LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم سے غریبوں کو تحفظ

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کفایت شعاری مہم جاری ہے، کفایت شعاری مہم کیلئے فنڈز مل کر اکٹھے کرنے ہیں۔ غریب کو تحفظ اور امیروں کوقربانی دینا ہوگی۔اس دوران عالمی توانائی بحران کے پیش نظر کفایت شعاری مہم کے سلسلے میں اعلیٰ سطح اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت شعاری مہم کیلئے139ارب روپے دیئے، سرکاری گاڑیوں کوگراؤنڈ کردیا گیاہے، ارکان اسمبلی اپنی 2 ماہ کی تنخواہیں نہیں لیں گے۔شہبازشریف نے کہا ہے کہ جنگ کے باعث ہمیں معاشی مشکلات کاسامنا ہے، معاشی استحکام کیلئےآپ سب نے بہت کاوشیں کیں، پاکستان بھی دیگرممالک کی طرح جنگ سے متاثر ہورہا ہے، آبنائے ہرمز میں کھڑے 2 جہاز فیلڈمارشل اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے پاکستان پہنچے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطےمیں جنگ دوسرے مہینے میں آچکی ہے، جنگ کےدوران ہونےوالی شہادتوں پربےحد افسوس ہے۔ پاکستان نے ایران امریکا جنگ ختم کرانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، نائب وزیراعظم اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، جنگ کے خاتمے کیلئے ایرانی حکام سے بات چیت کی ہے ۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں فیلڈ مارشل اور وزرائے اعلیٰ شریک تھے اجلاس میں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظرمیں توانائی کے ممکنہ بحران پر غور کیا گیا، شرکاء کو حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اور توانائی بچت سے متعلق مجوزہ اقدامات پربریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے پر زور دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکا مکمل بوجھ مخصوص صارفین پرمنتقل کرنے پربھی غور کیا گیا۔اس دوران عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم مصنوعات پر مزید ممکنہ سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ حکام وزارت خزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے کو بتایا ہے کہ پیٹرول پر موجودہ سبسڈی عارضی ہے، حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی یقین دہانی کرا دی۔ قرض معاہدے کے تحت پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں ردوبدل جاری رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق غریب طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وظیفے میں 5 ہزار روپے اضافہ کیا جائے گا، سہ ماہی وظیفہ 14500 سے بڑھ کر 19500 روپے ہو جائے گا۔ بی آئی ایس پی کے مستحقین پر اضافے کا اطلاق جنوری 2027 سے ہوگا۔ بی آئی ایس پی مستحقین کی تعداد ایک کروڑ دو لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ موٹر سائیکل، رکشہ والوں کو سبسڈی کی فراہمی کیلئے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔ کھاد، زرعی ادویات پر فی الحال ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ بجٹ میں ایف ای ڈی عائد کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مزید مالی گنجائش پر مشاورت جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس ایک ماہ میں متوقع ہے جس میں پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی۔ بیرونی سفارت کاری اور پاکستان کی ثالثی کوششوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔کفایت شعاری مہم کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوگیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت مارچ میں 13 فیصد تک بڑھ گئی۔ مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت 1.44 ملین ٹن ہوگئی،سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافہ ہوگیا۔ رواں مالی سال کے 9 ماہ میں او ایم سیز فروخت 12.40 ملین ٹن رہیں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی سیلز میں 5 فیصد سالانہ اضافہ رہا۔ پیٹرول کی فروخت 0.67 ملین ٹن، 16 فیصد سالانہ اضافہ رہا، ڈیزل کی فروخت 0.62 ملین ٹن رہی، 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، فرنس آئل کی فروخت میں 98 فیصد ماہانہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پی ایس او کی سیلز 0.63 ملین ٹن،اٹک پیٹرولیم کی 0.11 ملین ٹن رہی یہ یاد رکھیں حکومت نے آئی ایم ایف کو عالمی قیمتوں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرا دی ہے ۔ آئندہ ہفتے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سو روپے فی لیٹرسے زائد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم مصنوعات پر مزید ممکنہ سبسڈی پر تحفظات کا اظہار کیاہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے پیٹرول پر 95 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز مسترد کی تھی، وزیراعظم نے ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافہ سے بھی روک دیا تھا۔ حکومت نے قیمتیں برقرار رکھنے کیلئے تیل کمپنیوں کوترقیاتی بجٹ سے رقم دی تھی۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق ترقیاتی بجٹ سے نکالے گئے 100 ارب میں سے 56 ارب کی گزشتہ ہفتے سبسڈی دی جا چکی، اگر پی ایس ڈی پی کی رقم مزید استعمال کی گئی تو اضافہ کم ہو سکتا ہے، وفاقی حکومت صوبوں کی مشاورت سے قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ کرے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 106 سے 108 ڈالرفی بیرل تک تھیں، اس وقت بھی عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 106 سے 108 ڈالر کے درمیان ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ جاری ہے اور برطانوی کروڑ آئل 109.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیاہے ۔ امریکی کروڈ آئل کی قیمت 110 اعشاریہ 34 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ برطانوی برینٹ کروڈ آئل 109.37ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔اس کے علاوہ قطر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ دیاہے جس میں خطے میں ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق خط میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی تفصیلات بھی دی گئیں،خلیجی ممالک کے خلاف ایرانی اقدامات غیرقانونی ہیں،ایران تمام نقصانات کا معاوضہ ادا کرے،عالمی قوانین کے تحت ایران کے جواب دینے کا حق رکھتے ہیں ,اس کے علاوہ فرانس کے صدر میکرون کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ صورتحال پر بات کی۔ فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ جنگ ایران کے جوہری مسئلے کا حل نہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے اور اس کے لیے سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ میکرون کا کہنا تھا اگر سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک نہ ہوا تو صورتحال چند مہینوں یا چند سالوں میں دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ فرانسیسی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مجوزہ فوجی کارروائی کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائی میں غیر معمولی وقت لگے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ساحلی خطرات، بیلسٹک میزائلوں اور دیگر متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ان کے پاس خاطر خواہ وسائل موجود ہیں۔اس دوران اماراتی وزیر پیٹرولیم سلطان احمد جابر نے کہا ہےکہ عالمی برادری آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ آبنائے ہرمز کی بندش پر سلطان احمد جابر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی مداخلت ناقابلِ قبول معاشی دباؤ ہے، ہرمز بند ہونے سے عالمی معیشت شدید متاثر ہورہی ہے۔ عالمی برادری آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے ایران کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور ایران کے خلاف سلامتی کونسل کے تحت کارروائی کی جائے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مصر اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ ۔ دوطرفہ تعلقات ، علاقائی صورت حال اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ، دونوں ملکوں کی مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کی مکمل حمایت ۔ دو طرفہ قریبی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے گزشتہ رات ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔ ڈاکٹر بدرعبدالعاطی کا اسلام آباد میں چار ملکی اجلاس کے دوران شاندار مہمان نوازی پر اظہار تشکر ۔ مذاکرات کے فروغ اور تنازع کے حل کے لئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کو بھی سراہا ۔ جبکہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ۔ نائب وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف نے علاقائی امن واستحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستانی کردار کو سراہا ۔۔۔۔ مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کی مکمل حمایت کی ۔اس کے علاوہ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہےکہ پاکستان امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہے۔ بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم اورنائب وزیراعظم کے مختلف ملکوں کے ہم منصبوں سے رابطے ہوئے، پاکستان کی خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا جس دوران خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی خطرناک ہے، سفارت کاری امن کا واحد راستہ ہے جب کہ امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہیں۔ روس نے ایران امریکا تنازع کے حل میں مدد کرنے کا اعلان کر دیا۔روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن خطے کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں، روس ایران سے متعلق تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ صدر پیوٹن ان روابط کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہماری خدمات کسی بھی طرح درکار ہوئیں تو ہم یقیناً اپنی جانب سے بھرپور تعاون کے لیے تیار ہیں تاکہ جنگی صورتحال جلد از جلد پُرامن راستے پر آ سکے۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مصر کے وزیر خارجہ کی میزبانی کریں گے، ملاقات میں ایران جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایشیا اور یورپ کے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے کم آمدنی والے طبقات اقتصادی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیل، گیس اور خوراک کی بلند قیمتیں افراطِ زر بڑھا رہی ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف نے ممالک کو محتاط معاشی پالیسیاں اپنانے کی ہدایت کی ہے اس کے علاوہ فرانس کے صدر میکرون کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ صورتحال پر بات کی۔ فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ جنگ ایران کے جوہری مسئلے کا حل نہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے اور اس کے لیے سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ میکرون کا کہنا تھا اگر سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک نہ ہوا تو صورتحال چند مہینوں یا چند سالوں میں دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ فرانسیسی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مجوزہ فوجی کارروائی کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائی میں غیر معمولی وقت لگے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ساحلی خطرات، بیلسٹک میزائلوں اور دیگر متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ان کے پاس خاطر خواہ وسائل موجود ہیں۔اس دوران اماراتی وزیر پیٹرولیم سلطان احمد جابر نے کہا ہےکہ عالمی برادری آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ آبنائے ہرمز کی بندش پر سلطان احمد جابر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی مداخلت ناقابلِ قبول معاشی دباؤ ہے، ہرمز بند ہونے سے عالمی معیشت شدید متاثر ہورہی ہے۔ عالمی برادری آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے ایران کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور ایران کے خلاف سلامتی کونسل کے تحت کارروائی کی جائے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مصر اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ ۔ دوطرفہ تعلقات ، علاقائی صورت حال اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ، دونوں ملکوں کی مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کی مکمل حمایت ۔ دو طرفہ قریبی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے گزشتہ رات ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔ ڈاکٹر بدرعبدالعاطی کا اسلام آباد میں چار ملکی اجلاس کے دوران شاندار مہمان نوازی پر اظہار تشکر ۔ مذاکرات کے فروغ اور تنازع کے حل کے لئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کو بھی سراہا ۔ جبکہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ۔ نائب وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف نے علاقائی امن واستحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستانی کردار کو سراہا ۔۔۔۔ مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے پاک چین پانچ نکاتی اقدام کی مکمل حمایت کی ۔اس کے علاوہ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہےکہ پاکستان امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہے۔ بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم اورنائب وزیراعظم کے مختلف ملکوں کے ہم منصبوں سے رابطے ہوئے، پاکستان کی خطے میں قیام امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا جس دوران خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی خطرناک ہے، سفارت کاری امن کا واحد راستہ ہے جب کہ امریکی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے اور مسلسل سفارتی مشاورت میں مصروف ہیں۔ روس نے ایران امریکا تنازع کے حل میں مدد کرنے کا اعلان کر دیا۔روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن خطے کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں، روس ایران سے متعلق تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ صدر پیوٹن ان روابط کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر ہماری خدمات کسی بھی طرح درکار ہوئیں تو ہم یقیناً اپنی جانب سے بھرپور تعاون کے لیے تیار ہیں تاکہ جنگی صورتحال جلد از جلد پُرامن راستے پر آ سکے۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مصر کے وزیر خارجہ کی میزبانی کریں گے، ملاقات میں ایران جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی جائے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایشیا اور یورپ کے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے کم آمدنی والے طبقات اقتصادی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تیل، گیس اور خوراک کی بلند قیمتیں افراطِ زر بڑھا رہی ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف نے ممالک کو محتاط معاشی پالیسیاں اپنانے کی ہدایت کی ہے ۔امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ ایران تنازع کے بارے میں منگل کے روز رابطہ کیا، یہ بات ایک ایسے فرد نے رائٹرز کو بتائی جسے اس معاملے کی بریفنگ دی گئی تھی ۔ یہ وینس کے کردار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے جو اس تنازع کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر وینس نے نجی طور پر اشارہ کیا کہ ٹرمپ جنگ بندی کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ امریکا کے کچھ مخصوص مطالبات پورے کئے جائیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے ۔وینس نے ایک سخت پیغام بھی پہنچایا کہ ٹرمپ کا صبر ختم ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔پاکستان کے دو سکیورٹی ذرائع جو تنازع میں ثالثی کر رہے ہیں نے قبل ازیں رائٹرز کو بتایا تھاکہ اسلام آباد نے دونوں فریقوں کیلئے عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی لیکن ابھی تک کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ، وینس نے اب اس جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں زیادہ فعال کردار سنبھال لیا ہے ، جو اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے ۔ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین سمجھے جانے والے وینس نے اس تنازع پر احتیاط کا رویہ اپنایا ہوا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے ۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھاکہ نئی ایرانی حکومت کے صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں،انہوں نے امریکا سے کہا ہے کہ جنگ بند کر دی جائے ،ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔امریکی صدر نے لکھاکہ جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی، اس وقت تک ہم دھماکے کر کے ایران کو فنا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اوراسے واپس پتھر کے دور میں بھیج دیں گے ۔ ٹرمپ کی یہ پوسٹ بظاہر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیان کا رد عمل لگتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کیلئے ضروری ارادہ موجود ہے ، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کے لئے کسی کو درخواست نہیں دی۔مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکا ایران سے بہت جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص حملوں کے لئے واپس آ سکتا ہے ۔جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں کے دباؤ میں، صدر ٹرمپ نے قوم سے اگلے اقدامات پر بات کرنے کیلئے رات 9 بجے (پاکستان میں جمعرات کی صبح 6بجے )خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ سب ایسے موقع پر ہورہا ہے جب انکی گھٹتی ہوئی مقبولیت اور بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی کی وجہ سے ان پر اندرونِ ملک سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے رائٹرز کے ساتھ ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خطاب کا ایک حصہ نیٹو کیلئے ان کی مایوسی کا اظہار کرنا ہوگا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتحاد ایران میں امریکا کے مقاصد کی حمایت میں ناکام رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، یہ ایک معاہدہ کے تحت وجود میں آنیوالی تنظیم ہے جس کی 1949 میں امریکی سینیٹ نے توثیق کی تھی۔ٹرمپ نے کہاجب ہمیں ضرورت تھی، وہ دوست نہیں رہے ، ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا ، یہ یک طرفہ راستہ ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیٹو سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں، تو انہوں نے کہااوہ، بلا شبہ بالکل، اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ یہ نہ کرتے ؟ ۔ٹیلی گراف سے انٹرویو میں امریکی صدر نے نیٹو اتحاد کو “کاغذی شیر”قرار دیا اور کہا کہ دفاعی معاہدے سے امریکا کو نکالنا اب غور و فکر سے بالاتر ہو چکا ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا ایران جنگ کے ختم ہونے پر کب غور کرے گا، ٹرمپ نے کہامیں بالکل نہیں بتا سکتا، ہم بہت جلد نکل جائیں گے ۔ٹرمپ نے کہا ایران کے پاس اب جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اس کے قابل نہیں ہیں، پھر میں نکل جاؤں گا اور سب کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو ہم واپس آئیں گے اور مخصوص حملے کریں گے ۔ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔جہاں تک ایران کے پاس اب بھی موجود افزودہ یورینیم کا تعلق ہے ، ٹرمپ نے کہایہ زمین کے بہت نیچے ہے ، مجھے اس کی پروا نہیں،ہم ہمیشہ سیٹلائٹ کے ذریعے اس پر نظر رکھیں گے ۔ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اوراماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ٹیلفونک رابطے کئے ۔
انہوں نے محمد بن سلمان کو ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ شیخ محمد بن زاید سے گفتگو میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیشرفت اور موجودہ حالات پر گفتگو کی۔ دوسری طرف ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خط میں امریکی عوام کے نام پیغام میں کہا کہ ایران امریکی عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتا۔ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا دراصل طاقتور قوتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے تاکہ اسلحہ کی صنعت جاری رکھی جا سکے اور سٹریٹجک منڈیوں پر کنٹرول قائم رکھا جا سکے ۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ درحقیقت ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے اور ایسے اقدامات کے اثرات ایران کی سرحدوں سے آگے تک پھیل جاتے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ ایران انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے ، ایران نے جدید تاریخ میں کبھی بھی جارحیت یا تسلط پسندی کا انتخاب نہیں کیا، ایران نے کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، ہاں ایران نے مسلط کی جانے والی جنگوں کا بہادری سے جواب ضرور دیا ہے ۔ایرانی صدر نے خط میں سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکااس جارحیت میں اسرائیل کے نمائندے کے طورپرشامل ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کو خطرہ بنا کرپیش کرتاہے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف اقدامات سے توجہ ہٹا سکے ۔ایران نے مذاکرات کئے ، معاہدہ کیا اور اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، معاہدے سے نکلنے ، کشیدگی بڑھانے کے فیصلے امریکی حکومت کے تھے ، مذاکرات کے دوران ہی دو مرتبہ جارحیت کرنے کے فیصلے امریکی حکومت کے تھے اور ایسے فیصلے ایک بیرونی جارح کی خواہشات کی تکمیل کیلئے کئے گئے ۔ایرانی صدر نے خط میں لکھا کہ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ غلط معلومات کے نظام سے آگے نکلیں، اُن لوگوں سے بات کریں جو ایران جاچکے ہیں۔ر ائٹرزاوراِپسوس کے ایک سروے کے مطابق دو تہائی امریکی یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کو ایران جنگ سے اپنی مداخلت جلدی ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، چاہے اس کا مطلب یہ بھی ہو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں ہوئے ۔جمعہ سے اتوار کے دوران کئے گئے اس سروے میں تقریباً 66فیصدشرکاء نے یہ رائے ظاہر کی جبکہ 27فیصد نے کہا کہ امریکا کو ایران میں اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، چاہے اس کیلئے تنازع طویل عرصے تک جاری رہے ۔ 6فیصد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »