کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) ریٹائرڈ پروفیسر طاہر صغیر کی اختیارات کے ناجائز استعمال اور نااہلی کی ایک اور مثال یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ریٹائرڈ پروفیسر طاہر صغیر سے متعلق اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی ایک نئی مثال سامنے آئی ہےذرائع کے مطابق وہ 65 سال کی عمر میں این آئی سی وی ڈی سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور بعد ازاں سیاسی بنیادوں پر انہیں دوبارہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ ان کے پاس اس عہدے کے لیے درکار انتظامی تجربہ اور مہارت موجود نہیں رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک کنٹریکٹ ملازم، واسف شہزاد، کو اہم عہدے پر تعینات کیا ذرائع کے مطابق واسف شہزاد کو ابتدائی طور پر بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بغیر کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیابعد ازاں انہیں اضافی چارج دے کر گریڈ 19 کی مستقل پوسٹ چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) تعینات کر دیا گیا یہ تقرری قواعد و ضوابط کی واضح خلاف ورزی تھی یہ معاملہ عدالت میں چیلنج کیا گیا، جہاں ریٹائرڈ پروفیسر طاہر صغیر نے اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کے بجائے معافی نامہ جمع کروایا انہوں نے اپنا حکم واپس لے لیا اہم سوالات کیا یہی انصاف ہےکیا سرکاری اداروں میں اختیارات کا ناجائز استعمال اسی طرح جاری رہے گا کیا ایسے فیصلے اداروں کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچاتےیہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ حکومت اس سنگین معاملے پر کوئی کارروائی کرے گی کیا نااہل افراد کی تقرری سے حکومتی ساکھ متاثر نہیں ہو رہی مطالبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائےذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائےایسے غیر قانونی اقدامات کا سدباب کیا جائےسرکاری اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔


