LOADING

Type to search

Karachi National

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کورنگی ٹاؤن میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، فلاور فیسٹیول پر ساڑھے تین کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ

Share

کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی کورنگی ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین محمد نعیم شیخ کی جانب سے عیدگاہ گراؤنڈ میں منعقد کیے گئے “جشنِ بہاراں فلاور فیسٹیول شو” پر مبینہ طور پر ساڑھے تین کروڑ روپے سے زائد اخراجات کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق دس روزہ فیسٹیول کو شاندار بنانے کے لیے ملک کے معروف گلوکاروں اور فنکاروں کو مدعو کیا گیا، جنہیں لاکھوں روپے معاوضے ادا کیے گئے۔ ٹی ایم سی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صرف اصغر کھوسو کو 15 لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا۔ فیسٹیول کا افتتاح ایک صوبے کے گورنر سے کروایا گیا جبکہ روزانہ کی بنیاد پر سیاسی و سماجی شخصیات، وزراء اور مشیروں کی شرکت بھی یقینی بنائی گئی۔دوسری جانب شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف فیسٹیول پر خطیر رقم خرچ کی گئی، وہیں کورنگی ٹاؤن کی بیشتر سڑکیں اور گلیاں تاحال خستہ حالی کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں سیوریج کا نظام درہم برہم ہے، گٹر کے ڈھکن غائب ہیں اور سڑکوں کی مرمت نامکمل ہے۔ بعض ترقیاتی منصوبے یا تو التواء کا شکار ہیں یا ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث چند ہی ماہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔مزید برآں، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی کمپنیوں سے روڈ کٹنگ کی مد میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جانے کے باوجود سڑکوں کی مکمل بحالی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فیسٹیول اور دیگر اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں کیا بجٹ سے خرچ کی گئی رقم قانونی تقاضوں کے مطابق تھی؟ کیا ٹینڈرنگ کا عمل شفاف تھا؟ اور کیا آڈٹ رپورٹ عوام کے لیے دستیاب ہےتحقیقات کے مطالبات کے تناظر میں متعلقہ اداروں، بشمول وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اخراجات، ٹینڈرنگ اور ترقیاتی منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کر کے حقائق عوام کے سامنے لائیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام معاملات قانون کے مطابق ہیں تو شفافیت کے تقاضے پورے کیے جائیں، بصورتِ دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »