کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز میں سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے معاملے پر مبینہ دوہرے معیار کی شکایات سامنے آئی ہیں
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز میں سرکاری گاڑیوں کی واپسی کے معاملے پر مبینہ دوہرے معیار کی شکایات سامنے آئی ہیں جس پر ادارے کے بعض حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریٹائرڈ پروفیسر طاہر صغیر نے اپنے ماتحت افسران سے سرکاری گاڑیاں یہ کہتے ہوئے واپس لے لیں کہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ ہدایات کے بعد کئی افسران نے سرکاری گاڑیاں جمع بھی کرا دیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے ایک ملازم مصطفیٰ حسن عرف پلمبر نے تین دن گزرنے کے باوجود مبینہ طور پر سرکاری گاڑی واپس جمع نہیں کرائی اس صورتحال پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مذکورہ ملازم کے خلاف تاحال کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ادارے کے بعض ملازمین کے مطابق اگر دیگر افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جا سکتی ہیں تو ایک مخصوص ملازم کو رعایت دیے جانے کا تاثر پیدا ہو رہا ہے جس سے انتظامی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ معاملے میں ممکنہ طور پر اندرونی مفاہمت موجود ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ عوامی وسائل سے متعلق ہے اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرانی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کوئی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

