اور نکتہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی تھی کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو تین اہم معاملات پر اختلاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا ایران پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گاسفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کیلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا یہ ضروری ہے دونوں ملک جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں فریقین کا کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچنے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق انتہائی خوش آئند ہے عرب میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل کونسل کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کر سکتے ہیں یا ہو سکتا ہے اگلے دور کے لئے پھر واپس آئیں وقت جتنا بھی لگ جائے نتیجہ خیر کی صورت میں نکلنا چاہیے امید یہی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل فریقین کسی نہ کسی حتمی معاہدے پر پہنچ جائیں گے ایران امریکہ کشیدگی کا خاتمہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہے حالیہ چھ ہفتوں کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں پر جو اثرات مرتب کئے اس سے عالمی سطح پر اس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ جنگ انسانوں کے مستقبل کے لئے بے پایاں خطرہ ہے یہ احساس مغرب اور مشرق میں یکساں موجود ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک نے شروع دن اس جنگ سے دامن بچائے رکھا جبکہ امریکہ کے دیگر اتحادیوں میں سے کوئی بھی جنگ کے پھیلاؤ میں دلچسپی نہیں رکھتا بطور ثالث پاکستان دنیا کے امن کو یقینی بنانے کے لئے جو کچھ کرسکتا تھا وہ کر چکا ہے اور آئندہ بھی خطے میں پائیدار امن کیلئے فریقین کے درمیان پیشرفت میں اپنی سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے اب امریکہ اور ایران دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اپنی انائوں کے خول سے باہر نکل کر دنیا بھر کے امن کے لئے سوچیں یہی دونوں ممالک کے عوام بھی چاہتے ہیں امریکہ سپر پاور سہی مگر جنگیں اس کی معیشت پر بھی بھاری پڑتی ہیں مہنگائی میں اضافہ عوام کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اس جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی عوام کو دو سال کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا ہے اس صورت حال کے سیاسی اثرات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا الغرض اب کسی بھی لحاذ سے اس جنگ کا جواز نہیں بنتا لہذا اس بکھیڑے کو جتنا جلد ہوسکے سمیٹنے میں ہی دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی ہے امریکہ اور ایران دونوں کو اس جنگ کو ختم کرکے نئی شروعات کرنی چاہیے او ریہ ناممکنات میں سے نہیں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے اس کے لئے زمین ہموار کردی ہے اب یہ دونوں ملکوں قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے فریقین کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے جائیں یہ ممکن نہیں اطلاعات کے مطابق امریکہ کی 15 شرائط میں سے 11 جبکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 شرائط میں سے 7 پر اتفاق ہوچکا ہے باقی نکات پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں بشرطیکہ نیت صاف اور منزل امن کا حصول ہو پاکستان نے اپنا فرض ادا کردیا ہے اب فریقین پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کی اس بے لوث کوشش کو کسی طرح ایک مستقل امن میں تبدیل کرتے ہیں**

